JAZA AUR SAZA

BY ALLAH

                                                                      

 

YOU MAY ON OR OFF SOUND
 

YOU MAY ON OR OFF SOUND

                          

پہلا باب            روز ِقیامت                   زمین کے سینے پر ایک سلوٹ بھی باقی نہیں رہی تھی۔ دریا اور پہاڑ، کھائی اور ٹیلے، سمندر اور جنگل، غرض دھرتی کا ہر نشیب مٹ چکا اور ہر فراز ختم ہوچکا تھا۔ دور تک بس ایک چٹیل میدان تھا اور اوپر آگ اگلتا آسمان…… مگر آج اس آسمان کا رنگ نیلا نہ تھا، لال انگارہ تھا۔ یہ لالی سورج کی دہکتی آگ کے بجائے جہنم کے اُن بھڑکتے شعلوں کا ایک اثر تھی جو کسی اژدہے کی مانند منہ کھولے وقفے وقفے سے آسمان کی طرف لپکتے اور سورج کو اپنی گرفت میں لینے کی کوشش کرتے۔ جہنمی شعلوں کی لپک کا یہ خوفناک منظر اور بھڑکتی آگ کے دہکنے کی آواز دلوں کو لرزا رہی تھی۔

         لرزتے ہوئے یہ دل مجرموں کے دل تھے۔ یہ غافلوں، متکبروں، ظالموں، قاتلوں اور سرکشوں کے دل تھے۔ یہ زمین کے فرعونوں اور جباروں کے دل تھے۔ یہ اپنے دور کے خداؤں اور زمانے کے ناخداؤں کے دل تھے۔ یہ دل اُن لوگوں کے تھے جو گزری ہوئی دنیا میں ایسے جیے جیسے انہیں مرنا نہ تھا۔ مگر جب مرے تو ایسے ہوگئے کہ گویا کبھی دھرتی پر بسے ہی نہ تھے۔ یہ خدا کی بادشاہی میں خدا کو نظرانداز کرکے جینے والوں کے دل تھے۔ یہ مخلوقِ خدا پر اپنی خدائی قائم کرنے والوں کے دل تھے۔ یہ انسانوں کے درد اور خدا کی یاد سے خالی دل تھے۔

         سو آج وہ دن شروع ہوگیا جب ان غافل دلوں کو جہنم کے بھڑکتے شعلوں اور ختم نہ ہونے والے عذابوں کی غذا بن جانا تھا…… وہ عذاب جو اپنی بھوک مٹانے کے لیے پتھروں اور اِن پتھر دلوں کے منتظر تھے۔ آج اِن عذابوں کا ’یوم العید‘ تھاکہ ان کی ازلی بھوک مٹنے والی تھی۔ ان عذابوں کے خوف سے خدا کے یہ مجرم کسی پناہ کی تلاش میں بھاگتے پھررہے تھے…… مگر اس میدانِ حشر میں کیسی پناہ اور کون سی عافیت۔ ہر جگہ آفت، مصیبت اور سختی تھی…… اور ان پتھر دل مجرموں کی ختم نہ ہونے والی بدبختی تھی۔

…………………………

         خبر نہیں اس حال میں کتنے برس…… کتنی صدیاں گزرچکی ہیں۔ یہ حشر کا میدان اور قیامت کا دن ہے۔ نئی زندگی شروع ہوچکی ہے…… کبھی ختم نہ ہونے کے لیے۔ میں بھی حشر کے اِس میدان میں گُم سم کھڑا خالی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ رہا ہوں۔ میرے سامنے ان گنت لوگ بھاگتے، دوڑتے، گرتے پڑتے چلے جارہے ہیں۔ فضا میں شعلوں کے بھڑکنے کی آواز کے ساتھ لوگوں کے چیخنے چلانے، رونے پیٹنے اور آہ و زاری کی آوازیں گونج رہی ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ رہے ہیں، گالیاں دے رہے ہیں، لڑ جھگڑرہے ہیں، الزام تراشی کررہے ہیں، آپس میں گتھم گتھا ہیں۔

         کوئی سر پکڑے بیٹھا ہے۔ کوئی منہ پر خاک ڈال رہا ہے۔ کوئی چہرہ چھپارہا ہے۔ کوئی شرمندگی اٹھارہا ہے۔ کوئی پتھروں سے سر ٹکرارہا ہے۔ کوئی سینہ کوبی کررہا ہے۔ کوئی خود کو کوس رہا ہے۔ کوئی اپنے ماں باپ، بیوی بچوں، دوستوں اور لیڈروں کو اپنی اس تباہی کا ذمہ دار ٹھہراکر ان پر برس رہا ہے۔ ان سب کا مسئلہ ایک ہی ہے۔ قیامت کا دن آگیا ہے اور ان کے پاس اس دن کی کوئی تیاری نہیں۔ اب یہ کسی دوسرے کو الزام دیں یا خود کو برا بھلا کہیں، ماتم کریں یا صبر کا دامن تھامیں، اب کچھ نہیں بدل سکتا۔ اب تو صرف انتظار ہے۔ کائنات کے مالک کے ظہور کا، جس کے بعد حساب کتاب شروع ہوگا اور عدل کے ساتھ ہر شخص کی قسمت کا فیصلہ ہوجائے گا۔

         یکایک ایک آدمی میرے بالکل قریب چلایا:

         ’’ہائے…… اِس سے توموت اچھی تھی۔ اِس سے تو قبر کا گڑھا اچھا تھا۔‘‘

         میں اردگرد کی دنیا سے بالکل کٹ چکا تھا کہ یہ چیخ نما آواز مجھے سوچ کی وادیوں سے حقیقت کے اس میدان میں لے آئی جہاں میں بہت دیر سے گم سم کھڑا تھا۔ لمحہ بھر میں میرے ذہن میں ابتدا سے انتہا تک سب کچھ تازہ ہوگیا۔ اپنی کہانی، دنیا کی کہانی، زندگی کی کہانی…… سب فلم کی ریل کی طرح میرے دماغ میں گھومنے لگی۔

…………………………

         اس بھیانک دن کے آغاز پر میں اپنے گھر میں تھا۔ یہ گھر ایک ظاہر بیں نظر کے لیے قبر کا تاریک گڑھا تھا، مگر دراصل یہ آخرت کی حقیقی دنیا کا پہلا دروازہ اور برزخ کی دنیا تھی۔ وہ دنیا جس میں میرے لیے ختم نہ ہونے والی راحت تھی۔ اُس روز مجھ سے میرا ہمدمِ دیرینہ اور میرا محبوب دوست صالح ملنے آیا ہوا تھا۔ صالح وہ فرشتہ تھا جو دنیا کی زندگی میں میرے دائیں ہاتھ پر رہا۔ اس کی قربت موت کے بعد کی زندگی میں میرے لیے ہمیشہ باعثِ طمانیت رہی تھی اور آج بھی ہمیشہ کی طرح ہماری پرلطف گفتگو جاری تھی۔ دوران گفتگو میں نے اس سے پوچھا:

         ’’یار یہ بتاؤ تمھاری ڈیوٹی میرے ساتھ کیوں لگائی گئی ہے؟‘‘

         ’’بات یہ ہے عبد اﷲ کہ میں اور میرا ساتھی دنیا میں تمھارے ساتھ ڈیوٹی کیا کرتے تھے۔ وہ تمھاری برائیاں اور میں نیکیاں لکھتا تھا۔ تم مجھے دو منٹ فارغ نہیں رہنے دیتے تھے۔ کبھی اﷲ کا ذکر، کبھی اس کی یاد میں آنسو، کبھی انسانوں کے لیے دعا، کبھی نماز، کبھی اﷲ کی راہ میں خرچ، کبھی خدمت خلق…… کچھ اور نہیں تو تمھارے چہرے پر ہمہ وقت دوسروں کے لیے مسکراہٹ رہتی تھی۔ اس لیے میں ہر وقت کچھ نہ کچھ لکھتا ہی رہتا تھا۔ تم نے مجھے تھکاکر مار ہی ڈالا تھا، لیکن ہم فرشتے تم انسانوں کی طرح تو ہوتے نہیں کہ برائی کا بدلہ برائی سے دیں۔ اس لیے تمھاری اس ’برائی‘ کے جواب میں بھی دیکھ لوکہ میں تمھارے ساتھ ہوں اور تمھارا خیال رکھتا ہوں۔‘‘، صالح نے انتہائی سنجیدگی سے میری بات کا جواب دیا۔

         میں نے اس کی بات کے جواب میں اسی سنجیدگی کے ساتھ کہا:

         ’’تم سے زیادہ ’برائی ‘میں نے الٹے ہاتھ والے کے ساتھ کی تھی۔ وہ میرا گناہ لکھتا، مگر میں اس کے بعد فوراً توبہ کرلیتا۔ پھر وہ بے چارہ اپنے سارے لکھے لکھائے کو بیٹھ کر مٹاتا اور مجھے برا بھلا کہتا کہ تم نے مٹوانا ہی تھا تو لکھوایا کیوں تھا۔ آخرکار اس نے تنگ آکر اﷲ تعالیٰ سے دعا کی کہ اس شخص سے میری جان چھڑائیں۔ اس لیے موت کے بعد سے اب تم ہی میرے ساتھ رہتے ہو۔‘‘

         یہ سن کر صالح نے ایک زوردار قہقہہ لگایا۔ پھر وہ بولا:

         ’’فکر نہ کرو حساب کتاب کے وقت وہ پھر آجائے گا۔ قانون کے تحت ہم دونوں مل کر ہی تمھیں اﷲ تعالیٰ کے سامنے پیش کریں گے۔‘‘

         یہ بات کہتے کہتے اس کے چہرے پر گہری سنجیدگی کے آثار نمودار ہوگئے۔ وہ بولتے بولتے چپ ہوا اور سر جھکاکر ایک گہری خاموشی میں ڈوب گیا۔ میں نے اس کا یہ انداز آج تک نہ دیکھا تھا۔ چند لمحوں بعد اس نے سر اٹھایا تو اس کے چہرے سے ہمیشہ رہنے والی شگفتگی اور مسکراہٹ رخصت ہوچکی تھی اور اس کی جگہ خوف و حزن کے سایوں نے لے لی تھی۔ مجھے دیکھ کر وہ مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولا:

         ’’عبد اﷲ! اسرافیل کو حکم مل چکا ہے۔ خدا کا وعدہ پورا ہونے کا وقت آگیا ہے۔ اہلِ زمین کی مہلت ختم ہوگئی ہے۔ تم کچھ عرصہ مزید برزخ کے اس پردے میں خدا کی رحمتوں کے سائے میں رہوگے، مگر میں اب رخصت ہورہا ہوں۔ اب میں تم سے اس وقت ملوں گا جب زندگی شروع ہوگی۔ تمہاری آنکھ کھلے گی تو قیامت کا دن شروع ہوچکا ہوگا۔ میں اس روز تم سے دوبارہ ملوں گا۔‘‘

…………………………

         زندگی کے ہنگامے جاری تھے۔ بازاروں میں وہی چہل پہل اور گہماگہمی تھی۔ نیویارک، لاس اینجلس، لندن، پیرس، شنگھائی، دہلی، ماسکو، کراچی، لاہور ہر جگہ رونق میلے لگے ہوئے تھے۔ رات کو دن کردینے والی سیلابی روشنیوں میں20,20کرکٹ میچ اور فٹبال ورلڈ کپ کے مقابلے، ان کو دیکھتے اور تالیاں بجاتے تماشائی۔ پب (pub) اور بار میں شراب پیتے اور کلبوں میں اسٹرپ ٹیز (striptease) دیکھتے بدمست لوگ۔ ہالی وڈ اور بالی وڈ کی ایکشن اور تھرل فلموں میں اداکاروں کے جلوے اور ان جلووں کے شوقین تماش بین۔ فلموں، ڈراموں، اسٹیج، ٹی وی، بیلی(belly) ڈانس اور فیشن شوز میں تھرکتی، مٹکتی، اپنے جسم کی نمائش کرتی ماڈلز اور اداکارائیں اور اس نمائش سے اپنی تجوریاں بھرتے سرمایہ دار۔ نئے دور کے نئے فاتحین ِعالم…… ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالکان اور ان کو اپنا علم و ہنر بیچ کر اپنے مستبقل کے خواب بُننے والے باصلاحیت نوجوان۔ میڈیا کی چمک دمک، صحافت کے مرچ مصالحے اور بازارِ سیاست کے ماند نہ پڑنے والے مکر و فریب کے ہنگامے۔ بازاروں میں گھومتے اور خریداری کرتے مرد و خواتین اور اُن کو بلاتی رِجھاتی دکانیں اور دکاندار۔ امرا کے عشرت کدوں میں گونجتے ساز و آواز، غربا کے جھونپڑوں میں فقر و افلاس، شادیوں کی تقریبات میں خوشی کے نغمے، جنازوں اور ہسپتالوں میں غم و الم کے سائے۔ خدا کے نام پر اپنے مفادات کا تحفظ کرتے اہل مذہب، غریبوں اور ان کے مسائل سے ہمیشہ کی طرح بے نیاز اہل ثروت۔ کرپشن کی ناپاک کمائی سے اپنی جیبیں بھرتے سرکاری ملازم اور ملاوٹ و ذخیرہ اندوزی سے اپنی تجوریاں بھرتے ہوئے حرام خور تاجر۔ عوام کا استحصال کرتے اہل اقتدار اور دنیا پر اپنا غلبہ قائم رکھنے کے منصوبے بناتی سپر پاورز، سب اپنے اپنے مشغلوں اور کاموں میں مگن تھے۔

         اہلِ زمین جو ہمیشہ سے کرتے آئے تھے، وہی کررہے تھے۔ ظلم و فساد کی داستانیں، دھوکہ و فریب کی کہانیاں، حرص و ہوس کی دوڑ، غفلت اور سرکشی کے رویے، خدا اور آخرت فراموشی، سیاسی ہنگامے، معاشی جدوجہد، مذہبی جھگڑے، طبقاتی کشمکش…… ہر چیز ہمیشہ کی طرح جاری تھی۔ پیغمبر تو صدیوں پہلے آنے بند ہوگئے تھے۔ ایگریکلچرل (agricultural) ایج، انڈسٹریل (industrial) ایج سے بدلی اور انڈسٹریل ایج، انفارمیشن (information) ایج سے، مگر انسانی رویے نہیں بدلے۔ ان کے غم بھی نہیں بدلے۔ وہی کاروبار اور روزگار کی پریشانیاں، وہی عشق و محبت کی ناکامیاں، وہی موت اور بیماری کے مسائل۔ اس وقت بھی انسانوں کے ہاں ہر غم تھا، سوائے غم آخرت کے۔ ہر خوف تھا، سوائے خوفِ خدا کے۔ آسمان کی آنکھ یہ دیکھ رہی تھی کہ خدا کی زمین کو ظلم و فساد سے بھردینے والا انسان اب دھرتی کا ناقابلِ برداشت بوجھ بن گیا ہے۔ سو انسان کو بار بار ہلایا گیا۔ نبی آخر الزماں کی پیش گوئیاں پوری ہونے لگیں۔ ننگے پاؤں بکریاں چرانے والے عربوں نے دنیا کی بلند ترین عمارتیں بنالیں، مگر انسانیت ہوش میں نہیں آئی۔ نوح کے تیسرے بیٹے یافث کی اولاد یعنی یاجوج و ماجوج کی نسل دنیا کے پھاٹکوں کی مالک بن گئی۔ عظمت کی ہر بلندی سے یہی یاجوج و ماجوج ساکنانِ دنیا پر یلغار کرنے لگے۔ برطانیہ، روس، امریکہ اور چین…… ایک کے بعد ایک دنیا کے اقتدار کی مسند پر فائز ہوتے گئے، آسمانی صحیفوں کی تمام پیش گوئیاں پوری ہوگئیں، مگر انسانیت پھر بھی ہوش میں نہ آئی۔ سونامی آئے، سیلاب آئے، زلزلے آئے، مگر انسانیت غفلت سے نہ نکلی۔ خدا نے انفارمیشن ایج پیدا کردی۔ اس کے عجمی بندوں نے نبی عربی کے پیغام کو اٹھایا اور انسانیت پر حجت تمام کردی، مگر انسانیت پھر بھی نہ سنبھلی۔ قیامت سے قبل قیامت کی منظر کشی آخری درجے میں کرکے انسانیت کو جھنجھوڑ دیا گیا، مگر لوگوں کے رویے میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ سو جسے آخرکار آنا تھا، وہ آگئی۔ اسرافیل نے خدا کا حکم سنا اور صور ہاتھ میں اٹھالیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے قیامت آگئی۔

         سورج کی بساط لپیٹ دی گئی۔ تارے بے نور ہونے لگے۔ ہمالیہ جیسے پہاڑ ہوا میں روئی کے مانند اُڑنے لگے…… کہسار ریگزار بن گئے۔ سمندروں نے پہاڑ جتنی اونچی لہریں اٹھانا شروع کردیں…… میدان سمندر بن گئے۔ زمین نے اپنے آتش فشاں باہر اگل دئے…… وادیوں میں آگ کے دریا بہنے لگے۔ دھرتی نے اپنے سارے زلزلے باہر نکال پھینکے…… زمین الٹ پلٹ ہوگئی۔ شہر کھنڈروں میں بدلنے لگے۔ عمارتیں خاک ہونے لگیں۔ آبادیاں قبرستانوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔

         کمزور انسان کی بھلا حیثیت ہی کیا تھی۔ وہ جو کچھ دیر قبل نئے گھر کی تعمیر کے منصوبے بنارہے تھے، نئی دکان اور نئے کاروبار کی منصوبہ بندی کررہے تھے، شادی اور نکاح کی امیدیں باندھ رہے تھے، نئی کار اور نئے کپڑوں کی خریداری کررہے تھے، اولاد کے مستقبل کی پلاننگ میں مصروف تھے…… اپنے تمام ارادے اور سارے عزائم بھول گئے۔ مائیں دودھ پیتے بچے چھوڑ کر بھاگیں۔ حاملہ عورتوں کے حمل گرگئے۔ طاقتور کمزوروں کو کچلتے اور نوجوان بوڑھوں کو چھوڑتے بھاگنے لگے۔ سونا چاندی سر راہ پڑے ہیں، نوٹ ہوا میں اُڑ رہے ہیں، قیمتی سامان بکھرا ہوا ہے، مگر کوئی لینے والا، سمیٹنے والا نہیں۔ گھر…… کاروبار…… رشتے دار…… ناطہ و اسباب…… سب غیر اہم ہوچکے ہیں۔ ہر نفس صرف اپنی فکر میں ہے۔ آج انسان سب کو بھول گیا ہے، صرف ایک خدا کو پکار رہا ہے، مگرکوئی جواب نہیں آتا۔ دہریے اور ملحد بھی نامِ خدا کی دہائی دے رہے ہیں، مگر کوئی جائے عافیت نظر نہیں آتی۔ بربادی کے سائے پیچھا نہیں چھوڑ رہے۔ موت ہر جگہ تعاقب کررہی ہے۔ مصیبت نے ہر طرف سے گھیر لیا ہے۔ آخر کار زندگی موت سے شکست کھاگئی۔ زندگی ختم ہوگئی…… مگر اس لیے کہ زندگی کو اب شروع ہونا تھا۔

…………………………

         ہوا کی تیز سرسراہٹ کی آواز میرے کانوں میں آنے لگی۔ بارش کی کچھ بوندیں میرے چہرے پر گریں۔ مجھے ہوش آنے لگا۔ میں بہت دیر تک اُٹھنے کی کوشش کرتا رہا، مگر میرے حواس مکمل طور پر بیدار نہ ہوسکے۔ کافی دیر میں اسی حال میں رہا۔ اچانک میرے کانوں میں ایک مانوس آواز آئی:

         ’’عبد اﷲ! اٹھو جلدی کرو۔‘‘، یہ میرے ہمدمِ دیرینہ، میرے یارِ غار صالح کی آواز تھی۔ اس کی آواز نے مجھ پر جادو کردیا اور میں ایک دم سے اٹھ کھڑا ہوا۔

         ’’میں کہاں ہوں؟‘‘، یہ میرا پہلا اور بے ساختہ سوال تھا۔

         ’’تم بھول گئے، میں نے تم سے کیا کہا تھا۔ قیامت کا دن شروع ہوگیا ہے۔ اسرافیل دوسرا صور پھونک رہے ہیں۔ اس وقت اس کی صدا بہت ہلکی ہے۔ ابھی اس کی آواز سے صرف وہ لوگ اٹھ رہے ہیں جو پچھلی زندگی میں خدا کے فرمانبرداروں میں سے تھے۔‘‘، اس نے میرا کندھا تھپکتے ہوئے کہا۔

         ’’اور باقی لوگ؟‘‘، میں نے اس کی بات کاٹ کر کہا۔

         ’’تھوڑی ہی دیر میں اسرافیل کی آواز بلند ہوتی چلی جائے گی اور اس میں سختی آجائے گی۔ پھر یہ آواز ایک دھماکے میں بدل جائے گی۔ اس وقت باقی سب لوگ بھی اُٹھ جائیں گے، مگر وہ اُٹھنا بہت مصیبت اور تکلیف کا اُٹھنا ہوگا۔ ہمیں اس سے پہلے ہی یہاں سے چلے جانا ہے۔‘‘، اس نے تیزی سے جواب دیا۔

         ’’مگر کہاں؟‘‘، یہ سوال میری آنکھوں سے جھلکا ہی تھا کہ صالح نے اسے پڑھ لیا۔

         ’’تم خوش نصیب ہو عبداﷲ! ہم عرش کی طرف جارہے ہیں۔‘‘، وہ تیزی سے قدم اٹھاتا ہوا بولا۔پھر مزید تفصیل بتاتے ہوئے اس نے کہا:

         ’’اس وقت صرف انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین ہی اپنی قبروں سے باہر نکلے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی کامیابی کا فیصلہ دنیا ہی میں ہوگیا تھا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خد اکو بِن دیکھے مان لیا تھا، اُسے چھوئے بغیر پالیا تھا اور اُس کی صدا اُس وقت سن لی جب کان اُس کی آواز سننے سے قاصر تھے۔ یہ لوگ اُس کے رسولوں پر ایمان لائے اور اُن کی نصرت اور اطاعت کا حق ادا کردیا۔ اِن کی وفاداری اپنی مذہبی شخصیات، اپنے لیڈروں، اپنے فرقے کے اکابرین اور اپنے باپ دادا کے عقائد اور تعصبات سے نہ تھی بلکہ صرف اور صرف خدا اور اُس کے رسولوں سے تھی۔ انہوں نے خداپرستی کے لیے ہر دکھ جھیلا، ہر طعنہ سنا اور ہر سختی برداشت کی۔ اعلیٰ اخلاق اور بلند کردار کو اپنی زندگی بنایا۔ خدا سے محبت اور مخلوق پر شفقت کے ساتھ زندگی گزاری۔ عبداﷲ! آج ان لوگوں کے بدلے کا وقت ہے۔ اور یہ ہے ان کے بدلے کا آغاز۔‘‘

         صالح کی باتیں سنتے ہوئے میرے چہرے سے حیرت اور اس کے چہرے سے خوشی ٹپک رہی تھی۔

         ’’مگر میں تو جنت میں تھا اور……‘‘، صالح نے ہنستے ہوئے میری بات کاٹ کر کہا:

         ’’شہزادے وہ برزخ کا زمانہ تھا۔ خواب کی زندگی تھی۔ اصل زندگی تو اب شروع ہوئی ہے۔ جنت تو اب ملے گی۔ ویسے وہ بھی حقیقت ہی تھی۔ دیکھ لو تمھاری اور میری دوستی وہیں پر ہی ہوئی تھی۔‘‘

         میں اپنا سر جھٹک کر اسے دیکھنے لگا۔ کچھ کچھ میری سمجھ میں آرہا تھا اور بہت کچھ سمجھنا ابھی باقی تھا۔ مگر اس لمحے میں نے اپنے آپ کو صالح کے حوالے کرنا زیادہ بہتر محسوس کیا۔

…………………………

         صالح سے میری دوستی اُس وقت ہوئی تھی جب میں نے موت کے بعد یا زیادہ درست الفاظ میں فانی دنیا کے دھوکے سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں قدم رکھا تھا۔ لوگ موت سے بہت ڈرتے ہیں، مگر میرے لیے موت ایک انتہائی خوشگوار تجربہ تھی۔ ملک الموت عزرائیل کا نام دنیا میں دہشت کی ایک علامت ہے، مگر میرے سامنے وہ ایک انتہائی خوبصورت شکل میں آئے تھے۔ انہوں نے بہت محبت اور شفقت سے میری شخصیت یعنی میری روح کو میرے جسم سے جدا کیا۔ میرا جسمانی وجود سابقہ دنیا میں رہ گیا اور میری اصل شخصیت کو انھوں نے اِس نئی دنیا میں جس کا نام عالم برزخ تھا، منتقل کردیا۔ برزخ کا مطلب پردہ ہوتا ہے۔ ملک الموت کے ظاہر ہوتے ہی میرے اور پچھلی دنیا کے درمیان ایک پردہ حائل ہوگیا۔ جس کی بنا پر اُس دنیا سے میرا رابطہ ختم ہوگیا تھا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ میری جدائی کے غم میں میرے اہل خانہ پر کیا گزر رہی تھی، لیکن مجھے یقین تھا کہ میری تربیت کی بنا پر وہ خدا کی رضا پر صابر و شاکر ہوں گے۔

         میں اپنی اصل شخصیت سمیت اب ایک نئی دنیا میں تھا۔ یہ برزخ کی دنیا تھی۔ اِس نئی دنیا میں ملک الموت عزرائیل نے مجھے جس شخص کے حوالے کیا، وہ یہی صالح تھا۔ اس کے ساتھ بہت سے خوش شکل، خوش لباس اور خوش گفتار فرشتے موجود تھے۔ اِن سب کے ہاتھوں میں گلدستے، زبان پر مبارکبادیاں اور سلامتی کی دعائیں تھیں۔ مبارک سلامت کے اس ماحول میں وہ سب مل کر مجھے یقین دلارہے تھے کہ آزمائش کے دن ختم اور جنت کی عظیم کامیابی کے دن شروع ہوگئے۔ اس وقت صالح نے مجھے یہ خوشخبری دی کہ برزخی زندگی کے آغاز پر میرے لیے پہلا انعام پروردگارِ ارض و سماوات کے حضور پیشی ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ یہ اعزاز ہر شخص کو نہیں ملتا۔ میرے لیے یہ خوشخبری جنت کی خوشخبری سے بھی زیادہ قیمتی تھی۔

         ان سب کی معیت میں میرا سفر شروع ہوا۔ یہ نئی دنیا تھی۔ جہاں فاصلے، مقامات، زمان (time) اور مکان (space) کے معنی اس طرح بدل گئے تھے کہ وہ الفاظ کے کسی جامے میں بیان نہیں ہوسکتے۔ میں مستی و سرشاری کے عالم میں یہ سفر طے کررہا تھا کہ ایک جگہ ہم روک دیے گئے۔ اعلان ہوا کہ زمین کے فرشتوں کی حد آگئی ہے۔ سب یہاں رک جائیں۔ صرف صالح کو میرے ساتھ آگے بڑھنے کی اجازت ملی۔ عالمِ سماوات کا سفر شروع ہوا۔ جلد ہی ہم ایک اور جگہ پہنچ کر رک گئے۔ یہاں جبریلِ امین خاص طور پر میرے استقبال کے لیے آئے تھے۔ مجھے دیکھ کر وہ کہنے لگے:

         ’’عبد اﷲ! تم مجھ سے پہلی دفعہ مل رہے ہو، مگر میں تم سے پہلے بھی کئی دفعہ مل چکا ہوں۔‘‘

         پھر ہولے سے میرا کندھا تھپتھپاتے ہوئے بولے:

         ’’آقا کے حکم پر کئی دفعہ میں نے تمھاری مدد کی تھی۔ مگر ظاہر ہے تم اس وقت یہ نہیں جانتے تھے۔‘‘

         آقا کے لفظ سے میرے چہرے پر ایک روشنی پھوٹی، جسے جبریل کے نورانی وجود نے الفاظ میں ڈھلنے سے قبل ہی پڑھ لیا اور کہا:

         ’’آؤ چلو! میں تمھیں تمھارے ان داتا سے ملاتا ہوں۔ نبیوں کے علاوہ یہ اعزاز بہت کم انسانوں کو حاصل ہوتا ہے کہ وہ اس طرح بارگارہ ِاحدیت میں پیش کیے جائیں۔ تم واقعی بہت خوش نصیب ہو۔‘‘

         ہم آگے بڑھے تو میرے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوا جس کا پوچھ لینا ہی مناسب خیال کرتے ہوئے میں نے جبریل علیہ السلام سے عرض کیا:

         ’’کیا ہم سدرۃ المنتہیٰ کی طرف جارہے ہیں؟‘‘

         ’’نہیں……‘‘، جبریل امین نے جواب دیا۔ پھر مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا:

         ’’تمھارے ذہن میں غالباً معراج والی بات ہے۔ وہ انبیا کا راستہ ہے۔ انبیا کی حضوری کے مقامات بہت اعلیٰ ہوتے ہیں۔ پھر انہیں مشاہدات بھی کرائے جاتے ہیں۔ تمھارا راستہ بالکل الگ ہے۔ تمھیں صرف بارگاہِ الوہیت میں سجدے کا اعزاز بخشنے کے لیے بلایا گیا ہے۔ اور غالباً تمھاری وجہ سے صالح کو بھی یہاں تک آنے کی اجازت ملی ہے۔‘‘

         اس لمحے میں نے صالح کو دیکھا جس کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔ جبریل امین نے گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا:

         ’’خدا کی ہستی لامحدود ہے۔ اس کے مقامات بھی لامحدود ہیں۔ تمھاری دنیا میں ان مقامات کا کوئی اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ جو کچھ تم دنیا میں جانتے تھے وہ بہت محدود اور کم تھا۔ آج مرنے کے بعد تمھاری آنکھیں کھلی ہیں۔ اب تم وہ دنیا دیکھنا شروع ہوگئے ہو جس کے کمالات کی کوئی حد نہیں۔‘‘

         میں جو کچھ دیکھ رہا تھا وہ واقعی جبریل امین کی سچائی کا ثبوت تھا۔ میں نے دل میں سوچا کہ اﷲ کا شکر ہے کہ میں کفر و نافرمانی کے حال میں نہیں مرا۔ وگرنہ آنکھیں تو اُس وقت بھی کھلتیں، مگر جو کچھ دیکھنے کو ملتا وہ بہت زیادہ برا اور بھیانک ہوتا۔

         جبریل امین کی معیت میں ہم مختلف مراحل طے کرتے ہوئے حاملین عرش کے قریب پہنچے۔ یہاں نور، رنگ اور روشنی کا ایک ایسا حسین اور لطیف امتزاج چھایا ہوا تھا جو بیان کی گرفت سے باہر تھا۔ حاملین عرش کے سر جھکے ہوئے تھے۔ چہرے پر خشیت کا اثر اور طمانیت کا نور پھیلا ہوا تھا۔ جبریل امین نے بتایا:

         ’’پروردگار کی بارگاہ کا ہر حکم انہی فرشتوں کی وساطت سے نیچے جاتا اور نیچے والوں کا ہر فعل انہی کے ذریعے سے عالم کے پروردگار کے حضور پیش کیا جاتا ہے۔‘‘

         میں قربِ الٰہی کے اس مقام کو رشک بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ انہوں نے بھی نظر اٹھاکر مجھے دیکھا اور لمحہ بھر کے لیے ان کے چہروں پر مسکراہٹ آئی۔ میرا حوصلہ بڑھا۔ میں نے قدم عرش کی سمت بڑھائے۔ میرے روئیں روئیں سے اُس ہستی کی حمد و ثنا بلند ہونے لگی جس سے ملنے کی خواہش میں ساری زندگی گزاردی تھی۔

         پھر چلتے چلتے مجھ پر نجانے کیوں لزرہ طاری ہونے لگا۔ خدا سے ملنے کی شدین ترین خواہش پر اس کی عظمت کا احساس غالب آگیا۔ اس لمحے مجھ پر اتنا شدید رعب طاری ہوا کہ میں گھبرا کر واپس پیچھے ہٹنے لگا۔ گرچہ عرش ابھی بہت دور تھا، مگر صاحب ِعرش کی عظمت کے احساس سے میری ہمت ٹوٹ گئی۔ مجھے لگا کہ اس لمحے میرا وجود کرچی کرچی ہوکر فضا میں بکھر جائے گا۔ شاید یہی ہوتا، مگر ایسے میں میرے کانوں میں جبریل امین کی آواز آئی:

         ’’یہیں سجدے میں گرجاؤ۔ اس مقام سے آگے صرف انبیاے کرام جاتے ہیں۔‘‘

         میں اور صالح دونوں سجدے میں چلے گئے۔ جسے بن دیکھے سجدہ کیا تھا، آج پہلی دفعہ اسے دیکھ کر سجدہ کیا تھا۔ دیکھا تو خیر کیا تھا۔ بس آثار دیکھ لیے تھے۔

         یہ سجدہ کتنا طویل اور کتنا لذید تھا، مجھے نہیں یاد۔ جس نے سورج کو روشنی کی ردا اور چاند کو نور کی قبا پہنائی، پھولوں کو مہک اور تتلیوں کو رنگ کا لباس پہنایا، تاروں کو چمک کا لہجہ اور کلیوں کو چٹک کی آواز عطا کی، آسمان کو رفعت کا تاج اور سمندروں کو وسعت کا تخت بخشا، زمین کو زرخیزی کی نعمت اور دریاؤں کو بہاؤ کا حسن عطا کیا اور جس نے انسان کو بیان کا وصف اور نزولِ قرآن کا شرف بخشا، اس کے قدموں میں گزارا ہوا ایک ایک لمحہ ہفت اقلیم کی بادشاہی سے بڑھ کر تھا۔ مگر اس لمحے کو تمام ہونا ہی تھا۔ حاملین عرش کی دلکش صدا بلند ہوئی:

         ’’ھو اﷲ لا الہ الا ھو۔‘‘

         یہ اعلان تھا کہ صاحب عرش کلام کررہا ہے۔ آواز آئی:

         ’’میں اﷲ ہوں۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘

         ہر سُر سے لذیذ تر اس صدا میں وہ سحر تھا کہ میرا وجود سراپا گوش ہوگیا۔ میرا پورا جسم اور اس کی ہر ہر قوت کانوں اور سماعت میں سمٹ آئی۔ میں مزید کچھ سننے کا منتظر تھا۔ مگر گفتگو میں ایک وقفہ آگیا تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ شاید اب مجھے کچھ کہنا چاہیے۔ جو پہلی بات میری زبان پر آئی وہ یہ تھی:

         ’’مالک! زندگی میں یہی ایک حقیقت تو جانی ہے۔‘‘

         میری یہ بات میرے اپنے کان بمشکل سن سکے تھے۔ مگر حاضر و غائب کے جاننے والے اور دلوں کے بھید پالینے والے تک وہ پہنچ گئی تھی۔ جواب ملا:

         ’’مگر یہ بات جاننے والا ہر شخص یہاں تک نہیں آتا…… جانتے ہو عبد اﷲ! تم یہاں تک کیسے آگئے؟‘‘

         اس دفعہ میرے شہنشاہ کے لہجے کے جاہ و جلال میں اپنائیت کا رنگ جھلک رہا تھا۔

         ’’اس لیے کہ تمھاری زندگی کا مقصد لوگوں کو میرے بارے میں بتانا تھا۔ میری ملاقات سے خبردار کرنا تھا۔ تم نے میری یاد کو…… میرے کام کو اپنی زندگی بنالیا۔ یہ اس کا بدلہ ہے۔‘‘

         آسمان و زمین کے مالک کی گفتگو اور آواز سنتے رہنا میری زندگی کی شدید ترین خواہش بن چکی تھی، مگر ایک دفعہ پھر مالک الملک اپنی بات کہنے کے بعد ٹھہرگئے۔ مجھے محسوس ہوا کہ میرا رب مجھے بولنے کا موقع دے رہا ہے۔ میں نے عرض کیا:

         ’’کیا میں آپ کے پاس یہاں رُک سکتا ہوں؟‘‘

         ’’مجھ سے کوئی دور نہیں ہوتا۔ نہ میں کسی سے دور ہوتا ہوں۔ میرا ہر بندہ اور میری ہر بندی جو میری یاد میں جیے ، وہ میرے پاس رہتا ہے…… اور کچھ……‘‘

         آخری بات سے مجھے اندازہ ہوا کہ ملاقات کا وقت ختم ہورہا ہے۔ میں نے عرض کیا:

         ’’میرے لیے کیا حکم ہے؟‘‘

         ’’حکم کا وقت گزرگیا ہے۔ اب تو تمھیں حکمران بنانے کا وقت آرہا ہے۔ فی الحال تم واپس جاؤ۔ زندگی ابھی شروع نہیں ہوئی۔‘‘

         میں نے چلتے چلتے عرض کی:

         ’’آپ قیامت کے دن مجھے بھولیں گے تو نہیں۔ میں نے اس دن کی وحشت اور آپ کی ناراضی کا بہت ذکر سن رکھا ہے۔‘‘

         فضا میں ایک حسین تبسم بکھر گیا۔ کھنکتے ہوئے لہجے میں صدا آئی:

         ’’بھولنے کا عارضہ تم انسانوں کو ہوتا ہے۔ بادشاہوں کا بادشاہ…… تمھارا مالک، تمھارا رب کچھ نہیں بھولتا۔ رہا میرا غصہ، تو وہ میری رحمت پر کبھی غالب نہیں آتا۔ تم نے تو زندگی بھر مجھے امید اور خوف کے ساتھ یاد رکھا ہے۔ میں بھی تمھیں درگزر اور رحمت کے ساتھ یاد رکھوں گا۔ لیکن……‘‘، ایک لمحے کے شاہانہ توقف کے بعد ارشاد ہوا:

         ’’تمھاری تسلی کے لیے میں صالح کو تمھارے ساتھ کررہا ہوں۔ یہ ہر ضرورت کے موقع پر تمھارا خیال رکھے گا۔‘‘

         یہ تھی میری اور صالح کی پہلی ملاقات کی روداد اور اس کے میرے ساتھ رہنے کی اصل وجہ۔ عالمِ برزخ میں میری زندگی جسم کے بغیر تھی۔ اس میں میرے احساسات، جذبات، تجربات اور مشاہدات کی کیفیت ویسی ہی تھی جیسی خواب میں ہوتی ہے۔ یعنی غیر مادی مگر شعور سے بھرپور زندگی جس میں مجھے ان نعمتوں کا مکمل احساس رہتا جو جنت میں مجھے ملنے والی تھیں۔ صالح میری خواہش پر وقفے وقفے سے مجھ سے ملنے آتا رہا۔ ہر دفعہ وہ مجھے نت نئی چیزوں کے بارے میں بتاتا رہتا اور میرے ہر سوال کا جواب دیتا۔ آہستہ آہستہ ہماری دوستی بڑھتی گئی۔ پھر آخری ملاقات میں اِس نے مجھے بتایا تھا کہ ’زندگی‘ شروع ہونے جارہی ہے۔ اور اب میں اس کے ساتھ میدانِ حشر کو تیزی کے ساتھ عبور کرتا ہوا عرش کی طرف بڑھ رہا تھا۔

…………………………

         چلتے چلتے میں نے اردگرد دیکھا تو تاحد نظر ایک ہموار میدان نظر آیا۔ ماحول کچھ ایسا ہورہا تھا جیسا فجر کی نماز کے بعد اور سورج نکلنے سے قبل کا ہوتا ہے۔ یعنی ہلکا ہلکا اجالا ہر طرف پھیلا ہوا تھا۔ اس وقت اس میدان میں کم ہی لوگ نظر آرہے تھے۔ مگر جو تھے ان سب کی منزل ایک ہی تھی۔ میرے دل میں سوال پیدا ہوا کہ ان میں سے کوئی نبی یا رسول بھی ہے؟ میں نے صالح کو دیکھا۔ اسے معلوم تھا کہ میں کیا پوچھ رہا ہوں۔ کہنے لگا:

         ’’وہ سب کے سب پہلے ہی اٹھ چکے ہیں۔ ہم انہی کے پاس جارہے ہیں۔‘‘

         ’’کیا ان سے ملاقات کا موقع ملے گا؟‘‘، میں نے بچوں کی طرح اشتیاق سے پوچھا۔

         وہ چلتے چلتے رکا اور دھیرے سے بولا:

         ’’اب انہی کے ساتھ زندگی گزرے گی۔ عبداﷲ! تم ابھی تک نہیں سمجھ پائے کہ کیا ہورہا ہے۔ آزمائش ختم ہوچکی ہے۔ دھوکہ ختم ہوگیا ہے۔ اب زندگی شروع ہورہی ہے جس میں اچھے لوگ اچھے لوگوں کے ساتھ رہیں گے اور برے لوگ ہمیشہ برے لوگوں کے ساتھ رہیں گے۔‘‘

         اصل میں بات یہ تھی کہ میں ابھی تک شاک (Shock) سے نہیں نکل سکا تھا۔ دراصل ابھی تک نئی دنیا کا سارا تعارف عالمِ برزخ میں ہوا تھا۔ وہ ایک نوعیت کی روحانی دنیا تھی۔ مگر یہاں حشر میں تو سب کچھ مادی دنیا جیسا تھا۔ میرے ہاتھ پاؤں، احساسات، زمین آسمان ہر چیز وہی تھی، جس کا میں پچھلی دنیا میں عادی تھا۔ وہاں میرا گھر تھا، گھر والے تھے، میر امحلہ، میرا علاقہ، میری قوم…… یہ سب سوچتے سوچتے میرے ذہن میں ایک دھماکہ ہوا۔ میں نے رک کر صالح کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا:

         ’’میرے گھر والے کہاں ہیں؟ میرے رشتہ دار، احباب سب کہاں ہیں؟ ان کے ساتھ کیا ہوگا؟ وہ نظر کیوں نہیں آرہے؟‘‘

         صالح نے مجھ سے نظریں چراکر کہا:

         ’’جن سوالوں کا جواب مجھے نہیں معلوم وہ مجھ سے مت پوچھو۔ آج ہر شخص تنہا ہے۔ کوئی کسی کے کام نہیں آسکتا۔ اگر ان کے اعمال اچھے ہیں، تو یقین رکھو وہ تم سے آملیں گے۔ ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ اور اگر ایسا نہ ہوا تو……‘‘

         صالح جملہ نامکمل چھوڑ کر خاموش ہوگیا۔ اس کی بات سن کر میرا چہرہ بھی بجھ گیا۔ اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر میرا حوصلہ بڑھایا اور کہا:

         ’’اﷲ پر بھروسہ رکھو۔ تم خدا کے لشکر میں لڑنے والے ایک سپاہی تھے۔ اس لیے پہلے اُٹھ گئے ہو۔ باقی لوگ ابھی اٹھ رہے ہیں۔ انشاء اﷲ وہ لوگ بھی خیر کے ساتھ تم سے مل جائیں گے۔ ابھی تو تم آگے چلو۔‘‘

         اس کی تسلی سے مجھے کچھ حوصلہ ہوا اور میں سبک رفتاری سے اس کے ساتھ چلنے لگا۔

دوسرا باب        عرش کے سائے میں                        ہم ہوا کے نرم و تیز جھونکوں کی مانند آگے بڑھ رہے تھے۔ اس چلنے میں کوئی مشقت نہ تھی بلکہ لطف آرہا تھا۔ نجانے ہم نے کتنا فاصلہ طے کیا تھا کہ صالح کہنے لگا:

         ’’عرشِ الٰہی کے سائے میں مامون علاقہ شروع ہونے والا ہے۔ وہ دیکھو! آگے فرشتوں کا ایک ہجوم نظر آرہا ہے۔ ان کے پیچھے ایک بلند دروازہ ہے۔ یہی اندر داخلے کا دروازہ ہے۔‘‘

         میں نے صالح کے کہنے پر سامنے غور سے دیکھا تو واقعی فرشتے اور ان کے پیچھے ایک دروازہ نظر آیا۔ مگر یہ عجیب دروازہ تھا جو کسی دیوار کے بغیر قائم تھا۔ یا شاید دیوار غیر مرئی تھی کیونکہ دروازے کے ساتھ پیچھے کی سمت کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ گویا ایک نظر نہ آنے والا پردہ تھا جس نے دروازے کے پیچھے کے ہر منظر کو ڈھانپ رکھا تھا۔

         تاہم اس کی بات سنتے ہی میرے قدم تیز ہوگئے اور فاصلہ تیزی سے گھٹنے لگا۔ دروازہ ابھی دور ہی تھا، مگر فرشتے واضح طور پر نظر آنے لگے تھے۔ یہ انتہائی سخت گیر اور بلند قامت فرشتے تھے جن کے ہاتھ میں آگ کے کوڑے دیکھ کر میں گھبرا گیا۔ میں نے صالح کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر اسے روکتے ہوئے کہا:

         ’’تم غالباً غلط سمت جارہے ہو۔ یہ تو عذاب کے فرشتے لگتے ہیں۔‘‘

         ’’چلتے رہو۔‘‘، اس نے رُکے بغیر جواب دیا۔

         ناچار مجھے بھی اس کے پیچھے جانا پڑا۔ تاہم میں نے اتنا اہتمام کرلیا کہ اس سے دو قدم پیچھے رہ کر چلنے لگا تاکہ اگر پلٹ کر بھاگنے کی نوبت آئے تو میں اِس سے آگے ہی ہوں۔ صالح کو میرے احساسات کا اندازہ ہوچکا تھا۔ اس نے وضاحت کرنی ضروری سمجھی:

         ’’یہ بے شک عذاب ہی کے فرشتے ہیں……‘‘

         میں نے اس کی بات درمیان سے اچک کر کہا:

         ’’اور یہاں اس لیے کھڑے ہیں کہ آگے جانے سے قبل میری پٹائی کرکے میرے گناہ جھاڑیں۔‘‘

         وہ میری بات سن کر بے اختیار ہنسنے لگا اور بولا:

         ’’یاردیکھو اگر پٹائی ہونی ہے تو تمھارا بھاگنا مفید ثابت نہیں ہوگا۔ کوئی شخص ان فرشتوں کی رفتار اور طاقت کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ ویسے تمھاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ تمھارے لیے یہاں نہیں کھڑے ہیں۔ بلکہ یہ اس لیے کھڑے ہیں کہ خدا کا کوئی مجرم اگر اس سمت آنے کی کوشش کرے، تو اُسے اتنا ماریں کہ وہ دوبارہ اس طرف آنے کی ہمت نہ کرے۔‘‘

         ہمارے قریب پہنچنے سے قبل ہی انہوں نے دو حصوں میں بٹ کر ہمارے لیے ایک راستہ بنادیا۔ ازراہِ عنایت انہوں نے یہ اہتمام بھی کردیا کہ کوڑوں کو اپنے پیچھے کرلیا۔ میرا خیال تھا کہ وہ ہمیں دیکھ کر مسکرائیں گے اور اظہارِ مسرت کریں گے، مگر کوشش کے باوجود میں ان کے چہروں پر کوئی مسکراہٹ تلاش نہ کرسکا۔ صالح کہنے لگا:

         ’’ان کی موجودگی کا ایک مقصد تمھیں اﷲ کی اس نعمت کا احساس دلانا ہے کہ کس قسم کے فرشتوں سے تمھیں بچالیا گیا۔‘‘

         بے اختیار میری زبان سے کلمۂ شکر و حمد ادا ہوگیا۔

         ان کے بیچ سے گزر کر ہم دروازے کے قریب پہنچے تو وہ خود بخود کھل گیا۔ اس کے کھلتے ہی میری نظروں کے سامنے ایک پرفضا مقام آگیا۔ یہاں سے وہ علاقہ شروع ہورہا تھا جہاں عرشِ الٰہی کی رحمتیں سایہ فگن تھیں۔ روح تک اتر جانے والی ٹھنڈی ہوائیں اور مسحورکن خوشبو مجھے چھونے لگی تھیں۔ ہم دروازے سے اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ دور تک فرشتے قطار در قطارکھڑے تھے۔ ان کے چہرے بے حد دلکش تھے اور اس سے کہیں زیادہ خوبصورت مسکراہٹ ان کے چہروں پر موجود تھی۔ یہ ہاتھ باندھے مؤدب انداز میں کھڑے تھے۔ ہم جیسے ہی ان کے بیچ سے گزرے، دعا و سلام اور خوش آمدید کے الفاظ سے ہمارا خیر مقدم شروع ہوگیا۔ ان کے رویے اور الفاظ کی تاثیر میری روح کی گہرائیو ں میں اتر رہی تھی اور ان کے وجود سے اٹھنے والی خوشبوئیں میرے احساسات کو سرشار کررہی تھیں۔

         یہاں داخل ہوتے ہی مجھے یہ محسوس ہوا کہ میرے اندر کوئی غیر معمولی تبدیلی آئی ہے۔ لیکن اس وقت میری ساری توجہ فرشتوں اور یہاں کے دلکش ماحول کی طرف تھی اس لیے میں زیادہ توجہ نہیں دے سکا کہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے۔ میں اس کیفیت کو بس یہاں کے ماحول کا ایک اثر سمجھا۔

         چلتے چلتے مجھے کچھ خیال آیا تو میں نے صالح کے کان میں سرگوشی کی:

         ’’یار یہ تو ٹھیک ہے کہ یہ لوگ مجھے کوئی نجات یافتہ شخص مان کر میرا استقبال کررہے ہیں، لیکن یہاں میری ذاتی واقفیت تو کوئی نہیں ہے۔ کیا یہاں تمھارا کوئی واقف ہے؟‘‘

         میری بات سن کر صالح ہنستے ہوئے بولا:

         ’’عبد اﷲ! آج ہر شخص اپنی پیشانی سے پہچانا جائے گا کہ وہ کون ہے۔ تمھیں علم نہیں مگر تمھارا پورا پورا تعارف تمھاری پیشانی پر درج ہے۔ تم دیکھتے جاؤ آگے کیا ہوتا ہے۔‘‘

         قطار کے اختتام پر کھڑا ایک وجیہ فرشتہ، جو اپنے انداز سے ان سب کا سردار معلوم ہوتا تھا، میرے پاس آیا اور میرا نام لے کر اس نے مجھے سلام کیا۔ میں نے سلام کا جواب دیا۔ پھر وہ بہت نرمی اور محبت سے بولا:

         ’’ہمیشہ باقی رہنے والی کامیابی مبارک ہو!‘‘

         میں نے جواب میں شکریہ ادا کیا ہی تھا کہ وہ دوبارہ بولا:

         ’’کیا آپ آئینہ دیکھنا پسند کریں گے؟‘‘

         میری سمجھ میں نہیں آیا کہ اس نے یہ بات مذاق میں کہی تھی یا سنجیدگی سے۔ کیوں کہ اس وقت آئینہ دیکھنے کی کوئی معقول وجہ مجھے سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ تاہم اس نے میرے جواب کا انتظار نہیں کیا۔ ایک فرشتے کو اشارہ کیا اور اگلے ہی لمحے میرے سامنے ایک قدِ آدم آئینہ تھا۔ میں نے اس آئینے کو دیکھا اور مجھے یقین ہوگیا کہ اس نے میرے ساتھ مذاق کیا تھا۔ کیونکہ یہ آئینہ نہیں بلکہ ایک انتہائی خوبصورت اور زندگی سے بھرپور پینٹنگ تھی جس میں ایک خوبصورت نوجوان بلکہ شہزادہ شاہانہ لباس زیب تن کیے کھڑا تھا۔ یہ تصویر کسی بھی اعتبار سے تصویر نہیں لگ رہی تھی بلکہ یوں محسوس ہورہا تھا کہ جیسے آئینے کے سامنے کوئی انسان زندہ کھڑا ہوا ہے۔

         میں نے اس فرشتے کی طرف دیکھا اور مسکرا کر کہا:

         ’’آپ اچھا مذاق کرتے ہیں، مگر پینٹنگ اس سے زیادہ اچھی کرتے ہیں۔ مصور تو آپ ہی معلوم ہوتے ہیں، لیکن اس میں ماڈل کون ہے؟‘‘

         فرشتے نے انتہائی سنجیدگی سے میری بات کا جواب دیا:

         ’’پینٹر تو ’المصور‘ یعنی مالک ذوالجلال ہے۔ البتہ ماڈل آپ ہیں۔‘‘

         اس کے بعد اس نے صالح کو اشارہ کیا۔ وہ میرے قریب آیا اور میرا سر گھماکر دوبارہ پینٹنگ کی طرف کردیا۔ اس دفعہ پینٹنگ میں اس نوجوان کے ساتھ صالح بھی نظر آرہا تھا۔ میں حیرت سے کبھی صالح کو دیکھتا اور کبھی اس آئینے میں کھڑے دوسرے شخص کو جس کے بارے میں ان دونوں کی متفقہ رائے یہ تھی کہ یہ میں ہی تھا۔

         ’’مگر یہ میں تو نہیں!‘‘، میں نے بلند آواز سے کہا۔

         جواب میں صالح نے یہ مصرعہ پڑھ دیا:

اے جان جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو

         ’’لیکن یہ کیسے ممکن ہے؟ میں تو ایک بوڑھا شخص تھا اور جوانی میں بھی کم از کم ایسا نہیں تھا!‘‘

         اس دفعہ میری بات کا جواب فرشتے نے دیا:

         ’’آپ ناممکنات کی دنیا سے ممکنات کی دنیا میں آگئے ہیں۔ آپ انسانوں کی دنیا سے خدا کی دنیا میں آگئے ہیں۔ آج ہر شخص ویسا نہیں دکھائی دے گا جیسا وہ دنیا میں دوسرے انسانوں کو نظر آتا تھا۔ بلکہ آج ہر شخص ویسا نظر آئے گا جیسا وہ اپنے مالک کو نظر آتا تھا۔ اور مالک کی نظر میں انسانوں کی صورت گری ان کے گوشت پوست پر نہیں بلکہ ان کے ایمان و اخلاق اور اعمال کی بنیاد پر ہوتی تھی۔ آپ اسے دنیا میں جیسے لگتے تھے، ویسا ہی آج اس نے آپ کو بنادیا ہے۔ ویسے یہ عارضی انتظام ہے۔ آپ کی فیصلہ کن شخصیت اس وقت سامنے آئے گی، جب جنت میں آپ کے درجات کا فیصلہ حتمی طور پر ہوگا۔ سرِ دست تو آپ آگے جائیں۔ بہت سے دوسرے لوگ آپ کا انتظار کررہے ہیں۔‘‘

…………………………

         ہم آگے کی سمت بڑھ رہے تھے۔ مجھے اندازہ ہوچکا تھا کہ اندر داخل ہوتے ہی مجھے جس تبدیلی کا احساس ہوا تھا وہ کیا تھی۔ میری چال میں بہت اعتماد تھا۔ شاید یہ آئینے کا اثر تھا کہ اب مجھے یقین آنے لگا تھا کہ ربِّ کعبہ نے مجھے سرفراز کرکے میرے بخت کو ہمیشہ کے لیے جگادیا ہے۔ میری زندگی کے شب و روز اور اس میں پیش آنے والے مسائل اب میرے لیے خواب و خیال ہوچکے تھے۔ پچھلی دنیا کی محرومیاں، صبر اور محنتیں کبھی اس طرح بھی رنگ لائیں گی، مجھے اس کا قطعاً اندازہ نہیں تھا۔ قرآنِ کریم اور احادیث میں ا گلی دنیا کا بہت کچھ تعارف پڑھا تھا، مگر آنکھ جوکچھ دیکھ سکتی، کان سنتے اور حواس محسوس کرسکتے ہیں وہ الفاظ سے شعور تک بہت کم منتقل ہوتا ہے۔ آج جب یہ سب حقائق سامنے ہیں تو یقین نہیں آتا کہ میں…… مجھے یہ اندازہ تو زندگی ہی میں ہوچکا تھا کہ آخرت کی بازی میں جیت جاؤں گا۔ مگر اس جیت کا مطلب اتنا شاندار ہوگا، اس کا مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا۔

         ’’تمھیں ابھی پورا ندازہ نہیں ہوا ہے۔‘‘، صالح پتہ نہیں کس طرح میرے خیالات پڑھ رہا تھا۔ اس کے جملے نے مجھے چونکادیا۔ اس نے اپنی بات جاری رکھی:

         ’’اصل زندگی تو ابھی شروع ہی نہیں ہوئی۔ ابھی تو تم حشر کے عارضی مرحلے میں ہو۔ اصل زندگی تو درحقیقت جنت میں شروع ہوگی۔ اُس وقت خدا کا بدلہ دیکھنا۔ اُس وقت خدا کو داد دینا۔ سرِ دست تو آگے دیکھو، ہم کہاں کھڑے ہیں۔‘‘

         اس کی بات سے مجھے احساس ہوا کہ میں اپنے ماحول سے بالکل لاتعلق ہوکر چل رہا تھا۔ میں نے نظر اٹھاکر دیکھا۔ ہم اس وقت ایک وسیع و عریض اور سرسبز و شاداب میدان میں تھے۔ آسمان پر سورج چمک رہا تھا۔ اس میں روشنی تھی پر دھوپ نہ تھی۔ آسمان پر کہیں بادل نہ تھے، مگر زمین پر ہر جگہ سایہ تھا۔ زمین سبز تھی۔ شاید اسی کے اثر سے آسمان نیلگوں کے بجائے سبزی مائل ہورہا تھا۔ میدان کے وسط میں ایک فلک بوس پہاڑ تھا۔ محاورۃً نہیں، حقیقتاً فلک بوس۔ کیونکہ اس کی چوٹی جہاں سے ہم کھڑے دیکھ رہے تھے، آسمان میں پیوست لگ رہی تھی۔ فضا میں ہر طرف بھینی بھینی خوشبو مہک رہی تھی۔ یہ خوشبو ہر اعتبار سے بالکل نئی مگر انتہائی مسحورکن تھی۔ ہماری سماعت ہمیں ان نغموں کا احساس دلارہی تھی جو کانوں میں رس گھولنے والی موسیقی کے ساتھ چار سو بکھرے ہوئے تھے۔ مجھے یہ لگ رہا تھا کہ یہ خوشبو اور یہ موسیقی میری ناک اور کان کے راستے سے نہیں بلکہ براہِ راست میرے اعصاب تک پہنچ رہی ہے۔ اس کی تاثیر میں مہک و آہنگ اور سکون و سرور کے عناصر اس خوبصورت تناسب سے یکجا تھے کہ مجھے اپنا وجود تحلیل ہوتا محسوس ہورہا تھا۔

         میں ایک جگہ رک کر کھڑا ہوگیا اور آنکھیں بند کرکے اس ماحول میں گم ہوگیا۔ صالح نے میرا انہماک دیکھ کر کہا:

         ’’اس پہاڑ کا نام اعراف ہے۔ آؤ اس کے گرد چکر لگاتے ہیں۔ میں ساتھ ساتھ تمھیں یہاں کی ساری تفصیلات سے آگاہ کرتا رہوں گا۔‘‘

         میں جواب دیے بغیر سحر زدہ انداز میں صالح کے ساتھ ہولیا۔ ہم نے دائیں طرف سے اپنا سفر شرو ع کیا۔ ہم کچھ دور ہی چلے تھے کہ پہاڑ کے ایک حصے پر امت آدم لکھا ہوا نظر آیا۔ میں نے صالح سے پوچھا:

         ’’کیا یہاں آدم علیہ السلام ہیں؟‘‘

         ’’نہیں۔ سارے نبی پہاڑ کے اوپر بلند حصے پر موجود ہیں۔ تم دیکھوگے کہ ہر تھوڑی دیر بعد اسی طرح کسی نہ کسی نبی اور اس کی امت کا نام لکھا ہوا نظر آئے گا۔ ہر امت کے نجات یافتہ لوگ…… تمھاری طرح کے نجات یافتہ لوگ…… یہاں آکر جمع ہوں گے۔‘‘، اس نے جواب دیا۔

         ’’کیا مجھے امت محمدیہ کے کیمپ میں جانا ہوگا؟‘‘، اس پر میں نے اشتیاق سے پوچھا۔

         صالح نے نفی میں سر ہلایا اور بولا:

         ’’ان مقامات پر نجات یافتہ لوگ کھڑے ہوں گے اور روز حشر کے اختتام پر یہیں سے جنت میں جائیں گے۔ تمھیں پہاڑ کے اوپر جانا ہوگا۔ وہاں سارے نبی اور ان کی امتوں میں سے وہ لوگ جمع ہیں جنہوں نے نبیوں کے اتباع میں لوگوں پر حق کی شہادت دی۔ یہ لوگ یہیں سے انسانوں کے بارے میں خدا کا فیصلہ دیکھتے رہیں گے۔اسی جگہ سے انہیں انسانوں پر گواہی دینے کے لیے بلایا جائے گا۔ ہر نامراد شخص جہنم کی طرف اور ہر کامیاب شخص پہاڑ کے نیچے اپنے اپنے نبی کے کیمپ میں آتا جائے گا۔ پھر ہر امت گروہ در گروہ یہیں سے جنت میں جائے گی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے حشر میں ہونے والے ہر فیصلے کو براہِ راست دیکھا جاسکتا ہے۔ جنت و جہنم بھی یہاں سے نظر آتی ہیں۔‘‘

         ہم یہ گفتگو کررہے تھے اور ایک ایک کرکے تمام نبیوں کی امت کے مقامات سے گزرتے جارہے تھے۔ اس وقت تک ہر جگہ بہت کم لوگ تھے۔ میں نے صالح سے کہا:

         ’’شایدا بھی تمام لوگ نہیں آئے۔‘‘

         اس نے کہا:

         ’’نہیں یہ بات نہیں۔ دیگر نبیوں کی امت میں سے نجات یافتہ لوگ ہیں ہی بہت کم۔ زیادہ تر لوگ بنی اسرائیل میں سے ہیں اور سب سے زیادہ امتِ محمدیہ میں سے ہیں۔ یہ دونوں کیمپ ابھی تک نہیں آئے۔ لیکن سرِ دست وہاں بھی زیادہ لوگ نہیں ہیں۔ لیکن تھوڑی دیر میں ہوجائیں گے۔ آؤ اب اوپر چلتے ہیں۔ اِس پہاڑ کا چکر تو بہت طویل ہوجائے گا۔‘‘

…………………………

         مجھے بلند مقامات پر چڑھنے کا ہمیشہ سے شوق رہا ہے۔ لیکن شاید یہ میری زندگی کی سب سے عجیب بلندی تھی۔ یہ بظاہر بہت بلند اور آسمان تک اونچی تھی۔ مگر یہاں سے ہم زمین کو اس طرح دیکھ رہے تھے جیسے چند منزل ہی اوپر کھڑے ہوں۔ نیچے سے جو جگہ ایک چوٹی لگتی تھی وہ ایک ہموار سطح مرتفع تھی۔ تاہم اس ہموار زمین پر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بلند و بالا قلعہ نما تعمیرات بنی ہوئی تھیں۔ تاہم ان کے اردگرد کوئی دیوار تھی اور نہ ان میں دروازے ہی موجود تھے۔ اس لیے باہر سے بھی اندر کا نظارہ کیا جاسکتا تھا۔ یہاں ہر طرف شاہانہ انداز کے خدم و حشم تھے۔ عالیشان تخت پر تاج پہنے ہوئے انتہائی باوقار ہستیاں بیٹھی ہوئی تھیں۔ ان کے اردگرد اسی شان کے لوگ شاہانہ نشستوں پر براجمان تھے۔ میں نے صالح سے ان بلند تعمیرات کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا:

         ’’یہ مختلف انبیا کی عارضی قیام گاہیں ہیں۔ انھی کی بنا پر اس پہاڑ کو اعراف کہا جاتا ہے۔ تم تو جانتے ہو کہ اعراف کا مطلب بلندیوں کا مجموعہ ہے۔‘‘

         میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے بولا:

         ’’تخت پر بیٹھے ہوئے حضرات انبیاے کرام ہیں۔ اور ان کے اردگرد بیٹھے لوگ ان کی امت کے شہدا اور صدیقین ہیں۔ صدیقین وہ لوگ ہیں جنہوں نے نبیوں کی زندگی میں ان کا ساتھ دیا اور شہدا وہ لوگ ہیں جنہوں نے انبیا کے بعد ان کی دعوت کو آگے پہنچایا۔ یہ سب وہ لوگ تھے جو دنیا میں خدا کے لیے جیے اور اسی کے لیے مرے۔ اسی کے صلے میں یہ لوگ آج اس عزت و سرفرازی سے ہمکنار ہوئے ہیں جس کا مشاہدہ تم اس وقت کررہے ہو۔‘‘

         ’’کیا یہ ممکن ہے کہ انبیا علیھم السلام سے میری ملاقات ہوسکے؟‘‘، میں نے پوچھا۔

         ’’سب سے ملاقات کا وقت تو نہیں لیکن کچھ سے ضرور مل سکتے ہیں۔‘‘

         اس نے جواب دیا اور پھر ایک ایک کرکے خدا کے جلیل القدر پیغمبروں سے میری ملاقات کرانی شروع کی۔ وہ پیغمبر جو میرے لیے عظمتوں کا نشان تھے، میں ان سے مل رہا تھا۔ آدم، نوح، ہود، صالح، اسحاق، یعقوب، یوسف، شعیب، موسیٰ، ہارون، یونس، داؤد، سلیمان، زکریا، یحییٰ، عیسیٰ اور سب سے بڑھ کر ابو الانبیا سیدنا ابراہیم علیہم السلام۔ سب نے گلے لگاکر اور میری پیشانی پر بوسہ دے کر میرا استقبال کیا اورمجھے مبارکباد دی۔

         ان جلیل القدر ہستیوں سے کچھ گفتگو کے بعد ہم آگے روانہ ہوگئے، مگر مجھے دوران گفتگو یہ احساس ہوا تھا کہ سب لوگ ایک نوعیت کے تفکر میں مبتلا ہیں۔ راستے میں صالح سے میں نے اس کی وجہ پوچھی تو وہ بولا:

         ’’تمھیں نہیں معلوم اس وقت حشر کے میدان میں کیا قیامت برپا ہے۔ اس وقت ہر نبی پریشان ہے کہ انسانیت کا کیا ہوگا۔ اﷲ تعالیٰ کے عذاب کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ ان انبیا میں سے کوئی بھی نہیں چاہتا کہ اس کی امت عذاب الٰہی کا سامنا کرے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ لوگوں کو معاف کردیں۔ مگر سرِ دست اس کا کوئی امکان نہیں۔ ایسی کوئی دعا کی جاسکتی ہے اور نہ اس کی اجازت ہے۔ لوگ سیکڑوں برس سے خوار و خراب ہورہے ہیں اور سرِدست حساب کتاب شروع ہونے کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔‘‘

         ’’سیکڑوں برس؟ کیا مطلب! ہمیں تو اندر آئے ہوئے بمشکل ایک دو گھنٹے گزرے ہوں گے۔‘‘، میں نے چونک کر تعجب سے کہا۔

         ’’یہ تم سمجھ رہے ہو۔ آج کا دن کامیاب لوگوں کے لیے گھنٹوں کا ہے اور باہر موجود لوگوں کے لیے انتہائی سختی و مصیبت کا ایک بے حد طویل دن ہے۔ باہر صدیاں گزر گئی ہیں۔ مگر تم ابھی یہ بات نہیں سمجھو گے۔‘‘، اس نے وضاحت کرتے ہوئے جواب دیا۔

         میں اس کی بات کو ہضم نہیں کرسکا، مگر ظاہر ہے میں جس دنیا میں تھا وہاں سب کچھ ممکن تھا۔ اور نجانے اور کتنی تعجب انگیز باتیں میرے سامنے آنے والی تھیں۔

…………………………

         صحابہ کرام اور مہاجرین و انصار حلقہ بنائے ادب و احترام سے بیٹھے تھے۔ اُمتِ محمدیہ کے اولین و آخرین کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ شمعِ رسالت کے ان پروانوں کے بیچ رسالتمآب سر جھکائے تشریف فرما تھے۔ بظاہر ہر چیز بالکل ٹھیک تھی، مگر میں محسوس کرسکتا تھا کہ یہاں بھی اسی نوعیت کا تفکر پھیلا ہوا تھا جسے میں پیچھے دیکھ آیا تھا۔

         ’’رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اس وقت بارگاہ احدیت میں دعا کررہے ہیں۔ ہمیں بیٹھ کر انتظار کرنا چاہیے۔‘‘، صالح پچھلی نشستوں کی طرف بڑھتے ہوئے بولا۔

         ہم پچھلی نشستوں پر براجمان ہوگئے۔ یہاں سے یہ اندازہ کرنا مشکل تھا کہ آگے کیا ہورہا ہے۔ میں نے صالح سے دریافت کیا:

         ’’یہ حساب کتاب کب شروع ہوگا؟‘‘

         ’’مجھے کیا معلوم۔ کسی کو بھی معلوم نہیں۔‘‘، اس نے جواب دیا۔

         اس کی بات سن کر میں خاموش ہوگیا اور نشست کی پشت سے سر ٹکاکر آنکھیں بند کرکے بیٹھ گیا۔ نہ جانے کتنا وقت گزرا تھا کہ صالح کی آواز میرے کان میں آئی:

         ’’عبد اﷲ اٹھو! دیکھو تم سے کون ملنے آیا ہے۔‘‘

         اس کی آواز پر میں چونک کر کھڑا ہوگیا۔ سامنے دیکھا تو ایک انتہائی باوقار ہستی میرے سامنے کھڑی تھی۔ ان کے چہرے پر مسکراہٹ اور آنکھوں سے محبت کے آثار جھلک رہے تھے۔ اس سے قبل کہ صالح مزید کچھ کہتا، انھوں نے نرم لہجے میں اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا:

         ’’مرحبا عبد اﷲ! میرا نام ابوبکر ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے میں تمھیں خوش آمدید کہتا ہوں۔‘‘

         یہ کہتے ہوئے انھوں نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلادیے۔ میں پرجوش انداز میں ان سے بغلگیر ہوگیا۔ معانقے کے بعد وہ مجھے لوگوں سے ذرا دور لے کر ایک نشست پر جابیٹھے۔ میں نے بیٹھتے ہی ان سے دریافت کیا:

         ’’میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے کب مل سکوں گا؟ـ‘‘

         ’’رسول اﷲ اس وقت بارگاہ ایزدی میں شکر و دعا میں مصروف ہیں۔ تم ان سے بعد میں مل سکتے ہو۔ اس وقت بتانے کی اہم بات یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں جناب رسالتماب کی یہ دعا قبول ہوگئی ہے کہ لوگوں کا حساب کتاب شروع ہوجائے۔ اس قبولیت کی گھڑی میں تم نے بھی ایک دعا کی تھی۔ تم دوبارہ حشر کے میدان میں جاکر وہاں کا احوال دیکھنا چاہتے تھے؟ تمھیں اس کی اجازت مل گئی ہے۔ حساب کتاب کچھ دیر بعد شروع ہوگا۔ تم اُس وقت تک لوگوں کے احوال دیکھ سکتے ہو۔ یہ پیغام دے کر ہی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھے تمھارے پاس بھیجا ہے۔‘‘

         یہ سن کر میرے چہرے پر خوشی کے تأثرات ظاہر ہوئے۔ جنھیں دیکھ کر خلیفۂ رسول کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آگئی۔ ایک وقفے کے بعد وہ دوبارہ گویا ہوئے:

         ’’باہر بہت سخت ماحول ہے۔ صالح گرچہ تمھارے ساتھ ہوگا، مگر پھر بھی تم یہ پیتے جاؤ۔ یہ مشروب تمھیں باہر کے آلام سے محفوظ کردے گا۔‘‘

         یہ کہہ کر انھوں نے پاس رکھا سنہرے رنگ کا جگمگاتا ہوا ایک گلاس میری سمت بڑھادیا۔ میں نے دونوں ہاتھ آگے بڑھاکر یہ گلاس ان کے ہاتھوں سے لیا اور اپنے ہونٹوں سے لگالیا۔

         گلاس ہونٹوں سے لگاتے ہی ایک عجیب واقعہ ہوا۔ میں گرچہ بالکل پیاسا نہیں تھا اور نہ کسی تکلیف اور بے چینی ہی میں تھا، مگر جو تسکین مجھے ملی وہ شاید صدیوں کے کسی پیاسے کو بھی پانی کا پہلا گھونٹ پینے پر نہیں ملتی ہوگی۔ اس مشروب کا ایک گھونٹ حلق سے اتارتے ہی لذت، سیرابی، آسودگی، مٹھاس اور ٹھنڈک کے الفاظ اپنے ایسے مفاہیم کے ساتھ مجھ پر واضح ہوئے جس کا تجربہ مجھے تو کیا، کسی دوسرے انسان کو بھی کبھی نہیں ہوا ہوگا۔ اس مشروب کا ایک ایک قطرہ میری زبان سے حلق، حلق سے سینے اور سینے سے معدہ تک اترتا رہا اور میری رگ رگ کو سیرابی اور سرشاری کی کیفیت سے دوچار کرتا گیا۔ میرا دل تو چاہا کہ ایک ہی گھونٹ میں پورا گلاس پی جاؤں، مگر جس ہستی کے سامنے بیٹھا تھا، اس کا ادب اس میں مانع ہوا۔ میں نے آہستگی سے سوال کیا:

         ’’یہ کیا چیز ہے؟‘‘

         ’’یہ نئی زندگی اور نئی دنیا کا پہلا تعارف ہے۔ یہ جام کوثر ہے۔ اسے پینے کے بعد حشر میں گرمی اور پیاس تمھیں نہیں ستائے گی۔‘‘

         یہ الفاظ سنتے ہی مجھے سمجھ میں آگیا کہ مجھ پر اس مشروب کا یہ غیر معمولی اثر کیوں ہوا تھا؟ یہ جنت کی نہر کوثر کا پانی تھا اور بلاشبہ ان تمام خصائص کا حامل تھا جن کا ذکر میں ہمیشہ سنتا رہا تھا۔ اس لمحے مجھے یہ بھی اندازہ ہوا کہ جنت کی نعمتیں کیا ہوں گی۔ پچھلی دنیا میں کھانے پینے کی لذت دو چیزوں میں پوشیدہ تھی۔ ایک یہ کہ انسان کو شدید بھوک اور پیاس لگی ہو اور دوسرے اسے کھانے پینے کے لیے بہت لذیذ شے مل جائے۔ مگر جنت کی ہر شے اپنی ذات میں انتہائی لذیذ ہونے کے ساتھ ساتھ انسان کو بغیر بھوک اور پیاس کے وہ لذت اور تسکین بھی فراہم کرے گی، جو صرف ایک انتہائی بھوکے اور پیاسے شخص کو ہی مل سکتی ہے۔ اب مجھے معلوم ہوگیا کہ جنت میں نہ بھوک ہوگی اور نہ پیاس، مگر اس کے باوجود انسان جتنا چاہے گا شوق سے کھائے گا اور اس کی کوئی سیری ایسی نہیں ہوگی جو اسے گرانی اور بھاری پن میں مبتلا کردے۔

 

تیسرا باب       میدان حشر

         ہم دونوں ایک دفعہ پھر تیزی سے چل رہے تھے۔ عرش کی حدود سے نکلتے ہی ایک انتہائی گرم اور حبس زدہ ماحول سے واسطہ پڑا۔ لگتا تھا کہ سورج نو کروڑ میل سے سوا میل کے فاصلے پر آکر دہکنے لگا ہے۔ ہوا بالکل بند تھی۔ لوگ پسینے میں ڈوبے ہوئے تھے۔ پانی کا نام و نشان نہ تھا۔ مجھ پر جام کوثر کا اثر تھا وگرنہ اس ماحول میں تو ایک لمحہ گزارنا ناممکن تھا۔ مگر میں دیکھ رہا تھا کہ ان گنت لوگ اسی ماحول میں بدحال گھوم رہے تھے۔ چہروں پر وحشت، آنکھوں میں خوف، بال خاک آلود، جسم پسینے سے شرابور، وجود مٹی سے اٹا ہوا، پاؤں میں چھالے اور ان چھالوں سے رستا ہوا خون اور پانی۔ یاس و ہراس کا یہ منظر میں نے زندگی میں پہلی دفعہ دیکھا تھا۔ ہر طرف افراتفری چھائی ہوئی تھی۔ ہر کسی کو اپنی پڑی ہوئی تھی۔ میری نظریں کسی ایسے شخص کو تلاش کررہی تھیں جسے میں جانتا ہوں۔ پہلی شخصیت جو مجھے نظر آئی وہ میرے اپنے استاد فرحان احمد کی تھی۔ انہوں نے دور سے مجھے دیکھا اور تیزی کے ساتھ میری نگاہوں سے اوجھل ہونے کی کوشش کرنے لگے۔ میں نے صالح سے کہا:

         ’’انھیں روکو! یہ میرے استاد ہیں۔ میں ان سے بات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘

         مگر اس نے مجھے ان کی طرف بڑھنے سے روک دیا اورتاسف آمیز لہجے میں بولا:

         ’’دیکھو عبد اﷲ! اپنے استاد کی رسوائی میں اور اضافہ مت کرو۔ اس وقت یہاں کوئی شخص اگر خوار و خراب ہورہا ہے تو سمجھ لو اس کے ساتھ عدل ہوچکا ہے۔ وہ خدائی کسوٹی پر کھوٹا سکہ نکلا، اسی لیے اس حال میں ہے۔‘‘

         میں تڑپ کر بولا:

         ’’مگر ہم نے تو خداپرستی اور آخرت کی سوچ اور اخلاق کی ساری باتیں انہی سے سیکھی تھیں۔‘‘

         ’’سیکھی ہوں گی‘‘، صالح نے بے پروائی سے جواب دیا۔

         ’’مگر ان کا علم ان کی شخصیت نہیں بن سکا۔ دیکھو! خدا کے حضور کسی شخص کا فیصلہ اس کے علم کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ اس کے عمل، سیرت اور شخصیت کی بنیادی حیثیت ہوتی ہے۔ علم صرف اس لیے ہوتا ہے کہ شخصیت درست بنیادوں پر تعمیر ہوسکے۔ جب تعمیر ہی غلط ہو تو یہ علم نہیں سانپ ہے:

علم را برتن زنی مارے بود

علم را بر من زنی یارے بود

(علم ظاہر تک رہے تو سانپ ہے اور اندر اترجائے تو دوست بن جاتا ہے)

         یہی تمھارے استاد کے ساتھ ہوا ہے۔ وہ ایک اچھے مصنف تھے۔ باتیں بھی اچھی کرتے تھے۔ مگر ان کی سیرت و کردار ان کی باتوں کے مطابق نہ تھی۔ درحقیقت تمھارے استاد سانپ پال رہے تھے۔ آج علم کے ان سانپوں نے انہیں ڈس لیا ہے۔ آج یہاں جب تم لوگوں کو دیکھو گے تو انہیں ان کے ظاہر اور ان کی باتوں کے مطابق نہیں پاؤ گے، بلکہ ان کی شخصیت ٹھیک ویسے ہی نظر آئے گی جیسا کہ وہ اندر سے تھے۔ یاد رکھو! خدا لوگوں کو ان کے ظاہر اور ان کی باتوں پر نہیں پرکھتا۔ وہ عمل اور شخصیت کو دیکھتا ہے۔ خاص کر اہل علم کا احتساب آج کے دن بہت سخت ہوگا۔ جو باتیں دوسرے لوگوں کے لیے عذر بن جائیں گی، عالم کے لیے نہیں بن سکیں گی۔‘‘

         ’’مگر انہوں نے بڑی قربانیاں دی تھیں۔‘‘، میں نے ہار نہ مانتے ہوئے کہا۔

         ’’ہاں مگر ان کا بدلہ انہیں دنیا ہی میں مل گیا۔‘‘، صالح نے جواب دیا۔

         ’’علم کی غلطیاں معاف ہوسکتی ہیں، مگر شخصیت اور عمل کی کمزوری آج کے دن اسی حال میں پہنچائے گی جس میں تمھارے استاد مبتلا ہوئے ہیں۔ خیر ابھی تو یہ دن شروع ہوا ہے، دیکھو آخر تک کیا ہوتا ہے۔‘‘

         میں صدمے کی حالت میں دیر تک گم سم کھڑا رہا۔ میں ایک یتیم شخص تھا جس کا کوئی رشتہ ناطہ نہ تھا۔ میرے لیے جو کچھ تھے وہ میرے استاد تھے۔ انہوں نے میری سرپرستی کی، مجھے علم سکھایا، میری شادی کروائی، اور زندگی میں ایک مقصد دیا۔ جو شخص میرے لیے باپ سے زیادہ مقدم تھا، اسے اس حال میں دیکھ کر مجھے ایک شاک (Shock) لگا تھا۔ میں اس کیفیت میں اپنے ماحول سے قطعاً لا تعلق ہوگیا۔

         میرے سامنے ان گنت لوگ بھاگتے، دوڑتے، گرتے پڑتے چلے جارہے تھے۔ فضا میں شعلوں کے دہکنے کی آواز کے ساتھ لوگوں کے چیخنے چلانے، رونے پیٹنے اور آہ و زاری کرنے کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ لوگ ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ رہے تھے، گالیاں دے رہے تھے، لڑ جھگڑرہے تھے، الزام تراشی کررہے تھے، آپس میں گتھم گتھا تھے۔

         کوئی سر پکڑ کے بیٹھا تھا۔ کوئی منہ پر خاک ڈال رہا تھا۔ کوئی چہرہ چھپارہا تھا۔ کوئی شرمندگی اٹھارہا تھا۔ کوئی پتھروں سے سر ٹکرارہا تھا۔ کوئی سینہ کوبی کررہا تھا۔ کوئی خود کو کوس رہا تھا۔ کوئی اپنے ماں باپ، بیوی بچوں، دوستوں اور لیڈروں کو اپنی اس تباہی کا ذمہ دار ٹھہراکر ان پر برس رہا تھا۔ ان سب کا مسئلہ ایک ہی تھا۔ قیامت کا دن آگیا اور ان کے پاس اس دن کی کوئی تیاری نہیں تھی۔ اب یہ کسی دوسرے کو الزام دیں یا خود کو برا بھلا کہیں، ماتم کریں یا صبر کا دامن تھامیں، اب کچھ نہیں بدل سکتا۔ اب تو صرف انتظار تھا۔ کائنات کے مالک کے ظہور کا۔ جس کے بعد حساب کتاب شروع ہونا تھا اور پورے عدل کے ساتھ ہر شخص کی قسمت کا فیصلہ کردیا جانا تھا۔

         مگر میں اس سب سے بے خبر نجانے کتنی دیر تک اسی طرح گم سم کھڑا رہا۔ یکایک میرے بالکل قریب ایک آدمی چلایا:

         ’’ہائے…… اس سے تو موت اچھی تھی۔ اس سے تو قبر کا گڑھا اچھا تھا۔‘‘

         یہ چیخ نما آواز مجھے واپس اپنے ماحول میں لے آئی۔ لمحہ بھر میں میرے ذہن میں ابتد ا سے انتہا تک سب کچھ تازہ ہوگیا۔

…………………………

         میں نے گردن گھما کر صالح کی طرف دیکھا۔ اس کا چہر ہ ہر قسم کے تأثر سے عاری تھا اور وہ مستقل مجھے دیکھے جارہا تھا۔ میری توجہ اپنی طرف مبذول پاکر وہ بولا:

         ’’عبد اﷲ! تم میدان حشر کے احوال جاننے کے شوق میں اپنی جگہ چھوڑ کر یہاں آئے ہو تو ایسے بہت سے مناظر ابھی تمھیں اور دیکھنے ہوں گے۔ میں تمھیں مزید صدمات سے بچانے کے لیے ابھی سے یہ بات بتارہا ہوں کہ تمھاری بیوی، تین بیٹیوں اور دو بیٹوں میں سے تمھاری ایک بیٹی لیلیٰ اور ایک بیٹا جمشید اسی میدان میں خوار و پریشان موجود ہیں۔‘‘

         صالح کی یہ بات سن کر میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ مجھے چکر سا آیا اور میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ صالح میرے ساتھ ہی زمین پر خاموش بیٹھ گیا۔

         میری آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے۔ مگر یہاں کسی کو کسی کی کوئی پروا نہیں تھی۔ کوئی کیوں بیٹھا ہے؟ کیوں کھڑا ہے؟ کیوں لیٹا ہے؟ کوئی کیوں رو رہا ہے؟ کیوں چیخ رہا ہے؟ کیوں ماتم کررہا ہے؟ یہ کسی کا مسئلہ نہیں تھا۔ آج سب کو اپنی ہی پڑی تھی۔ ایسے میں کوئی رک کر مجھ سے میرا غم کیوں پوچھتا؟ لوگ ہمارے پاس سے بھی بے نیازی سے گزرتے چلے جارہے تھے۔ کچھ دیر بعد میں نے صالح سے پوچھا:

         ’’اب کیا ہوگا؟‘‘

         ’’ظاہر ہے حساب کتاب ہوگا۔ پھر اس کے بعد ہی کوئی حتمی بات سامنے آئے گی۔‘‘

         اس کا جواب دوٹوک تھا۔ پھر وہ اپنی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے بولا:

         ’’جن لوگوں نے آج کے دن کی حاضری کو اپنا مسئلہ بنالیا تھا اور وہ اسی کے لیے جیے، چاہے وہ ایمان و اخلاق کے تقاضے پورے کرنے والے صالحین ہوں یا خدا کے دین کی نصرت کو اپنا مسئلہ بنانے والے اہل ایمان، سب کے سب اس طرح اٹھائے گئے ہیں کہ ان کی نجات کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ ان لوگوں نے زندگی میں صرف نیکیاں کمائی تھیں۔ خالق و مخلوق کے حقوق پورے کیے تھے۔ چنانچہ ان کی موت ہی ان کا پروانہ نجات بن کر سامنے آئی تھی اور حشر کے دن انہیں شروع ہی سے عافیت نصیب ہوگئی۔‘‘

         ’’مگر گناہ تو سب کرتے ہیں۔ تو کیا ان لوگوں نے گناہ نہیں کیے تھے؟‘‘، میں نے پوچھا۔

         ’’ہاں گناہ انہوں نے بھی کیے تھے، مگر ان کے چھوٹے موٹے گناہ ان کی نیکیوں نے ختم کردیے اور اگر کبھی کسی بڑے گناہ سے دامن آلودہ ہوا تو انھوں نے فوراً توبہ کے آنسوؤں سے ان داغوں کو دھودیا تھا۔ ایسے تمام صاف ستھرے پاکیزہ لوگ اس وقت عرش کے سائے کے نیچے موجود ہیں۔ ان لوگوں کا رسمی حساب کتاب ہوگا جس کے بعد ان کی کامیابی کا اعلان کردیا جائے گا۔

         اس کے برعکس جن لوگوں کے نامہ اعمال میں کوئی ایسا بڑا جرم ہوا جو ایمان ہی کو غیر مؤثر کردے جیسے کفر، شرک، منافقت، قتل، زنا، زنابالجبر ،ارتداد، یتیموں کا مال کھانا، اﷲ کی حدود کو پامال کرنا اور اسی نوعیت کے دیگر جرائم وغیرہ، تو میزان عدل میں ایسے لوگوں کے گناہوں کا پلڑا بھاری ہوگا اور انہیں جہنم کی سزا سنادی جائے گی۔‘‘، صالح نے قانون کی تفصیلی وضاحت کی۔

         ’’لیکن انسان تو ان دو انتہاؤں کے درمیان بھی ہوتے ہیں۔ ان کا کیا ہوگا؟‘‘، میں نے سوال کیاتو صالح نے جواب دیا:

         ’’ہاں ان دو انتہاؤں کے درمیان وہ لوگ ہیں جن کے پاس ایمان اور کچھ نہ کچھ عمل صالح کا سرمایہ بھی ہے، مگر وہ دنیا میں گناہ بھی کرتے رہے اور توبہ بھی نہیں کی۔ ایسے لوگوں کو اپنے گناہوں کی پاداش میں حشر کے دن کی سختی جھیلنی ہوگی، اس کے بعد نجات کا کوئی امکان پیدا ہوگا۔ آج جو لوگ میدان حشر میں پھنسے ہوئے ہیں وہ یا تو مجرمین ہیں جنہیں آخر کار جہنم میں پھینکا جائے گا یا پھر وہ اہل ایمان ہیں جن کا دامن گناہوں سے داغدار ہے۔ سو جس کے گناہ جتنے زیادہ اور جتنے بڑے ہوں گے آج کے دن اسے اتنا ہی خوار و خراب ہونا ہوگا۔ کم گناہ والوں کو حساب کتاب کے آغاز پر ہی نجات مل جائے گی۔ مگر جیسا کہ میں نے بتایا کہ دنیا کی زندگی کے سیکڑوں برس تو گزرچکے ہیں۔ ان لوگوں کو ابتدا میں نجات بھی ملی تو یہ حشر کی سختی دنیا کی پچاس سالہ زندگی کے گناہوں کا نشہ ہرن کرنے کے لیے بہت ہے۔ جبکہ جن کے گناہ زیادہ ہیں ان کو تو نجانے ابھی کتنے ہزار یا لاکھ سال تک اس سخت ترین ماحول کی شدت، سختی اور ہول جھیلنا ہوگا۔‘‘

         صالح کی بات سن کر میں نے دل میں سوچا کہ دنیا میں گناہ کتنے معمولی لگا کرتے تھے، مگر آج یہ کس طرح مصیبت میں ڈھل گئے ہیں۔ کاش لوگ اپنے گناہوں کو چھوٹا نہ سمجھتے اور مستقل توبہ کو اپنا معمول بنالیتے۔ وہ غیبت، چغل خوری، اسراف، نمود و نمائش، الزام و بہتان وغیرہ کو معمولی چیز نہ سمجھتے۔ اﷲ اور بندوں کے حقوق کی پامالی کو چھوٹا نہ خیال کرتے، اﷲ کی نافرمانی سے بچتے اور رسولِ کریم کی پیروی کرتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا جہاں ایک گناہ کی تھوڑی سی لذت سیکڑوں برس کی خواری میں بدل چکی ہے۔

          پھر میں نے اس سے دریافت کیا:

         ’’کیا اس وقت کسی کو یہ معلوم ہے کہ اس کی نجات ہوگی یا نہیں اور ہوگی تو کس طرح ہوگی؟‘‘

         صالح نے جواب دیا:

         ’’یہی اصل مصیبت ہے۔ یہاں کسی کو یہ نہیں معلوم کہ اس کا مستقبل کیا ہے۔ نجات کی کوئی امید ہے یا نہیں؟ یہ کوئی نہیں جانتا سوائے اﷲ تعالیٰ کے۔ اسی لیے رسول اﷲ اور دیگر انبیا مسلسل یہ دعا کررہے تھے کہ حساب کتاب شروع ہوجائے۔ اس کے نتیجے میں اہل ایمان کو یہ فائدہ ہوگا کہ وہ مجرمین سے الگ ہوکر حساب کتاب کے بعد نجات پاجائیں گے۔ تم جانتے ہو آج کے دن انفرادی طور پر نہ کسی کے لیے زبان سے کوئی حرف نکالا جاسکتا ہے اور نہ اس کی کوئی گنجائش ہے۔ اور خوشی کی بات یہ ہے کہ رسول اﷲ کی یہ دعا قبول ہوچکی ہے۔ یہ بات خلیفہ رسول ابو بکر صدیق نے تمھیں خود بتائی تھی۔‘‘

         ’’مگر ابھی تک حساب کتاب تو شروع ہوتا نظر نہیں آتا۔‘‘، میں نے حیرت سے پوچھا تو صالح بولا:

         ’’دعا قبول ہوئی ہے، مگر اس پر عملدرآمد اﷲ تعالیٰ اپنی حکمت و مصلحت کے تحت ہی کریں گے۔ ہوسکتا ہے کہ ابھی تک پوری دنیا سے لوگ قبروں سے نکلنے کے بعد یہاں پہنچے ہی نہ ہوں۔‘‘

         ’’کیا مطلب لوگ اتنے برسوں میں بھی یہاں تک نہیں آئے؟‘‘

         ’’تمھارا کیا خیال ہے کہ آج لوگ ہوائی جہاز، ریلوں، بسوں، اور موٹروں میں بیٹھ کر یہاں تک آئیں گے؟ آج سب پیدل دوڑتے آرہے ہیں۔ اسرافیل کے صور نے لوگوں کو اسی سمت آنے کے لیے مجبور کردیا تھا۔ آج سمندر پاٹ دیے گئے ہیں اور پہاڑ ڈھادیے گئے ہیں۔ اس لیے لوگ سیدھا یہاں آرہے ہیں، مگر ظاہر ہے پیدل آتے ہوئے وقت تو لگے گا۔ البتہ صالحین کے ساتھ فرشتے تھے جو انہیں فوراً یہاں لے آئے۔ بہرحال جب تک حساب کتاب شروع نہیں ہوتا، ہم یہاں موجود لوگوں کے احوال دیکھ لیتے ہیں۔ ویسے شاید تم اسی مقصد کے لیے یہاں آئے تھے۔‘‘

         صالح نے یہ الفاظ کہے اور میرے جواب کا انتظار کیے بغیر میرا ہاتھ تھامے آگے بڑھنے لگا۔ اس وقت شدید گرمی سے چہرے تپ رہے تھے۔ ہر طرف گرد و غبار اڑ رہا تھا۔ لوگ گروہوں کی شکل میں اور تنہا ادھر سے ادھر پریشان گھوم رہے تھے۔ میری متلاشی نظریں اپنے کسی شناسا کو تلاش کررہی تھیں، مگر کہیں کوئی شناسا صورت نظر نہیں آرہی تھی۔ اچانک ایک طرف سے ایک لڑکی نمودار ہوئی اور قبل اس کے کہ میں اس کی شکل دیکھ پاتا وہ میرے قدموں پر گرکر بے بسی سے رونے لگی۔ میں نے قدرے پریشانی سے صالح کی سمت دیکھا۔

         اس نے سپاٹ لہجے میں لڑکی سے کہا:

         ’’کھڑی ہوجاؤ!‘‘

         اس کے لہجے میں نجانے کیا تھا کہ میری ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہونے لگی۔ لڑکی بھی سہم کر کھڑی ہوگئی۔ میں نے اس کا چہرہ دیکھا۔ یہ چہرہ خوف، اندیشے اور غم کے سایوں سے سیاہ پڑچکا تھا۔ چہرے اور بالوں پر مٹی پڑی ہوئی تھی۔ پیاس کے مارے ہونٹوں پر پپڑیاں جمی ہوئی تھیں اور وحشت زدہ آنکھوں میں خوف و دہشت کا رنگ چھایا ہوا تھا۔

         کرب کی ایک لہر میرے وجود کے اندر اترگئی۔ میں نے اس چہرے کو جب پہلی دفعہ دیکھا تھا تو بے ساختہ چشم بد دور کہا تھا۔ میدہ شہاب گورا رنگ،کھڑا کھڑا ناک نقشہ، کتابی چہرہ، گلابی ہونٹ،نیلی آنکھیں اور گہرے سیاہ بال۔ خدا نے اس چہرے کو قدرتی حسن سے اس طرح نوازا تھا کہ زیب و زینت کی اسے حاجت نہ تھی۔ مگر آج یہ چہرہ بالکل بدل چکا تھا۔ ماضی کا جمال روزِ حشر کے حزن و ملال کی تہہ میں کہیں دفن ہوچکا تھا۔ سراپا حسرت، سراپا وحشت، سراپا اذیت اور مجسم ندامت یہ وجود کسی اور کا نہیں میرے چہیتے بیٹے جمشید کی بیوی اور اپنی بڑی بہو ھما کا تھا جو حسرت و یاس کی ایک زندہ تصویر بن کر میرے سامنے کھڑی تھی۔

         ’’ابو جی مجھے بچالیجیے۔ میں بہت تکلیف میں ہوں۔ یہاں کا ماحول مجھے مار ڈالے گا۔ میں نے ساری زندگی کوئی تکلیف نہیں دیکھی، مگر لگتا ہے کہ اب میری زندگی میں کوئی آسانی نہیں آئے گی۔ اﷲ کے واسطے مجھ پر رحم کیجیے۔ آپ اﷲ کے بہت محبوب بندے ہیں۔ مجھے بچالیجیے……‘‘

         یہ کہتے ہوئے ھما ہچکیاں لے کر رونے لگی۔

         ’’جمشید کہاں ہے؟‘‘، میں نے ڈوبے ہوئے لہجے میں دریافت کیا۔

         ’’وہ یہیں تھے۔ وہ بھی آپ کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ مگر یہ اتنی بڑی جگہ ہے اور اتنے سارے لوگ ہیں کہ کسی کو ڈھونڈنا ناممکن ہے۔ ان کا حال بھی بہت برا ہے۔ وہ مجھ سے بہت ناراض تھے۔ انہوں نے ملتے ہی مجھے تھپڑ مار کر کہا تھا کہ تمھاری وجہ سے میں برباد ہوگیا۔ ابو میں بہت بری ہوں۔ میں خود بھی تباہ ہوگئی اور اپنے خاندان کو بھی برباد کردیا۔ پلیز مجھے معاف کردیں اور مجھے بچالیں۔ اﷲ کا عذاب بہت خوفناک ہے۔ میں اسے برداشت نہیں کرسکتی۔‘‘

         ھما فریاد کررہی تھی اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں بہہ رہی تھیں۔ میرے دل میں پدری محبت کا جذبہ جوش مارنے لگا۔ وہ بہرحال میری بہو تھی۔ مگر اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا، صالح اسی سپاٹ لہجے میں بولا:

         ’’یہ بات تمھیں دنیا میں سوچنی چاہیے تھی ھما بی بی۔ آج تمھاری عقل ٹھکانے آگئی ہے۔ مگر یاد ہے دنیا میں تم کیا تھیں؟ تمھیں شاید یاد نہ آئے…… میں یاد دلاتا ہوں۔‘‘

         یہ کہتے ہوئے صالح نے اشارہ کیا اور یکلخت ایک منظر سامنے نظر آنے لگا۔ یہ جمشید اور ھما کا کمرہ تھا۔ مجھے لگا کہ میرے اردگرد کا ماحول غائب ہوچکا ہے اور میں اسی کمرے میں ان دونوں کے ہمراہ موجود ہوں اور براہ راست سب کچھ دیکھ اور سن رہا ہوں۔

…………………………

         ’’جمشید اب میں اس ملک میں نہیں رہ سکتی۔ اب ہمیں کسی ویسٹرن کنٹری میں شفٹ ہوجانا چاہیے۔‘‘

ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی ہوئی ھما نے اپنے کٹے ہوئے بالوں کو برش کرتے ہوئے کہا۔    جمشید بیڈ پر لیٹا ٹی وی دیکھ رہا تھا۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔

         ’’تم نے سنا جمشید میں نے کیا کہا؟‘‘

         ’’یس میں نے سن لیا۔ لیکن میرا پورا خاندان یہاں ہے۔ میں انھیں چھوڑ کر کیسے جاؤں؟‘‘

         ’’بالکل ویسے ہی جیسے تم ان کا گھر چھوڑ کر میرے ساتھ الگ ہوچکے ہو۔‘‘

         ’’یہاں کی بات اور ہے۔ میں ہفتے میں ایک دفعہ جاکر ان سے مل تو لیتا ہوں۔ دوسرا یہ کہ فارن ٹرپ تو ہم ہر سال کر ہی لیتے ہیں۔ پھر ہمیں باہر شفٹ ہونے کی کیا ضرورت۔‘‘

         ’’نہیں اب بچے بڑے ہورہے ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ ان کی پرورش باہر ہی ہو۔‘‘

         ’’لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ میرے بچے میرے ماں باپ کی صحبت کا فائدہ اٹھائیں۔ میں تو اپنے ماں باپ کی نیکی کا کوئی حصہ نہیں پاسکا، لیکن کم از کم میری اولاد تو نیک ہو۔‘‘

         ’’انہی کی صحبت سے تو میں اپنی اولاد کو بچانا چاہتی ہوں۔ میرے ایک بچے کو بھی اپنے ددھیال کی ہوا لگ گئی تو اس کی زندگی خراب ہوجائے گی۔‘‘

         اس کے ساتھ ہی فون کی گھنٹی بجی۔ جمشید نے فون اٹھایا۔ دوسری طرف سے کچھ کہا گیا۔ جمشید نے اچھا کہہ کر ریسیور نیچے رکھ دیا اور ھما کو مخاطب کرکے کہا:

         ’’تمھارے پاپا ہمیں نیچے بلارہے ہیں۔‘‘، پھر ھما کی بات کا جواب دیتے ہوئے بولا:

         ’’تم آخر میرے ماں باپ کے بارے میں اتنی نیگیٹو کیوں ہو؟ انہوں نے میری خوشی کی خاطر تمھیں بہو کے طور پر قبول کیا۔ حالانکہ تمھارے انداز و اطوار انھیں بالکل پسند نہ تھے۔ تم مجھے لے کر الگ ہوگئیں تب بھی انہوں نے برا نہیں مانا……‘‘

         ’’بس بس رہنے دو۔‘‘، ھما تنک کر بولی۔

         ’’انھیں میرے انداز و اطوار ناپسند تھے۔ مگر تم میرے عشق میں دیوانے ہورہے تھے۔ اس لیے انھوں نے مجبوراً تمھیں مجھ سے شادی کی اجازت دی۔ تم ان سے الگ ہوکر یہاں زیادہ اچھی زندگی گزار رہے ہو۔ پاپا کے بزنس میں شریک ہو۔ کروڑوں میں کھیلتے ہو۔ جمشید مجھ سے شادی کرکے تم سراسر فائدے میں رہے ہو۔ تم نے کوئی نقصان نہیں اٹھایا۔‘‘

         ’’پتہ نہیں کیوں تمھاری باتیں سن کر کبھی کبھی ابو کی یاد آجاتی ہے کہ نفع نقصان کا فیصلہ آخرت کے دن ہوگا۔‘‘

         ’’یار یہ فضول مذہبی باتیں ختم کرو۔ مجھے ان سے چڑ آتی ہے۔ کوئی قیامت وغیرہ نہیں آنی۔ لاکھوں برس سے دنیا کا سسٹم ایسے ہی چل رہا ہے:

 If you are smart, powerful and wealthy you are the winner. All the others are loosers and idiots. And you know this judgment day is nothing but a rabbish.

         ویسے فار یور کائنڈ انفارمیشن، میرے پاپا نے اپنے پیر صاحب سے یہ گارنٹی لے رکھی ہے کہ قیامت میں وہ انہیں بخشوادیں گے۔ ان کو بہت پیسہ دیتے ہیں میرے پاپا۔‘‘

         ’’ہاں ہم جس طرح ناجائز منافع خوری، قانون کی خلاف ورزی اور دیگرحرام ذرائع سے پیسہ کماتے ہیں، اس کو کہیں تو پاک کرنا ہوگا۔ مجھے سب معلوم ہے۔ تمھارے پاپا اور چودھری مختار صاحب کئی بزنس میں پارٹنر ہیں اور دو نمبر کے ہتھکنڈوں سے پیسہ کماتے ہیں۔‘‘

         ’’اچھا…… اتنا ہی حلال حرام کا خیال ہے تو چھوڑدو پاپا کا بزنس۔‘‘

         ’’بزنس تو چھوڑ دوں، مگر تمھیں کیسے چھوڑوں۔ مجھے معلوم ہے کہ اس کے بعد جاب کرنے سے نہ تمھارے خرچے پورے ہوں گے اور نہ میں تمھارا لیونگ اسٹینڈرڈ مینٹین کرسکوں گا۔ تمھارے عشق نے مجھے کہیں کا نہ چھوڑا۔ وگرنہ میں جس خاندان سے ہوں وہاں حلال اور حرام ہی سب کچھ ہے۔‘‘

         ’’اسی لیے اتنی مڈل کلاس زندگی گزار رہے ہیں وہ لوگ۔ اچھا ہوا تم میرے ساتھ آگئے وگرنہ اپنے بھائیوں کی طرح موٹر سائیکل پر گھومتے یا 800 سی سی گاڑی چلاتے اور کسی فلیٹ میں سڑی ہوئی زندگی گزار کر مرجاتے۔‘‘

         ’’زندگی اچھی گزاریں یا بری، مرنا تو ہمیں ہے۔ پتہ نہیں آخرت میں ہمارے ساتھ کیا ہوگا؟‘‘

         ’’بے فکر رہو کچھ نہیں ہوگا۔ وہاں بھی ہم ٹھاٹ سے رہیں گے۔ میرے پاپا کے پیر صاحب کے سامنے تو تمھارے اﷲ میاں بھی کچھ نہیں بول سکتے۔‘‘

         ’’کلمۂ کفر تو مت بکو۔ اور اﷲ میرا کہاں رہا ہے۔ جب میں اﷲ کا نہیں رہا تو وہ میرا کیسے رہے گا۔‘‘

          یہ جملہ کہتے ہوئے جمشید کا لہجہ بھرّا گیا اور اس کی آنکھوں میں نمی آگئی۔ مگر ھما اس کے بہتے ہوئے آنسوؤں کو نہیں دیکھ سکی۔ اس کا سارا دھیان آئینے کی طرف تھا۔ اب وہ اپنے میک اپ سے فارغ ہوچکی تھی، اس لیے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے سے اٹھتے ہوئے بولی:

         ’’اچھا چھوڑو یہ فضول باتیں! نیچے چلو، پاپا انتظار کرہے ہوں گے۔‘‘

…………………………

         صالح نے دوبارہ اشارہ کیا اور منظر ختم ہوگیا۔ لیکن ساتھ ہی ھما کی ہر امید کو بھی ختم کرگیا۔ صالح نے اسی سفاک اور قاتل لہجے میں سختی کے ساتھ کہا:

         ــ’’تم نے دیکھا! تمھاری زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ ریکارڈ کرلیا گیا ہے۔ تو جاؤ ھما بی بی اپنے پیر صاحب کو ڈھونڈو جو تمھیں بخشواسکتے ہیں اور جن کے سامنے اﷲ تعالیٰ بھی……‘‘

         صالح نے جملہ تو ادھورا چھوڑدیا، مگر ھما کے الفاظ دہراتے وقت اس کے لہجے میں جو غضب آگیا تھا، اس سے میں خود دہل کر رہ گیا۔ ھما بھی بری طرح خوف زدہ ہوگئی۔ اس سے پہلے کہ صالح کچھ اور کہتا وہ روتی چیختی ہوئی وہاں سے بھاگ گئی۔

         اس منظر میں جمشید کو دیکھ کر میری حالت پھر ڈانوا ڈول ہوچکی تھی۔ ظاہر ہے کہ ھما کی طرح وہ بھی اس سختیوں بھرے میدان میں پریشان حال پھر رہا ہوگا۔ میں سوچ رہا تھا کہ جمشید اسی حال میں میرے سامنے آگیا تو میں کیا کروں گا۔ میں اسی سوچ میں غلطاں تھا کہ صالح نے میری کمر تھپتھپا کر کہا:

         ’’آؤ چلتے ہیں۔‘‘

         نجانے اس تھپکی میں کیا بات تھی کہ میں نے محسوس کیا کہ میرے اوپر طاری ہونے والی پریشانی کی کیفیت بہت ہلکی ہوگئی ہے۔ میں قدرے بشاشت سے اس کے ساتھ چلنے لگا۔ اردگرد پھر وہی پریشان اور وحشت زدہ لوگوں کی ہلچل تھی۔ ہم کچھ ہی دور آگے چلے تھے کہ سامنے سے چودھری مختار صاحب آتے نظر آئے۔ انہوں نے شاید مجھے دیکھ لیا تھا اور میری ہی طرف آرہے تھے۔ چودھری صاحب میرے بیٹے جمشید کے سسر کے بزنس پارٹنر تھے۔ اس حیثیت میں میری ان سے رسمی واقفیت تھی۔ میرے قریب آتے ہی انہوں نے مجھ سے گلے ملنے کی کوشش کی جسے صالح نے ہاتھ آگے بڑھا کر یہ کہتے ہوئے ناکام بنادیا :

         ’’دور رہ کر بات کرو۔‘‘

         اس کا لب و لہجہ اتنا درشت تھا کہ مجھے بھی اس سے اجنبیت محسوس ہونے لگی۔ اپنی اس رسوائی کے باوجود چودھری صاحب کے جوش میں کمی نہ آئی۔ وہ کہنے لگے:

         ’’مجھے یقین تھا عبد اﷲ صاحب! آپ مجھے ڈھونڈتے ہوئے ضرور آئیں گے۔ آپ کو یاد ہے عبداﷲ صاحب! میں نے ایک مسجد تعمیر کرائی تھی جس میں آپ بھی نماز پڑھا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ بھی میں غریبوں مسکینوں کی مدد کیا کرتا تھا۔‘‘

         ’’مجھے یاد ہے چودھری صاحب۔‘‘، میں نے دھیرے سے انہیں جواب دیا۔

         ’’بس تو اب آپ میری سفارش کردیجیے۔ میں بہت دیر سے پریشان گھوم رہا ہوں۔ یہاں تو جس کو دیکھو اپنی ہی پڑی ہے۔ نہ کوئی کچھ بتاتا ہے نہ سیدھے منہ بات کرتا ہے۔‘‘

         یہ آخری بات کہتے ہوئے انہوں نے بے اختیار صالح کی طرف دیکھا۔ میں نے بھی گردن گھماکر صالح کی طرف دیکھا۔ اس نے لمحے بھر کے لیے مجھے دیکھا اور پھر چودھری صاحب کے چہرے پر نظریں گاڑتے ہوئے بولا:

         ’’آپ نے مسجد ضرور بنوائی تھی، مگر اﷲ تعالیٰ کے لیے نہیں بلکہ اپنی نیک نامی کے لیے۔ جب پیسے اﷲ کو دیے جاتے ہیں تو گردن جھکی ہوتی ہے، ہاتھ بندھے ہوتے ہیں، لہجہ پست ہوتا ہے اور دل میں عاجزی اور خوف ہوتا ہے۔ مگر آپ کے معاملے میں ایسا نہیں تھا۔ آپ اپنا نام چاہتے تھے۔ سو دنیا میں نام ہوگیا۔ اب تو آپ کو حساب دینا ہوگا کہ یہ پیسہ کمایا کس طرح تھا۔

         اور ہاں…… اچھے کاموں پر تو آپ کبھی کبھار ہی پیسے خرچ کیا کرتے تھے۔ یہ کیوں نہیں بتاتے کہ ملک کی ایک مشہور اداکارہ کا قرب خریدنے کے لیے آپ نے کروڑوں روپے خرچ کردیے تھے۔ آپ کے کھاتے میں زنا کا گناہ ہے۔ ایک دفعہ کا نہیں بلکہ بار بار کا گناہ۔ الگ الگ عورتوں کے ساتھ زنا کا گناہ۔ ملک کی مشہور اداکاراؤں اور فیشن ماڈلز کے ساتھ آپ کے تعلقات تھے۔ خرچ کو تو چھوڑیے آپ کی تو آمدنی میں بھی رزق حرام کی وافر ملاوٹ تھی۔ آپ ملاوٹ کرتے تھے۔ ذخیرہ اندوزی کرتے تھے۔ لوگوں کو حد سے زیادہ منافع لے کر چیزیں فروخت کرتے تھے۔ بجلی چوری، دھوکہ دہی، ملازمین کے حقوق میں ڈنڈی مارنا، یہ آپ کے کاروبار کے بنیادی اصول تھے۔ اپنی ترقی کی انتہا پر پہنچ کر آپ نے ایک میڈیا گروپ بنالیا تھا جس کے ایک ٹی وی چینل پر آپ لوگوں کو خوش کرنے والے مذہبی پروگرام دکھاتے اور دوسرے پر آرٹ اور انٹر ٹینمنٹ کے نام پر معاشرے میں حیا باختہ رویے عام کرتے تھے۔ آپ جانتے تھے کہ دنیا میں کامیابی کا راز لوگوں کو خوش کرنا ہے۔ کاش آپ یہ جان لیتے کہ دنیا و آخرت میں کامیابی کا راز لوگوں کو نہیں خدا کو خوش کرنا ہے۔‘‘

         صالح بے تکان بول رہا تھا اور الفاظ اس کی زبان سے تیر بن کر نکل رہے تھے۔ ان کا سامنا کرنا چودھری صاحب کے لیے ممکن نہ تھا، مگر ان کے لیے کوئی جائے فرار نہ تھی۔ وہ گردن جھکائے سنتے رہے۔ صالح کے لب و لہجے کی سختی نے چودھری صاحب کے چہرے پر تاریکی پھیلادی تھی۔ مگر اس نے اسی پر بس نہیں کیا اور کہنے لگا:

         ’’ذرا پیچھے دیکھیے چودھری صاحب آپ کے پیچھے آپ کی محبوبہ بھی کھڑی ہے۔‘‘

         چودھری صاحب گھبراکر پیچھے پلٹے۔ میں نے بھی نظر اٹھاکر چودھری صاحب کے پیچھے دیکھا۔ سامنے ایک انتہائی مکروہ شکل و صورت کی بوڑھی عورت کھڑی تھی جس کے جسم سے بدبو کے بھپکے اٹھ رہے تھے۔ صالح نے میری پشت پر ہاتھ رکھا جس کے بعد مجھے یہ ناقابل برداشت بدبو آنا بند ہوگئی، لیکن چودھری صاحب کے لیے یہ بدبو ابھی تک باقی تھی۔ وہ بدشکل بڑھیا چودھری چودھری کہتے ہوئے آگے بڑھی۔ اس بڑھیا کے قرب سے خوفزدہ ہوکر چودھری صاحب پیچھے ہٹنے لگے اور پھر بے اختیار بھاگنے لگے۔ وہ عورت یا بلا جو کچھ بھی تھی ان کے پیچھے ہاتھ پھیلاکر دوڑنے لگی۔

         ’’یہ عورت کون تھی؟‘‘، ان کے دور جانے کے بعد میں نے صالح سے پوچھا۔

         ’’ یہ چودھری صاحب کی وہ داشتہ اور تمھارے زمانے کی مشہور اداکارہ، رقاصہ اور ماڈل چمپا تھی۔‘‘، صالح نے اس بدشکل عورت کا تعارف کرایا تو میں نے حیرت سے کہا:

         ’’چمپا؟ مگر وہ تو بہت خوبصورت تھی اور لوگ اُس کے حسن کی مثالیں دیا کرتے تھے۔‘‘

         ’’ہاں مثالیں دینے کے علاوہ اسے اپنا آئیڈیل بھی بناتے تھے۔ اب دیکھ لو لوگوں کے اس آئیڈیل کی شکل کیسی ہوچکی ہے۔ یہ عورت اپنے بھڑکیلے اور نیم عریاں رقصوں سے معاشرے میں فحاشی پھیلاتی تھی۔ اب خدا کا فیصلہ یہ ہے کہ یہ جن دلوں پر راج کرتی تھی، جہنم میں انہی لوگوں پر اسے عذاب بناکر مسلط کردیا جائے۔‘‘، صالح نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔

         میں دل میں سوچنے لگا کہ میرے زمانے میں فحاشی شاید انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ بڑھ چکی تھی۔ ٹیلوژن نے گھر گھر اس طرح کی اداکاراؤں کے جلوے بکھیردیے تھے۔ اس دور کے تمام معاشروں نے فحاشی اور عریانی پھیلانے والی ایسی خواتین کو عزت کے بلند ترین مقام پر بٹھادیا تھا۔ فلمی اداروں اور ٹی وی چینلز کے مالکان کے نزدیک وہ عورتیں مال کمانے کا سب سے سستا اور آسان ذریعہ تھیں جن کے فحش رقصوں، دلربا اداؤں اور کم لباسی کو بیچ کر یہ لوگ اپنی دولت میں اضافہ کیا کرتے تھے۔ نوجوان ان کے دیوانے تھے اور اپنی ہونے والی بیویوں میں ان کی صورتیں اور نخرے تلاش کرتے تھے۔ لڑکیاں انہی کے انداز و لباس کی کاپی کرکے خود کو سنوارا کرتی تھیں۔ انہی کی وجہ سے شریف مگر عام شکل و صورت والی کتنی ہی لڑکیاں معاشرے میں بے وقعت ہوگئی تھیں۔ ان میں سے کتنی تھیں جو اپنے آنگن میں بہاروں کی راہ تکتے تکتے سفید بالوں کی خزاں رت تک جاپہنچتیں اور کتنی تھیں جو معاشرے کی ناقدری کے داغ کو اپنی شرافت کی چادر میں چھپائے دنیا سے رخصت ہوجاتی تھیں۔

         میرے چہرے پر دکھ کے آثار واضح تھے۔ یہ آثار صالح نے پڑھ لیے تھے۔ وہ میرا ہاتھ تھامے خاموشی سے ایک طرف بڑھنے لگا۔ پھر کچھ دیر بعدایک جگہ ٹھہر کر بولا:

         ’’ خدا نے تمھارے دکھوں کو دور کرنے کا ایک انتظام کیا ہے، مگر بہتر ہوگا کہ اسے دیکھنے سے قبل گزری ہوئی دنیا کا یہ منظر بھی دیکھ لو۔‘‘

         اس کی زبان سے یہ الفاظ نکلے ہی تھے کہ میرے سامنے ایک منظر فلم اسکرین کی طرح چلنے لگا۔ مجھے لگا کہ میں اس منظر کا ایک حصہ ہوں اور بیان ہوئے بغیر بھی ہر حقیقت سمجھ رہا ہوں۔

…………………………

         صبح کی روشنی کھڑکی پر پڑے پردوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کمرے کے اندر داخل ہونے لگی تھی۔ کالج جانے کا وقت ہورہا تھا، مگر شائستہ کی ہمت نہیں ہورہی تھی کہ اس سردی میں بستر سے نکلے اور کالج جانے کی تیاری کرے۔ وہ عام طور پر فجر کی نماز پڑھ کر کچھ دیر مطالعہ کرتی تھی اور پھر کالج کی تیاری، مگر آج وہ نماز پڑھ کر دوبارہ بستر میں لیٹ گئی تھی۔ کل رات ہی سے اس کی طبیعت ناساز تھی۔

         ’’نہیں! مجھے کالج جانا ہوگا۔ ورنہ اسٹوڈنٹس کا بہت نقصان ہوگا…… اور پھر امی ابو کے لیے ناشتہ بھی تو بنانا ہے۔‘‘

         اس نے دل میں سوچا اور ہمت کرکے بستر سے اٹھ گئی۔ دھیرے سے چلتے ہوئے وہ برابر والے کمرے کی طرف گئی جو اس کے والدین کا تھا۔ اس نے آہستہ سے دروازہ کھول کر دیکھا۔ وہ دونوں گہری نیند سورہے تھے۔ اس کے چہرے پر ایک اطمینان بخش مسکراہٹ آگئی۔

         شائستہ نے اپنی ساری زندگی اپنے گھرانے کے نام کردی تھی۔ اس کے والد اس کے بچپن ہی میں معذور ہوگئے تھے۔ وہ تین بہنوں میں سب سے بڑی تھی۔ والدہ نے سلائی کرکے بمشکل تمام انہیں پڑھایا تھا۔ تعلیم مکمل کرکے اس نے پہلے اسکول اور پھر ایک پرائیوٹ کالج میں پڑھانا شروع کردیا۔ وہ اس کے خواب دیکھنے کے دن تھے۔ وہ بہت خوبصورت تو نہیں تھی، لیکن نوجوانی خود ایک حسن ہوتی ہے۔ مگر اس کی زندگی میں نوجوانی کا مفہوم بس ایک ذمہ داری تھا جس میں خوابوں اور خواہشوں کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ گھر کا خرچہ، والد کا علاج، مکان کا کرایہ اور چھوٹی بہنوں کی تعلیم۔ دونوں چھوٹی بہنیں خوش شکل تھیں۔ بڑی ہوئیں تو آنے والے ہر رشتے کا رخ انہی کی طرف تھا۔ شائستہ راہ کی دیوار نہیں بنی اور خوشی خوشی بہنوں کو ان کے گھر آباد کردیا۔ یہ ذمہ داریاں پوری کرتے کرتے اس کی جوانی ڈھلتی چلی گئی۔ اور اب وہ اپنے بوڑھے والدین کا بوجھ اٹھانے کے لیے تنہا رہ گئی تھی۔

         ان حالات میں اس کا سہارا خدا کی ذات تھی۔ اسے خدا سے بہت شدید محبت تھی۔ اتنی محبت کہ زندگی کی کسی محرومی نے اس کے اندر تلخی نہیں آنے دی۔ وہ نماز روزے کی پابند تو بچپن سے تھی، مگر خدا کی محبت کی یہ مٹھاس اسے اس کے روحانی استاد عبداﷲ صاحب کی کتابیں پڑھ کر ملی تھی…… اور اب یہ اس کی زندگی کا مشن تھا کہ وہ خدا کی بندگی اور محبت کی یہ مٹھاس اپنے نوجوان طلبا تک منتقل کرے۔ وہ ایک بہترین استاد تھی اور اس کے طلبا اس کی بہت عزت کرتے تھے۔ اسی لیے وہ اس کی باتیں ہمیشہ توجہ سے سنتے اور شائستہ شوق سے انھیں پڑھاتی تھی۔

         مگر آج نجانے کیوں اس کا دل بہت اداس تھا۔ شاید طبیعت کی خرابی کا اثر تھا کہ وہ ڈپریشن کی کیفیت میں تھی۔ ناشتے سے فارغ ہوکر وہ آئینے کے سامنے کھڑی کالج جانے کے لیے تیار ہورہی تھی۔ اس نے اپنے چہرے کو غور سے دیکھا۔ ڈھلتی جوانی کے سارے اثرات اب ظاہر ہورہے تھے۔ وہ ایک کرب کے ساتھ مسکرائی اور خود کو مخاطب کرکے دھیرے سے بڑبڑائی:

         ’’شائستہ! تم ہار گئیں۔ تمھارے حصے میں تنہائیوں کے سوا کچھ نہیں آیا؟‘‘

         یہ کہتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کرلیں۔ شاید یہ اس کا اعتراف شکست تھا۔ مگر اسی لمحے استاد عبداﷲ کی ایک بات اس کے کانوں میں گونجنے لگی:

         ’’جو خدا سے سودا کرتا ہے وہ کبھی نقصان نہیں اٹھاتا۔‘‘

         ایک مسکراہٹ کے ساتھ اس نے آنکھیں کھولیں اور ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولی:

         ’’دیکھتے ہیں…… دیکھ لیں گے…… اب وقت ہی کتنا بچا ہے۔‘‘

…………………………

         منظر ختم ہوگیا۔ میں نے صالح کی سمت دیکھ کر کہا:

         ’’میں تو اس لڑکی کو نہیں جانتا۔‘‘

         ’’اب جان لوگے۔ ویسے تم جو کچھ لکھتے تھے، وہ بہت دور تک جاتا تھا۔‘‘

         صالح نے جواب دیا اور ساتھ ہی میرا ہاتھ تھامے ایک سمت آگے بڑھنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد ہم ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں ویسے ہی سخت گیر فرشتے نظر آئے جیسے عرش کی سمت عام لوگوں کو بڑھنے سے روکنے کے لیے کھڑے تھے۔ مگر صالح کو دیکھ کر انہوں نے ہمارا راستہ چھوڑدیا۔ ذرا دور چل کر ہمارے سامنے ایک دروازہ آگیا۔ صالح نے دروازہ کھولا اور میرا ہاتھ تھامے اندر داخل ہوگیا۔ یہ دروازہ ایک دوسری دنیا کا دروازہ تھا۔ کیونکہ اس کے دوسری طرف حشر کے پریشان کن ماحول کے برعکس منظر پھیلا ہوا تھا۔ میں بے اختیار بولا:

         ’’صالح! ہم واپس نبیوں کے کیمپوں کی طرف تو نہیں آگئے؟‘‘

         اس نے مسکراکر کہا:

         ’’ہاں…… تمھار ادکھ تو یہیں آکر دور ہوسکتا ہے۔‘‘

         ہم چلتے ہوئے ایک شاندار خیمے کے قریب پہنچے۔ اس کے دروازے پر ایک انتہائی باوقار اور پرنور چہرے والے ایک صاحب کھڑے تھے۔ یہ میرے لیے بالکل اجنبی تھے۔ قریب پہنچ کر صالح نے ان سے میرا تعارف کرایا:

         ’’یہ عبد اﷲ ہیں۔ محمد رسول اﷲ کی امت کے آخری دور کے امتی۔ اور آپ نحور ہیں، یرمیاہ نبی کے انتہائی قریبی ساتھی۔ نحور آپ انہی سے ملنا چاہ رہے تھے نا؟‘‘

         یہ ایک عظیم پیغمبر کے صحابی کا مجھ سے تعارف بھی تھا اور یہ وضاحت بھی کہ میں یہاں کیوں موجود ہوں۔

         میں نے نحور سے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا، لیکن انھو ں نے پرجوش انداز میں مجھے اپنے گلے سے لگالیا۔ میں نے اسی حالت میں ان سے کہا:

         ’’یرمیاہ نبی سے ملاقات کا شرف تو مجھے ابھی تک حاصل نہیں ہوا لیکن آپ سے ملنا بھی کسی اعزاز سے کم نہیں ہے۔ یرمیاہ نبی کے حالات اور زندگی میں میرے لیے ہمیشہ بڑی رہنمائی رہی۔ مجھے ان سے ملنے کا بہت اشتیاق ہے۔‘‘

         یہ کہتے ہوئے میرے ذہن میں بنی اسرائیل کے اس عظیم پیغمبر کی زندگی گھوم رہی تھی۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں بنی اسرائیل بدترین اخلاقی انحراف کا شکار تھے اور اسی بنا پر اپنے زمانے کی سپر پاور عراق کے حکمران بخت نصرکے ہاتھوں سیاسی مغلوبیت کے خدائی عذاب میں مبتلا ہوچکے تھے۔ مگر ان کے لیڈروں نے قوم کی اصلاح کرنے کے بجائے ان کے ہاں سیاسی غلبے کی سوچ عام کردی۔ یرمیاہ نبی نے بنی اسرائیل کو ان کی اخلاقی اور ایمانی گمراہیوں پر متنبہ کیا اور انھیں سمجھایا کہ وقت کی سپر پاور سے ٹکرانے کے بجائے اپنی اصلاح کریں۔ مگر ان کی قوم نے اپنی اصلاح کرنے کے بجائے انہیں کنویں میں الٹا لٹکادیا اور پھر بخت نصر کے خلاف بغاوت کردی۔ اس کے بعد بخت نصر عذاب الٰہی بن کر نازل ہوا اور اس نے یروشلم (بیت المقدس) کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ چھ لاکھ یہودی قتل ہوئے اور چھ لاکھ کو وہ غلام بناکر اپنے ساتھ لے گیا۔

         میں اسی سوچ میں تھا کہ نحور نے میری بات کا جواب دیتے ہوئے کہا:

         ’’انشاء اﷲ ان سے بھی جلد ملاقات ہوجائے گی۔ مگر سردست تو میں آپ کو کسی اور سے ملوانا چاہتا ہوں۔‘‘، یہ کہتے ہوئے وہ مجھ سے الگ ہوئے اور خیمے کی طرف رخ کرکے کسی کو آواز دی:

         ’’ذرا باہر آنا! دیکھو تو تم سے کون ملنے آیا ہے؟‘‘

         نحور کی آواز کے ساتھ ہی ایک لڑکی خیمے سے نکل کر ان کے برابر آکھڑی ہوئی تھی۔ یہ لڑکی اپنے حلیے سے کوئی شہزادی اور شکل و صورت میں پرستان کی کوئی پری لگ رہی تھی۔ اس لڑکی نے گردن جھکاکر مجھے سلام کیا اور مجھے مخاطب کرکے کہا:

         ’’آپ مجھے نہیں جانتے۔ مگر میرے لیے آپ میرے استاد ہیں اور اس رشتے سے میں آپ کی روحانی اولاد ہوں۔ میرا نام شائستہ ہے۔ گمراہی کے اندھیروں میں خدا کے سچے دین کی روشنی میں نے آپ کے ذریعے سے پائی تھی۔ خدا سے میرا تعارف آپ نے کرایا تھا۔ خدا کے ساتھ انسان کا اصل تعلق کیا ہونا چاہیے، یہ میں نے آپ ہی سے سیکھا تھا۔ آج دیکھیے! خدا نے مجھ پر احسان کیا اور اب میں ایک عظیم نبی کے صحابی کی بیوی بننے جارہی ہوں۔‘‘

         تھوڑی دیر قبل صالح نے اسی لڑکی کو مجھے دکھایا تھا۔ مگر اب اس کی حالت میں جو انقلاب آچکا تھا اسے دیکھ کر میں دنگ رہ گیا۔ لیکن اسے اس طرح دیکھ کر مجھے جتنی خوشی ہوئی، اس کو میں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا۔ میں نے شائستہ سے کہا:

         ’’میری طرف سے آپ دونوں دلی مبارکباد قبول کیجیے۔ امید ہے کہ آپ مجھے اپنی شادی میں بھی یاد رکھیں گی۔‘‘

         ’’کیوں نہیں۔ آپ کو تو بلانے کا مقصد ہی نحور کو یہ بتانا تھا کہ میرے میکے والے کوئی معمولی لوگ نہیں ہیں۔‘‘، اس نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔

         ’’پھر تو آپ نے غلط شخص کا انتخاب کیا ہے۔‘‘

         میں نے فوراً جواب دیا۔ پھر اپنا رخ نحورکی طرف کرتے ہوئے کہا:

         ’’ لیکن شائستہ کی بات بالکل درست ہے۔ ان کے میکے کے لوگ معمولی نہیں۔ اور ہوبھی کیسے سکتے ہیں۔ شائستہ امت محمدیہ میں سے ہیں۔ نبی عربی کی نسبت کے بعد ان کا میکہ معمولی نہیں رہا۔‘‘

         اس موقع پر صالح نے مداخلت کی اور کہا:

         ’’آپ لوگوں کی مرتبہ و منصب کی اس بحث کا فیصلہ بعد میں ہوتا رہے گا۔ سر دست مجھے عبداﷲ کو واپس لے کر جانا ہے۔ اس لیے ہمیں اجازت دیجیے۔‘‘

         نحور اور شائستہ سے اجازت لے کر ہم دونوں وہاں سے رخصت ہوگئے۔واپسی پر صالح مجھ سے بولا:

         ’’ہوگیا نا تمھارے دکھ کا مداوا؟‘‘

         میں نے خدا کی اپنے بندوں پر عنایات کا جو مشاہدہ ابھی کیا تھا اس نے میری قوت گویائی سلب کرلی تھی۔ اس لیے میں خاموش رہا۔ صالح نے اپنی بات جاری رکھی:

         ’’ یہ لڑکی اپنے صبر کی وجہ سے اس مقام تک پہنچی ہے۔ خدا نے اس لڑکی کو سخت حالات اور معمولی شکل و صورت کے ساتھ آزمایا تھا۔ مگر اس نے محروم ہونے کے باوجود صبر، شکر اور سچی خدا پرستی کی راہ اختیار کی تھی۔ اور آج تم نے دیکھ لیا کہ جو پچھلی دنیا میں پانے سے محروم رہ گئے، ان کا صبر آج انھیں کس بدلے کا مستحق بنارہا ہے۔‘‘

         میں چلتے چلتے رکا۔ اپنی نظریں اٹھاکر آسمان کو دیکھا، آسمان والے کو دیکھا اور پھر اپنی گردن جھکالی۔

 چوتھا باب        ناعمہ                                                                                 ہم چلتے چلتے اس دروازے کے قریب آگئے جہاں سے حشر کا راستہ تھا۔ میں نے صالح سے دریافت کیا:

         ’’کیا اب ہمیں واپس میدان حشر جانا ہوگا؟‘‘

         ’’کیوں کیا وہاں جانے کا شوق ختم ہوگیا؟‘‘، اس نے حیرت کے ساتھ پوچھا۔

         ’’نہیں ایسی بات نہیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ یہاں آگیا ہوں تو اپنے گھر والوں سے مل لوں۔ جب ہم شروع میں یہاں آئے تھے تو تم مجھے براہ راست اوپر لے گئے تھے۔ اب تو میرے گھر والے امت محمدیہ کے کیمپ میں پہنچ چکے ہوں گے؟‘‘

         ’’تم انسان اپنے جذبوں کو تہذیب کے لفافے میں ڈال کر دوسروں تک منتقل کرنے کے عادی ہوتے ہو۔ کھل کر کیوں نہیں کہتے کہ اپنی گھر والی کے پاس جانا چاہتے ہو۔ یہ بار بار گھر والوں کے الفاظ کیوں بول رہے ہو؟‘‘

                 صالح نے میری بات پرہنستے ہوئے تبصرہ کیاتو میں جھینپ گیا۔ پھروہ مسکراکر بولا:

         ’’شرماؤ نہیں یار۔ ہم وہیں چلتے ہیں۔ یہ خادم تمھاری ہر خواہش پوری کرنے پر مامور ہے۔‘‘

         ہم جس دنیا میں تھے وہاں راستے، وقت اور مقامات سب کے معنی اور مفہوم بالکل بدل چکے تھے۔ اس لیے صالح کا جملہ ختم ہونے کے ساتھ ہی ہم اسی پہاڑ کے قریب پہنچ گئے جس کے اردگرد تمام نبیوں اور ان کی امتوں کے کیمپ لگے ہوئے تھے۔

         ’’شاید میں نے تمھیں پہلی دفعہ یہاں آتے وقت یہ بتایا تھا کہ اس پہاڑ کا نام ’اعراف‘ ہے۔ اسی کی بلندی پر تم گئے تھے۔ اور یہ دیکھو امتِ محمدیہ کا کیمپ قریب آگیا ہے۔‘‘

         ہم پہاڑ کے جس حصے میں تھے وہاں اس کا دامن بہت دراز تھا۔ ا س لیے وہاں بہت گنجائش تھی، مگر وہ پورا مقام اس وقت ان گنت لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ پہاڑ کے اردگرد اس قدر رش شاید کسی اور جگہ نہیں تھا۔

         میں نے صالح سے مخاطب ہوکر کہا:

         ’’لگتا ہے سارے مسلمان یہاں آگئے ہیں۔‘‘

         ’’نہیں بہت کم آئے ہیں۔ امت محمدیہ کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ اس لیے اس کے مقربین اور صالحین کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ وگرنہ بیشتر مسلمان تو ابھی میدان حشر ہی میں پریشان گھوم رہے ہیں۔‘‘

         ’’تو میرے زمانے کے مسلمان بھی یہاں ہوں گے۔‘‘

         ’’بدقسمتی سے تمھارے معاصرین میں سے بہت کم لوگ یہاں ہیں۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی امت کے ابتدائی حصے کے لوگوں کی بہت بڑی تعداد یہاں موجود ہے۔ آخری زمانے کے البتہ کم ہی لوگ یہاں آسکے ہیں۔ تمھارے زمانے میں تو زیادہ تر مسلمان دنیا پرست تھے یا فرقہ پرست۔ یہ دونوں طرح کے لوگ فی الوقت میدان حشرکی سیر کررہے ہیں۔ اس لیے تمھارے جاننے والے یہاں کم ہوں گے۔ جو ہوں گے ان سے تم جنت میں داخلے کے بعد دربار میں مل لینا۔ یہاں تو ہم صرف تمھارے ’گھر والوں‘ سے ملا کر تمھاری آنکھیں ٹھنڈی کریں گے اور فوراً واپس لوٹیں گے۔ خبر نہیں کس وقت حساب کتاب شروع ہوجائے۔‘‘

         ’’یہ دربار کیا ہے؟‘‘

         صالح کی گفتگو میں جو چیز ناقابل فہم تھی میں نے اس کے بارے میں دریافت کیا۔

         ’’حساب کتاب کے بعدجب تمام اہل جنت، جنت میں داخل ہوجائیں گے تو ان کی اﷲ تعالیٰ کے ساتھ ایک نشست ہوگی۔ اس کا نام دربار ہے۔ اس نشست میں تمام اہل جنت کو ان کے مناصب اور مقامات رسمی طور پر تفویض کیے جائیں گے۔ یہ لوگوں کی ان کے رب کے ساتھ ملاقات بھی ہوگی اور مقربین کی عزت افزائی کا موقع بھی ہوگا۔‘‘

         میں اس سے مزید کچھ اور دریافت کرنا چاہتا تھا، مگر گفتگو کرتے ہوئے ہم کیمپ کے کافی نزدیک پہنچ چکے تھے۔ یہ خیموں پر مشتمل ایک وسیع و عریض بستی تھی۔ اس بستی میں لوگوں کے کیمپ مختلف زمانوں کے اعتبار سے تقسیم تھے۔ بعض خیموں کے باہر کھڑے ان کے مالکان آپس میں گفتگو کررہے تھے۔ یہیں مجھے اپنے بہت سے ساتھی اور رفقا نظر آئے جنہو ں نے دین کی دعوت میں میرا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ ان کو دیکھ کر مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنی جوانیاں، اپنے کیرئیر، اپنے خاندان اور اپنی خواہشات کو کبھی سر پر سوار نہیں ہونے دیا تھا۔ ان سب کو ایک حد تک رکھ کر اپنا باقی وقت، صلاحیت، پیسہ اور جذبہ خدا کے دین کے لیے وقف کردیا تھا۔ اسی کا بدلہ تھا کہ آج یہ لوگ اس ابدی کامیابی کو سب سے پہلے حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے جس کا وعدہ دنیا میں ان سے کیا گیا تھا۔

         یہیں ہمیں امت مسلمہ کی تاریخ کی بہت سی معروف ہستیاں نظر آئیں۔ ہم جہاں سے گزرتے لوگوں کو سلام کرتے جاتے۔ ہر شخص نے ہمیں اپنے خیمے میں آکر بیٹھنے اور کچھ کھانے پینے کی دعوت دی، جسے صالح شکریہ کے ساتھ رد کرتا چلا گیا۔ البتہ میں نے ہر شخص سے بعد میں ملنے کا وعدہ کیا۔

         راستے میں صالح کہنے لگا:

         ’’ان میں سے ہر شخص اس قابل ہے کہ اس کے ساتھ بیٹھا جائے۔ تم اچھا کررہے ہو کہ ان سے ابھی ملاقات طے کررہے ہو۔ ان میں سے بہت سے لوگوں سے بعد میں وقت لینا بھی آسان نہیں ہوگا۔ ‘‘

         یہ کہہ کر وہ ایک لمحے کے لیے رکا اور محبت آمیز نظروں سے میری طرف دیکھ کر بولا:

         ’’وقت لینا تو تم سے بھی آسان نہیں ہوگا عبداﷲ! تمھیں ابھی پوری طرح اندازہ نہیں۔ اس نئی دنیا میں تم خود ایک بہت بڑی حیثیت کے مالک ہوگے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم پروردگار عالم کے معیار پر ہمیشہ سے ایک بہت بڑی حیثیت کے آدمی تھے۔‘‘

         یہ کہتے ہوئے صالح رکا اور مجھے گلے لگالیا ۔ پھر آہستگی سے وہ میرے کان میں بولا:

         ’’عبد اﷲ! تمھارے ساتھ رہنا میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔‘‘

         میں نے اپنی نگاہیں آسمان کی طرف بلند کیں اور دھیرے سے جواب دیا:

         ’’اعزاز کی بات تو خدا کی بندگی کرنا ہے۔ اس کے بندوں کو بندگی کی دعوت دینا ہے۔ یہ میرا اعزاز ہے کہ خدا نے ریت کے ایک بے وقعت ذرے کو اس خدمت کا موقع دیا۔‘‘

         یہ کہتے ہوئے احسان مندی کے جذبات سے میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

         ’’ہاں یہی بات ٹھیک ہے۔ خدا ہی ہے جو ذرۂ ریگ کو طلوع آفتاب دیتا ہے۔ تم سورج کی طرح اگر چمکے تو یہ خدا کی عنایت تھی۔ مگر یہ عنایت خدا پرستوں پر ہوتی ہے، سرکشوں، مفسدوں اور غافلوں پر نہیں۔‘‘

         ہم ایک دفعہ پھر چلنے لگے اور چلتے چلتے ہم ایک بہت خوبصورت اور نفیس خیمے کے پاس پہنچ گئے۔ میرے دل کی دھڑکن کچھ تیز ہوگئی۔ صالح میری طرف دیکھتے ہوئے بولا:

         ’’ناعمہ نام ہے تمھاری بیوی کا؟‘‘

         میں نے اثبات میں گردن ہلادی۔ صالح نے انگلی سے اشارہ کرکے کہا:

         ’’یہ والا خیمہ ہے۔‘‘

         ’’کیا اسے معلوم ہے کہ میں یہاں آرہا ہوں؟‘‘، میں نے دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا۔

         ’’نہیں۔‘‘، صالح نے جواب دیا۔ پھر ہاتھ سے اشارہ کرکے کہا:

         ’’یہ ہے تمھاری منزل۔‘‘

         میں ہولے ہولے چلتا ہوا خیمے کے قریب پہنچا اور سلام کرکے اندر داخل ہونے کی اجازت چاہی۔ اندر سے ایک آواز آئی جسے سنتے ہی میرے دل کی دھڑکن تیز تر ہوگئی۔

         ’’آپ کون ہیں؟‘‘

         ’’عبدا ﷲ……‘‘

         میری زبان سے عبد اﷲ کا نام نکلتے ہی پردہ اٹھا اور ساری دنیا میں اندھیرا چھا گیا۔ اگر روشنی تھی تو صرف اسی ایک چہرے میں جو میرے سامنے تھا۔ وقت، زمانہ، صدیاں اور لمحے سب اپنی جگہ ٹھہرگئے۔ میں خاموش کھڑا ٹکٹکی باندھ کر اسے دیکھتا رہا۔ ناعمہ کا مطلب روشن ہوتا ہے۔ مگر روشنی کا مطلب یہ ہوتا ہے یہ مجھے آج پہلی دفعہ معلوم ہوا تھا۔

         ہم جب آخری دفعہ ملے تھے تو زندگی بھر کا ساتھ بڑھاپے کی رفاقت میں ڈھل چکا تھا۔ جب محبت؛ حسن اور جوانی کی محتاج نہیں رہتی۔ مگر ناعمہ نے اپنی جوانی کے تمام ارمانوں اور خوابوں کو میری نذر کردیا تھا۔ اس نے جوانی کے دنوں میں بھی اس وقت میرا ساتھ دیا تھا جب میں نے آسان زندگی چھوڑ کر اپنے لیے کانٹوں بھرے راستے چن لیے تھے۔ اس کے بعد بھی زندگی کے ہر سرد و گرم اور اچھے برے حال میں اس نے پوری طاقت سے میرا ساتھ دیا تھا۔ یہاں تک کہ موت ہم دونوں کے بیچ حائل ہوگئی۔ مگر آج موت کا یہ عارضی پردہ اٹھا تو میرے سامنے چاند کا نور، تاروں کی چمک، سورج کی روشنی، پھولوں کی مہک، کلیوں کی نازکی، شبنم کی تازگی، صبح کا اجالا اور شام کی شفق سب ایک ساتھ ایک ہی چہرے میں جلوہ گر ہوگئے تھے۔ برسوں کی اس رفاقت کو میں چند لمحوں میں سمیٹ کر دیکھنے کی کوشش کررہا تھا۔ ناعمہ کی آنکھوں میں نمی آگئی تھی جو اس کے رخساروں پر بہنے لگی۔ میں نے ہاتھ بڑھاکر اس کے رخساروں سے نمی پونچھی اور اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا:

         ’’میں نے کہا تھا نا۔ تھوڑا سا انتظار تھوڑا سا صبر۔ یہ جنگ ہم ہی جیتیں گے۔‘‘

         ’’میں نے کب آپ کی بات کا یقین نہیں کیا تھا۔ اور اب تو میرا یقین حقیقت میں بدل چکا ہے۔ـ مجھے تو بس ایسا لگ رہا ہے کہ آپ کچھ دیر کے لیے گھر سے باہر گئے تھے اور پھر آگئے۔ ہم نے تھوڑا سا صبر کیا اور بہت بڑی جنگ جیت لی۔‘‘

         ’’ہمیں جیتنا ہی تھا ناعمہ۔ اﷲ نہیں ہارتا۔ اﷲ والے بھی نہیں ہارتے۔ وہ دنیا میں پیچھے رہ سکتے ہیں، مگر آخرت میں ہمیشہ سب سے آگے ہوتے ہیں۔‘‘

         ’’اور اب؟‘‘، ناعمہ نے سوال کرتے ہوئے آنکھیں بند کرلیں۔ شاید وہ تخیل کی آنکھ سے جنت کی اُس دنیا کا تصور کررہی تھی جو اب شروع ہونے والی تھی۔

         ’’ہم نے خدا کا پیغام عام کرنے کے لیے اپنی فانی زندگی لگادی اور اب بدلے میں خدا جنت کی ابدی زندگی کی کامیابی ہمیں دے گا۔‘‘

         یہ کہتے ہوئے میں نے بھی آنکھیں بند کرلیں۔ میرے سامنے اپنی پر مشقت اور جدو جہد سے بھرپور زندگی کا ایک ایک لمحہ آرہا تھا۔ میں نے اپنی نوجوانی اور جوانی کے بہترین سال خدا کے دین کی خدمت کے لیے وقف کردیے تھے۔ اپنی ادھیڑ عمر کی صلاحیتیں اور بڑھاپے کی آخری توانائیاں تک اسی راہ میں جھونک دی تھیں۔ میں ایک غیر معمولی باصلاحیت اور ذہین شخص تھا جو اگر دنیا کی زندگی کو مقصود بنالیتا تو ترقی اور کامیابی کے اعلیٰ مقامات تک باآسانی پہنچ جاتا۔ مگر میں نے سوچ لیا تھا کہ کیرئیر، جائیداد، مقام و مرتبہ اور عزت و شہرت اگر کہیں حاصل کرنی ہے تو آخرت ہی میں حاصل کرنی ہے۔ میں نے زندگی میں خواہشات کے میدان ہی میں خود سے جنگ نہیں کی تھی بلکہ تعصبات اور جذبات سے بھی لڑتا رہا تھا۔ فرقہ واریت، اکابر پرستی اور تعصب سے میں نے کبھی اپنا دامن آلودہ نہیں ہونے دیا۔ خدا کے دین کو ہمیشہ ایمانداری اور عقل سے سمجھا اور اخلاص اور صدق دل سے اس پر عمل کیا۔ اس کے دین کو دنیا بھر میں پھیلایا اور کبھی اس راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کی۔ اس سفر میں خدا نے جو سب سے بڑا سہارا مجھے دیا وہ ناعمہ کی محبت اور رفاقت تھی جس نے ہر طرح کے حالات میں مجھے لڑنے کا حوصلہ بخشا۔ اور اب ہم دونوں شیطان کے خلاف اپنی جنگ جیت چکے تھے۔ مشقت ختم ہوچکی تھی اور جشن کا وقت تھا۔ ہم اسی حال میں تھے کہ صالح نے کھنکار کر ہمیں اپنی موجودگی کا احساس دلایا اور بولا:

         ’’آپ لوگ تفصیل سے بعد میں ملیے گا۔ ابھی چلنا ہوگا۔‘‘

         اس کے ان الفاظ پر میں واپس اس دنیا میں لوٹ آیا۔ میں نے صالح کا ناعمہ سے تعارف کرایا:

         ’’یہ صالح ہیں۔‘‘، پھر ہنستے ہوئے میں نے اپنی بات میں اضافہ کیا:

         ’’یہ کسی بھی وقت مجھے تنہا چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔‘‘

         ناعمہ نے صالح کو دیکھتے ہوئے کہا:

         ’’میں انہیں جانتی ہوں۔ مجھے یہاں پر یہی چھوڑ کر گئے تھے اور اسی وقت آپ کے بارے میں بتادیا تھا۔ وگرنہ میں بہت پریشان رہتی۔‘‘

         میں نے صالح کی طرف مڑتے ہوئے کہا:

         ’’تم مجھ سے الگ ہی کب ہوئے ہو جو ناعمہ کو یہاں چھوڑنے آگئے تھے۔‘‘

         ’’تمھیں غالباً یاد نہیں۔ جس وقت تم اوپر بیٹھے پروردگار کے حضور حشر کے میدان میں گھومنے پھرنے کا پروانہ لے رہے تھے اس وقت میں تمھارے برابر سے اٹھ گیا تھا۔ عبداﷲ! یہ تمھاری کمزوری بھی ہے اور طاقت بھی کہ جب تم خدا کے ساتھ ہوتے ہو تو تمھیں اردگرد کا ہوش نہیں ہوتا۔‘‘

         ’’ہوش تو مجھے تھوڑی دیر پہلے بھی نہیں تھا، مگر اس وقت تو تم ٹلے نہیں۔‘‘

         ’’ہاں میں اگر ٹل جاتا تو پھر تم سے اگلی ملاقات یوم حشر کے بعد ہی ہوتی۔ ویسے تم انسان بڑے ناشکرے ہو اور بھلکڑ بھی۔ بھول گئے تمھیں کہاں جانا ہے؟‘‘

         ’’اوہو، ناعمہ! ہمیں چلنا ہوگا۔ تم یہیں رکو میں کچھ دیر میں آتا ہوں۔‘‘

         ’’مگر ہمارے بچے؟‘‘

         ’’وہ بھی ٹھیک ہیں۔ تم انہیں یہاں تلاش کرو۔ قریب میں کہیں مل جائیں گے۔ وگرنہ میں تھوڑی دیر میں سب کو لے کر خود آجاؤں گا۔ ابھی مجھے فوراً میدان حشر میں لوٹنا ہے۔ ملنا ملانا اس کے بعد عمر بھر ہوتا رہے گا۔‘‘

         اس آخری سوال کے بعد یہاں میرے رکنے کی گنجائش ختم ہوچکی تھی۔ کیونکہ مجھے جواب میں ان دو بچوں کے بارے میں بھی بتانا پڑتا جو یہاں نہیں تھے اور یہ ایک بہت تکلیف دہ کام تھا۔

         ناعمہ نے کچھ سمجھتے ہوئے اور کچھ نہ سمجھنے کے انداز میں گردن ہلادی۔

…………………………

         واپسی پر میں نے صالح سے کہا:

         ’’یہاں کی زندگی میں تو خاندانوں میں بڑی ٹوٹ پھوٹ ہوجائے گی۔ کسی کی بیوی رہ گئی اور کسی کا شوہر رہ گیا۔‘‘

         ’’ہاں یہ سب تو ہوگا۔ آگے بڑھنے کا موقع تو وہ دنیا تھی جو گزرگئی۔ یہاں تو جو پیچھے رہ گیا سو رہ گیا۔ لیکن یہاں کوئی تنہا نہیں ہوگا۔ رہ جانے والوں کے انتظار میں کوئی نہیں رکے گا۔ نئے رشتے ناطے وجود میں آجائیں گے۔ نئے جوڑے بن جائیں گے۔ نئی شادیاں ہوجائیں گی۔‘‘

         ’’مگر یہاں ویسے خاندان تو نہیں ہوں گے جیسے دنیا میں ہوتے تھے۔‘‘

         ’’تم ٹھیک سمجھے ہو۔ دنیا میں خاندان کا ادارہ انسانوں کی بعض کمزوریوں کی بنا پر بنایا گیا تھا۔ بچوں کی پرورش اور بوڑھوں کی نگہداشت اس ادارے کا بنیادی مقصد تھا۔ خاندان کی مضبوطی اور استحکام کے لیے مردوں کو خاندان کا سربراہ بنایا گیا تھا۔ اسی خاندان کو جوڑے رکھنے کے لیے عورتوں کو بہت سے معاملات میں مردوں سے کمزور بنایا گیا تھا، جبکہ مردوں کو جبلی طور پر عورتوں کا محتاج کردیا گیا تھا۔ وہ مردوں کے لیے ایک نعمت بھی تھیں اور ضرورت بھی۔ اس کے بغیر دنیا کا نظم چل نہیں سکتا تھا۔ مگر اب یہاں معاملات جدا ہوں گے۔ عورتیں مردوں کے لیے ایک نعمت تو رہیں گی، مگر خود ان کی محتاج نہیں ہوں گی۔ اسی لیے ان کی قدر و قیمت بہت بڑھ جائے گی اور ان کا نخرہ بھی۔‘‘

         ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ اِس دنیا میں عورت ہونا زیادہ فائدے کی بات ہے۔ عورت جب چاہے گی مرد کی توجہ حاصل کرلے گی، مگر مرد کا عورتوں پر کوئی اختیار نہیں ہوگا حالانکہ وہ ان کے ضروت مند ہوں گے۔‘‘

         ’’ہاں یہ بات ٹھیک ہے۔‘‘

         ’’تو ہم مرد توپھر نقصان میں رہے۔‘‘

         ’’ہاں نقصان میں تو تم لوگ رہوگے۔‘‘

         ’’یہ تو بڑا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کا کوئی حل ہے؟‘‘

         ’’جنت کی نئی دنیا میں ہر چیز کا حل ہوتا ہے۔ حوریں اسی مسئلے کا حل ہیں۔‘‘

         ’’مگر ان سے تو خواتین کو جیلیسی محسوس ہوگی۔‘‘

         ’’نہیں ایسا نہیں ہوگا۔ حوریں اپنے اسٹیٹس اور خوبصورتی میں کبھی جنت کی خواتین کے برابر نہیں آسکتیں۔ اس لیے وہ جنتی خواتین کے لیے کبھی رشک و حسد کا باعث نہیں بنیں گی۔ جنت کی خواتین اپنے اعمال کی وجہ سے حوروں سے کہیں زیادہ خوبصورت اور بہت بڑے اسٹیٹس کی مالک ہوں گی۔ انہیں اس کی پروا نہیں ہوگی کہ ان کے شوہر کی اور دلچسپیاں کیا ہیں۔ ویسے بھی جنت انسانوں کی نہیں خدا کی دنیا ہے۔ تم جانتے ہو کہ انسانوں اور خدا کی دنیا میں کیا فرق ہوتا ہے؟‘‘

         میں خاموشی سے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھتا رہا۔ اس نے اپنے سوال کا خود ہی جواب دیا:

         ’’انسانوں کی دنیا میں رقیب سے حسد کی جاتی ہے۔ مگر خدا کی دنیا میں رقیب بھی محبوب ہوتا ہے۔‘‘

         ’’یہ بات تو لاجواب ہے، مگر اس مسئلے کا فیصلہ جنتی خواتین ہی کرسکتی ہیں ۔‘‘

         ’’جنت پاکیزہ لوگوں کے رہنے کی جگہ ہے۔ ان کی پاکیزگی خدا کی مہربانی سے کسی منفی جذبے کو ان کے پاس پھٹکنے نہیں دے گی۔‘‘، صالح نے میری بات کا براہ راست جواب دینے کے بجائے ایک اصولی بات بیان کی اور پھر اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا:

         ’’اصل میں تم ابھی تک انسانی دنیا کے اثرات سے نہیں نکلے ہو۔ پچھلی دنیا آزمائش کی دنیا تھی۔ اس لیے وہاں مثبت جذبوں کے ساتھ منفی جذبے بھی رکھ دیے گئے تھے۔ یہ منفی جذبے انسانی شخصیت کے اندر سے اٹھتے تھے۔ ہر مومن مرد و عورت کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ ہر طرح کے منفی حالات اور ماحول میں رہنے کے باوجود اپنے اندر پیدا ہونے والے منفی جذبات پر قابو پائے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے پسینہ، بول و براز، پیشاب اور پاخانہ وغیرہ انسانی جسم سے نکلنے والی گندگیاں تھیں۔ مگر حکم تھا کہ ہر گندگی سے اپنے وجود کو پاک رکھو تو تم لوگ پانی سے غسل و طہارت کرتے تھے۔ اسی طرح منفی جذبے بھی اندر سے پیدا ہونے والی گندگیاں تھیں۔ غصہ، نفرت، جھوٹ، حسد، تکبر، کینہ، ظلم اور ان جیسی تمام گندگیوں کے بارے میں حکم تھا کہ صبر کے پانی سے انہیں دھو ڈالو۔ مومن مرد و عورت زندگی بھر یہ مشقت اٹھاتے رہے۔ مگر آج کے دن انہیں ہر ایسی مشقت سے پاک کردیا جائے گا۔‘‘

         ’’یعنی؟‘‘

         ’’مطلب یہ کہ اب نہ ان کے جسم سے گندگیاں نکلیں گی اور نہ ان کے ذہن میں منفی جذبے اور خیالات ہی پیدا ہوں گے۔ جنت خوبصورت لوگوں کے رہنے کی ایک خوبصورت جگہ ہے جہاں کوئی بدصورت جذبہ باقی نہیں رہے گا۔‘‘

         ’’لیکن میرے خیال میں اس بحث میں اصل بات یہ سامنے آئی کہ حوریں جنت کی خواتین سے کمتر ہیں اور بس گزارے کے قابل ہیں۔ تبھی وہ ان سے حسد نہیں کریں گی۔‘‘

         پھر میں نے ہنستے ہوئے اپنی بات میں اضافہ کیا:

         ’’مسلمان خوامخواہ حوروں کے حسن کا چرچا سن کر ان کے دیوانے بنے اور بلاوجہ لوگوں کے طعنے سنتے رہے۔‘‘

         میرے مذاق کے جواب میں صالح نے سنجیدگی سے کہا:

         ’’یہ دونوں تمھاری غلط فہمیاں ہیں۔ بات یہ ہے کہ جنت میں تم مرد، عورتوں کے لیے کوئی ایسا قیمتی اثاثہ نہیں رہوگے جس کی وجہ سے وہ کسی سے حسد کریں۔ رہی حوریں تو ان کی اتنی تحقیر مت کرو کہ ان کے لیے ’کم تر‘ اور ’گزارے کے قابل‘ کے الفاظ بولو۔ وہ جنتی خواتین جیسی تو نہیں، مگر بہرحال ایسی بھی نہیں ہیں کہ تم ان کو کم تر سمجھو۔‘‘

         ’’اچھا تو وہ کیسی ہیں؟‘‘

         ’’میں بتاتا ہوں وہ کیسی ہیں۔ وہ حوریں نسوانی جمال کا آخری نمونہ اور جسمانی خوبصورتی کا آخری شاہکار ہیں۔ ان کا بے مثال حسن اور باکمال روپ؛ سرخی پاؤڈر کے سنگھار، گجروں کے تار، موتیوں کے ہار اور زیب و زینت کی جھنکارکا محتاج نہیں ہوتا۔ ان کے وجود کی تشکیل کے لیے کائنات اپنا ہر حسن مستعار دیتی ہے۔ پھول اپنے رنگ، ہوا اپنی لطافت، دریا اپنا بہاؤ، زمین اپنا ٹھہراؤ، تارے اپنی چمک، کلیاں اپنی مہک، چاند اپنی روشنی، سورج اپنی کرنیں، آسمان اپنا توازن، چوٹیاں اپنی بلندی اور وادیاں اپنے نشیب جب جمع کردیتے ہیں تو ایک حور وجود میں آتی ہے۔

         ان کا حسن خوبصورتی کے ہر معیار پر آخری درجہ میں پورا اترتا ہے۔ ان کا قد لمبا اور رنگ زردی مائل گورا ہے۔ پورے جسم کی جلد بے داغ اور شفاف ہے۔ آنکھیں بڑی بڑی اور گہری سیاہ ہیں، مگر ہر لباس کی مناسبت سے اس کے رنگ میں ڈھل سکتی ہیں۔ ان کی بھنویں ہموار اور پلکیں دراز ہیں۔ ان کی نظر عام طور پر جھکی رہتی ہے، مگر جب اٹھتی ہے تو تیر کی طرح دل تک جاپہنچتی ہے۔ ان کا چہرہ کتابی، پیشانی کشادہ، رخسار سرخی مائل، ناک ستواں، زبان شیریں اور ہونٹ گلاب کی طرح نازک اور دانت موتیوں کی طرح چمکدار ہیں۔ ان کے بال ریشم کی طرح نرم اور چمکدار اور ان کے سفید رنگ کے برعکس گہرے سیاہ اور پنڈلیوں تک لمبے ہیں۔ ان کی آواز سریلے نغمے کی طرح کان میں رس گھولتی، باتوں سے موتی جھڑتے اور مسکراہٹ سے رُت حسین ہوجاتی ہے۔ ان کے وجود میں حیا کا عطر اور سانسوں میں خوشبوؤں کی مہک ہے۔ ان کے لہجے میں نرمی، چلنے کے انداز میں دلربائی اور بولنے کے طریقے میں شان و وقار ہے۔ ان کے معطر وجود پر مخملی لباس اور چمکتے زیور بادلوں سے چھپتے کھلتے بدرِ کامل کا منظر پیش کرتے ہیں۔‘‘

         ’’تم نے حوروں کو دیکھا ہے؟‘‘

         ’’نہیں! انہیں کسی نے نہیں دیکھا۔ صرف ان کا احوال سنا ہے۔ وہی تمھیں سنارہا ہوں۔‘‘

         یہ کہتے ہوئے اس نے سلسلہ بیان جاری رکھا لیکن اس دفعہ اشعار میں اپنے مدعا بیان کرنے لگا:

         صالح بے تکان بول رہا تھا اور میں خاموشی سے اس کی شکل دیکھ رہا تھا۔ اس نے جب اشعار پڑھ لیے تو میں نے کہا:

         ’’تمھاری باتیں واقعی مبالغہ، کہانیاں اور خواب لگ رہی ہیں۔ لیکن یہ اگر خواب ہے تو بہت دلکش خواب ہے۔‘‘

         ’’یہ خواب ابھی ختم نہیں ہوا۔ سنو! ایک حور کا وجود بل کھاتی ندی کی طرح ڈھلتا ہے جو آسمان کی سیاہ گھٹاؤں سے برف کی صورت اپنے سفر کا آغاز کرتی، چوٹیوں پر ڈیرہ ڈالتی، جھرنوں اور آبشاروں کی صورت نکلتی، ڈھلانوں میں اترتی، میدانوں میں ٹھہرتی، بلندیوں کو چھوتی، نشیب کی طرف بڑھتی، ٹیلوں کو عبور کرتی ہوئی وادیوں تک پہنچتی ہے اور آخر کار نیکی، پارسائی اور تقوی کے اس سمندر پر اپنا وجود نچھاور کردیتی ہے جس نے زندگی صبر اور تقویٰ کے ساتھ گزاری۔ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ یہ ندی اپنے پورے سفر میں کسی نجاست، کسی آلودگی کا شکار نہیں ہوتی۔ ہر نامحرم نگاہ کو اپنی دید اور لمس سے دور رکھتی ہے۔ یہ ہزاروں میل کا سفر پاکدامنی کے ساتھ طے کرتی ہے اس لیے پاکدامن سے کم کسی شخص کو قبول نہیں کرتی۔ اور آخر کار سیل ِشباب کی چڑھتی گھٹتی موج کا سا ان کا وجود اپنے سمندر میں ہمیشہ کے لیے ضم ہوجاتا ہے۔‘‘

         ’’مجھے سمجھ ہی نہیں آتا کہ تعریف حوروں کی کروں یا تمھارے بیان کی۔‘‘

         ’’تعریف تو صرف اﷲ کی ہونی چاہیے۔‘‘

         ’’اس میں تو کوئی شک نہیں کہ تعریف و توصیف تو صرف اﷲ ہی کی ہونی چاہیے۔ مگر یہ بتاؤ کہ کیا یہ انسان ہوں گی؟‘‘

         ’’ہاں یہ بھی انسان ہیں۔ اسی طرح اہل جنت کے وہ خدام جنہیں غلمان کہا جاتا ہے، وہ بھی انسان ہی ہیں۔ یہ وہ لڑکے ہیں جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔‘‘

         ’’یہ لڑکے کیوں رہیں گے، ملازم اور خادم تو وہ بہتر ہوتا ہے جو زیادہ عمر کا ہو اور زیادہ سمجھ رکھتا ہو؟‘‘، میں نے ذہن میں آنے والا ایک اعتراض جڑ دیا۔

         ’’نہیں ایسا نہیں ہے۔ یہ کم عمر ہونے کے باوجود بلا کے مزاج شناس ہوں گے۔ اہل جنت کی مجلسوں میں جب کسی جنتی کا مشروب ختم ہوگا تو یہ اس کی نظر دیکھیں گے اور بلا کچھ کہے سنے اس کے گلاس میں مطلوبہ شراب اتنی ہی مقدار میں ڈالیں گے جتنی اسے ضرورت ہوگی۔ اس لیے ان کی سمجھ بوجھ اور مزاج شناسی کی تو کوئی حد نہیں ہوگی البتہ انہیں لڑکوں کی شکل میں اس لیے رکھا جائے گا کہ جسمانی طور پر مستعد رہیں اور لمحہ بھر میں ہر خدمت بجالائیں۔ ان کا لباس، شکل اور حلیہ انہیں ایسا بنادے گا گویا محفل میں قیمتی موتی بکھرے ہوئے ہیں۔ ان کے ابدی طور پر کم عمر لڑکے بنائے جانے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کو کبھی ازدواجی تعلق کی ضرورت نہ ہو۔ جبکہ حوریں مکمل شباب کی عمر کو پہنچی ہوئی لڑکیاں ہوں گی اور اہل جنت کی بیویاں ہوں گی۔‘‘

         ’’کیا حوریں اور غلمان اہل جنت کے لیے خاص طور پر تخلیق کیے جائیں گے؟‘‘

         ’’یہ ایک لمبی کہانی ہے۔‘‘

         ’’ہمارے پاس وقت کی کون سی کمی ہے۔ یہ لمبی کہانی بھی سناتے جاؤ۔‘‘

         ’’سنو! آج کا دن انسانوں کا پہلا محشر نہیں ہے۔‘‘

         ’’کیا مطلب! کیا قیامت پہلے بھی آچکی ہے؟‘‘

         ’’قیامت تو پہلے نہیں آئی البتہ اول تا آخر سارے انسان ایک دفعہ پہلے بھی پیدا کیے جاچکے ہیں۔‘‘

         ’’یہ کب ہوا تھا؟‘‘

         ’’یہ تو تم اﷲ تعالیٰ سے جنت میں جاکر خود پوچھنا۔ مجھے تو صرف اتنا معلوم ہے کہ یہ ہوا تھا۔ دراصل جس آزمائش میں انسان کو ڈالا گیا تھا، یہ پہلا محشر اس کہانی کا دوسرا واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ یہ تھا کہ اﷲ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کے سامنے یہ موقع رکھا تھا کہ وہ جنت میں اﷲ تعالیٰ کی ابدی رفاقت کا شرف حاصل کرلیں۔ لیکن اس کے لیے انہیں دنیا میں کچھ وقت ایسے گزارنا ہوگا کہ خدا ان کے سامنے نہیں ہوگا۔ صرف اس کے احکام ان کے سامنے آئیں گے اور انہیں بن دیکھے رب کی عبادت اور اطاعت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ زمین کی بادشاہی عارضی طور پر امانتاً اس مخلوق کو دے دی جائے گی اور اپنی بادشاہی کے زمانے میں اس مخلوق کو اپنے بارے میں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ صاحب اختیار بادشاہ ہونے کے باوجود بن دیکھے خد اکی اطاعت کے لیے تیار ہے۔ جس کسی نے اقتدار اور اختیار کی اس امانت کا درست استعمال کیا اس کا بدلہ جنت میں خدا کی ابدی رفاقت ہوگی اور ناکامی کی صورت میں جہنم کا عذاب۔‘‘

         ’’تو پھر کیا ہوا؟‘‘

         ’’یہ ہوا کہ ساری مخلوقات ڈر کے پیچھے ہٹ گئیں۔ اس لیے کہ جنت جتنی حسین ہے، جہنم اتنی ہی بھیانک جگہ ہے۔ حشر کی سختی کو تو ابھی تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اس کے بعد کون عقل مند اس امتحان میں کودنے کی کوشش کرتا۔‘‘

         ’’اور غالباً ہم جذباتی انسان اس امتحان میں کود پڑے۔‘‘، میں نے لقمہ دیا۔

         ’’ہاں یہی ہوا تھا۔ لیکن خدائی امانت اٹھانے کا یہ عزم روح انسانی نے اجتماعی طور پر کیا تھا۔ اس لیے خد اکے عدل کا تقاضا یہ تھا کہ ہر ہر انسان کوپیدا کرکے براہ راست اس سے یہ معلوم کیا جائے کہ وہ کس حد تک اس امتحان میں اترنے کے لیے تیار ہے۔

         عبد اﷲ! یہ اس لیے ہوا کہ تمھارا رب کسی پر رائی کے دانے کے برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔ سو اس نے سب انسانوں کو پیدا کیا۔ سب کے سامنے اپنے پورے منصوبے کو رکھا۔ ظاہر ہے انسانوں کی اکثریت پہلے ہی اس مقصد کے لیے تیار تھی۔ اسی لیے وہ پورے شعور کے ساتھ اس امتحان میں کودنے کے لیے تیار ہوگئے۔ البتہ جن لوگوں نے یہ خطرہ مول لینے سے انکار کردیا، ان سب کے بارے میں یہ فیصلہ ہوا کہ انسانی گھروں میں جو بچے پیدا ہوتے اور بلوغت سے پہلے ہی مرجاتے ہیں، ان لوگوں کو یہی کردار سونپ دیا جائے۔ اور یہی بچے بچیاں جنت کی بستی میں حور و غلمان بنادیے جائیں گے۔‘‘

         ’’اور باقی لوگ اس کڑے امتحان میں اترنے کے لیے تیار ہوگئے؟‘‘

         ’’اس میں بھی خدا کی کریم ہستی نے کمال عنایت کا مظاہرہ کیا تھا۔ تم جانتے ہو کہ دنیا میں سب کا امتحان یکساں نہیں ہوتا۔ یہ امتحان بھی اس روز ہر شخص نے اپنی مرضی سے چن لیا تھا۔ جو بہت زیادہ حوصلہ مند لوگ تھے انہوں نے نبیوں کا زمانہ چن لیا۔ ان لوگوں کا امتحان یہ تھا کہ ہر سو پھیلی گمراہی کے دور میں انبیا کی تصدیق کرکے ان کا ساتھ دیں۔ ان کی کامیابی کے لیے اصل شرط یہ تھی کہ بدترین مخالفت میں بھی ثابت قدم رہیں، اس راہ میں ہر مشکل کو برداشت کریں اور انبیا کا پیغام آگے پہنچائیں۔ اس لیے ان کا اجر بھی بڑا رکھا گیا، مگر انہیں انبیا کی براہ راست رہنمائی کی سہولت کی بنا پر کفر و انکار کی صورت میں عذاب بھی اتنا ہی شدید ہوتا۔ انہی لوگوں میں ایک طرف ابوبکر ؓ جیسے لوگ تھے اور دوسری طرف ابولہب جیسے دشمنانِ حق۔

         آزمائش کی دوسری سطح وہ تھی جس میں لوگوں نے امت مسلمہ اور نبیوں کے بعد ان کی امت میں شامل ہونے کا پرچۂ امتحان چنا۔ ان لوگوں کا امتحان یہ تھا کہ بعد کے زمانے میں پیدا ہونے والی گمراہیوں، فرقہ واریت، بدعت اور غفلت سے بچ کر شریعت کے تقاضوں کو ہر حال میں نبھاتے رہیں اور معاشرے کے خیر و شر سے لاتعلق ہونے کے بجائے لوگوں میں نیکی کو پھیلائیں اور انہیں برائی سے روکیں۔ یہ ذمہ داریاں ان پر اس لیے عائد کی گئیں کہ ان کے پاس انبیا کی تعلیمات تھیں اور وہ پیدائشی مسلمان تھے جنھیں قبول اسلام کے لیے کسی کڑی آزمائش سے نہیں گزرنا پڑا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ عام انسانوں کے مقابلے میں ان کی رہنمائی زیادہ کی گئی، انھیں زیادہ اجر کمانے کے مواقع دیے گئے، لیکن غفلت کی صورت میں ان کا حساب کتاب اتنا ہی سخت ہونا طے پایا۔‘‘

         ’’میرا اور دیگر مسلمانوں کا تعلق اسی گروہ سے تھا نا؟‘‘

         ’’ہاں تم ٹھیک سمجھے۔ تیسرا گروہ ان لوگوں کا تھا جنہوں نے اپنا پرچۂ امتحان بہت سادہ رکھا۔ یہ سارے لوگ نبیوں کی براہ راست رہنمائی کے بغیر پیدا کیے گئے اور ان کا پرچۂ امتحان فطرت میں موجود ربانی ہدایت تھی۔ یعنی توحید اور اخلاق کا امتحان۔ انہیں عام مسلمانوں کی طرح نہ شریعت کے امتحان میں ڈالا گیا نہ نبیوں کی رفاقت کے کڑے امتحان میں۔ ظاہر ہے کہ ان کا حساب کتاب سب سے ہلکا ہوگا، ان کے لیے شدید عذاب کا اندیشہ بھی کم ہے اور اجر کے مواقع بھی اسی تناسب سے کم ہیں۔‘‘

         ’’اور انبیا کا معاملہ کیا تھا؟‘‘

         ’’انہوں نے امتحان کا سب سے سخت پرچہ چنا۔ اس لیے ان کی رہنمائی براہِ راست اﷲ تعالیٰ کی طرف سے کی گئی اور اسی لیے ا ن کے احتساب کا معیار بھی سب سے زیادہ سخت تھا۔ تمھیں تو معلوم ہے کہ حضرت یونس کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ انہوں نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا۔ صرف ایک اجتہاد تھا ۔ لیکن دیکھو ان کو کس طرح اﷲ تعالیٰ نے مچھلی کے پیٹ میں بند کردیا۔‘‘

         پھر اس نے اس طویل گفتگو کا خلاصہ کرتے ہوئے کہا:

         ’’اصل اصول جوتمام اقسام کے گروہوں میں کام کررہا ہے وہ ایک ہی ہے۔ زیادہ رہنمائی، زیادہ سخت حساب کتاب اور زیادہ بڑی سزا جزا۔ کم رہنمائی، ہلکا حساب کتاب، کم سزا جزا۔ مگر کسی انسان کا تعلق کس گروہ سے ہے اس کا انتخاب انسانوں نے خود کیا ہے،اﷲ تعالیٰ نے نہیں۔‘‘

         ’’اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر دنیا میں میری رہنمائی بہت زیادہ کی گئی تویہ دراصل میری اپنی درخواست کے نتیجے میں کی گئی تھی۔‘‘

         ’’ہاں بالکل ایسا ہی ہے۔ اسی وجہ سے تم آج اتنا اونچا درجہ پانے میں کامیاب ہوگئے۔ اگر تم اس رہنمائی کی قدر نہ کرتے تو تمھیں اتنا ہی شدید عذاب دیا جاتا۔‘‘

         ’’یار میں نے کتنا بڑا رسک لے لیا تھا۔‘‘

         ’’یہی تمھاری دنیا کا اصول تھا۔ No Risk No Gain‘‘

         مجھے اس لمحے میں احساس ہوا کہ میں نے کیا پالیا ہے اور کس خطرے سے نکل گیا ہوں۔ میں بے اختیار سجدے میں گرگیا۔ دیر تک میں اپنے رب کا شکر ادا کرتا رہا جس نے مجھے اس عظیم امتحان میں سرخرو کردیا تھا۔ اتنے میں صالح نے میری پیٹھ تھپکتے ہوئے مجھ سے کہا:

         ’’عبد اﷲ! اٹھو۔‘‘

         میں اٹھ کر کھڑا ہوا اور صالح کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر بولا:

         ’’صالح اب میں کبھی نہیں مروں گا۔ میری زندگی میں کبھی کوئی بیماری، بڑھاپا، خوف، غم، حزن، اداسی اور مایوسی نہیں آئے گی۔ میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں اچھلوں، کودوں، ناچوں، قہقہے لگاؤں اور پوری دنیا کوچیخ چیخ کر بتاؤں کہ لوگو! میں کامیاب ہوگیا۔ لوگو! میں کامیاب ہوگیا۔ آج سے میری بادشاہت شروع ہوتی ہے۔ آج سے میری زندگی شروع ہوتی ہے۔‘‘

         صالح خاموشی سے مسکراتے ہوئے مجھے دیکھتا رہا۔ میرے خاموش ہونے پر وہ بولا:

         ’’زندگی تو شروع ہوگی۔ ابھی تو ہمیں واپس حشر میں لوٹنا ہے۔ بہت سے احوال دیکھنے ہیں۔ خدا نے تمھیں بڑا غیر معمولی موقع دیا ہے۔ آؤ میدان حشر میں چلتے ہیں۔‘‘

 

پانچواں باب    دو سہیلیاں                      

 

         ہم ایک دفعہ پھر میدان حشرمیں کھڑے تھے۔ بچوں سے متعلق ناعمہ کا سوال میرے کانوں میں گونج رہا تھا۔ میں نے صالح سے کہا:

         ’’میں اپنے ان دونوں بچو ں سے ملنا چاہتا ہوں جو یہاں موجود ہیں۔‘‘

         ’’اس کا مطلب ہے کہ تم ذہنی طور پران دونوں سے ان کے برے حال میں ملنے کے لیے تیار ہوچکے ہو۔‘‘

         ’’ہاں شاید میں پہلے خود میں یہ حوصلہ نہیں پارہا تھا۔ میرے لیے تو اپنے استاد کا صدمہ بہت تھا۔ پھر اپنی بہو ھما کو برے حال میں دیکھ کر میرے اوسان خطا ہوگئے۔ مگر اب مجھے اندازہ ہوچکا ہے کہ ناگزیر کا سامنا کرنے کا وقت آگیا ہے۔‘‘

         ’’ہاں ابھی حشر کا دن ہے۔ یہ صرف جنت میں جانے کے بعد ہی ہوگا کہ انسان کے لیے ہر صدمہ اور ہرخوف و حزن ختم ہوجائے گا۔‘‘، صالح نے مجھ پر طاری ہونے والے غم کی توجیہ کی۔

         ’’یہی تعبیر قرآن پاک میں جنت کے لیے استعمال ہوئی ہے۔ وہ جگہ جہاں ماضی کا کوئی پچھتاوہ ہے اور نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ۔‘‘، میں نے اس کی تائید میں قرآن پاک کی ایک آیت کا حوالہ دیا۔ جواب میں صالح نے ایک اور بہت اہم بات کو واضح کرتے ہوئے کہا:

         ’’ہاں جنت ایسی ہی جگہ ہے۔ حساب جب شروع ہوگا تو جنت و جہنم کو قریب لے آیا جائے گا۔ ہر شخص کی جنت یا جہنم کا جب فیصلہ ہوگا تو اسی وقت اس کو یہ بھی بتادیا جائے گا کہ اسے کیا نہیں ملا۔ یعنی اسے کس عذاب سے بچالیا گیا یا کس نعمت سے محروم کردیا گیا ہے۔‘‘

         ’’کیا مطلب؟‘‘، میری آنکھوں میں تفصیل جاننے کی خواہش تھی۔

         ’’مطلب یہ کہ ایک شخص کے بارے میں اگر جنت کا فیصلہ ہوا تو اسی وقت اسے یہ بھی بتایا جائے گا کہ جہنم میں اس شخص کا ممکنہ ٹھکانہ کیا تھا، جس سے اسے بچالیا گیا ہے۔ اسی طرح فیصلہ اگر جہنم کا ہوا تو اس مجرم کو یہ بھی بتادیا جائے گا کہ جنت میں اس کا ممکنہ طور پر کیا مقام محفوظ تھا جو اس نے اپنی بداعمالیوں سے ضایع کردیا۔‘‘

         ’’یہ تو خود اپنی ذات میں ایک بہت بڑا عذاب ہوگا۔‘‘

         ’’ہاں اہل جنت کے لیے سب سے بڑی اور پہلی خوشی اس جہنم سے بچنا ہوگی اور اہل جہنم کے لیے سب سے پہلا عذاب یہ پچھتاوہ کہ کس اعلیٰ نعمت اور عظیم درجے سے وہ ابدی طور پر محروم ہوچکے ہیں۔ تمھیں کچھ دیر قبل بیان کردہ میری یہ بات یاد ہوگی کہ جس انسان نے روز ازل اپنے لیے جنت میں ترقی کا جتنا بڑا امکان چاہا، اس نے جہنم کے بھی اتنے ہی زیادہ پست مقام کا خطرہ مول لے لیا تھا۔ سو آج اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ جنت میں اعلیٰ مقام ملنے کی مسرت کے ہمراہ جہنم میں سخت ترین عذاب سے بچنے کی نوید بھی ملے گی اور جہنم میں پست ترین مقام کی مصیبت کے ساتھ جنت کے اعلیٰ ترین درجات سے محرومی کی حسرت بھی اسی تناسب سے زیادہ ہوگی۔‘‘

         ’’میرے خدایا!‘‘، میرے منہ سے بے اختیار نکلا۔

         ہم یہ گفتگو کررہے تھے اور آہستہ آہستہ چلتے جارہے تھے۔ حشر کے احوال ابھی تک وہی تھے یا شاید کچھ سخت تر ہوچکے تھے۔ وہی رونا پیٹنا۔ وہی پریشانی و بدحالی۔ وہی حسرت و ندامت۔ وہی اضطراب و بے چینی۔ وہی حزن و مایوسی۔ ہر چہرے پر سوال تھا، مگر جواب کہیں نہیں تھا۔ ہر چہرے پر اضمحلال تھا، مگر سکون کہیں نہیں تھا۔ میں نے دل میں سوچا پتہ نہیں میری بیٹی اور بیٹے پر کیا بیت رہی ہوگی۔

…………………………

         اسی میدان میں ایک جگہ دو لڑکیاں پتھریلی زمین پر بے یار و مددگار بیٹھی ہوئی تھیں۔ دونوں کی آنکھیں بری طرح سوج رہی تھیں۔ صاف لگ رہا تھا کہ روتے روتے ان کی یہ حالت ہوچکی ہے۔ نڈھال جسم، پریشان چہرہ اور پژمردہ آنکھیں۔ ان کے دکھ کی کہانی ان کے چہرے پر دور سے پڑھی جاسکتی تھی۔ ان میں سے ایک زیادہ بدحال لڑکی دوسری سے کہنے لگی:

         ’’لیلیٰ! مجھے یقین نہیں آرہا کہ یہ سب کچھ سچ ہے۔ انسان موت کے بعد دوبارہ اس طرح زندہ ہوسکتے ہیں۔ دنیا کی زندگی کے بعد ایک نئی دنیا شروع ہوسکتی ہے۔ نہیں…… مجھے یقین نہیں آتا۔ کاش یہ ایک بھیانک خواب ہو۔ کاش میری آنکھ کھلے اور میں اپنے ٹھنڈے ائیر کنڈیشنڈ بیڈ روم کے نرم و نازک بستر پر لیٹی ہوئی ہوں۔ اور پھر کالج آکر میں تمھیں بتاؤں کہ آج میں نے ایک بہت بھیانک خواب دیکھا ہے…… کاش یہ خواب ہو۔ کاش یہ خواب ہو۔‘‘

         یہ کہتے ہوئے وہ بلک بلک کر رونے لگی۔

         لیلیٰ نے روتی ہوئی عاصمہ سے کہا:

         ’’یقین کرنے نہ کرنے سے اب کیا فرق پڑتا ہے۔ یہ خواب نہیں حقیقت ہے۔ خواب تو وہ تھا جو ہم پچھلی دنیا میں دیکھ رہے تھے۔ آنکھ تو اب کھلی ہے عاصمہ! آنکھ تو اب کھلی ہے، مگر اب آنکھ کھلنے کا کیا فائدہ؟‘‘

         کچھ دیر کے لیے خاموشی چھاگئی۔ پھر لیلیٰ حسرت کے ساتھ عاصمہ سے بولی:

         ’’کاش میری تم سے دوستی نہ ہوتی! کاش میں تمھارے راستے پر نہ چلتی!‘‘

         ’’ہاں…… کاش میں تمھارے راستے پر چلتی تو ہم دونوں کا یہ حال نہ ہوتا۔ پتہ نہیں اب آگے کیا ہوگا۔‘‘، عاصمہ کا لہجہ بھی افسردہ تھا۔

         خاموشی کے ایک وقفے کے بعد عاصمہ نے لیلیٰ سے مخاطب ہوکر کہا:

         ’’لیلیٰ یہ تو بتاؤ دنیا میں ہم کتنے دن رہے تھے۔‘‘

         ’’پتہ نہیں…… ایک دن…… یا دس دن۔ یا شاید بس ایک پہر۔ اس وقت تو یوں لگتا تھا کہ زندگی کبھی ختم نہ ہوگی۔ مگر اب تو سب کچھ بس ایک خواب لگتا ہے۔‘‘

         ’’مجھے تو اب اس خواب کی کوئی جھلک بھی یاد نہیں آرہی۔‘‘

         یہ کہتے ہوئے عاصمہ ماضی کے دھندلکوں میں کھوگئی۔ شاید وہ ماضی کے ورق الٹ کر کوئی ایسا پہر ڈھونڈ رہی تھی جس کی یاد آج تسلی کا کچھ سہارا بن جاتی۔ مگر اس کی یادداشت میں کوئی ایسا پہر نہیں آیا۔ جو کچھ یاد آیا وہ خود ایک فردقراردادِ جرم کی حیثیت رکھتا تھا۔

…………………………

         ’’میں آج قیامت لگ رہی ہوں نا۔‘‘

         عاصمہ نے ایک ادا سے جسم کو لہرایا اور کسی ماڈل کے انداز میں دو قدم چل کر لیلیٰ کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ لیلیٰ اپنی درسگاہ کے احاطے میں درختوں کے سائے تلے بچھائی گئی ایک بینچ پر بیٹھی ہوئی جوس پی رہی تھی اور اس کے سامنے اس کی عزیز سہیلی عاصمہ لہراتی بل کھاتی اپنے نئے کپڑوں کی نمائش کررہی تھی۔ لیلیٰ خاموش رہی تو عاصمہ نے دوبارہ کہا:

         ’’میں کیسی لگ رہی ہوں؟‘‘

         ’’تم کپڑے پہن کر بھی برہنہ لگ رہی ہو۔‘‘

         لیلیٰ نے بے نیازی سے جوس کا ایک سپ لیتے ہوئے اس کے لباس پر تبصرہ کیا۔

         ’’وہاٹ……‘‘

         ’’سچ کہہ رہی ہوں۔ یہ لان کا پرنٹ ہے تو بہت شاندار، مگر اس سے تمھارا پورا جسم جھلک رہا ہے۔ آستینیں تو تم پہننے کی عادی ویسے ہی نہیں ہو۔ مگر اس لباس میں تو بازوؤں کے ساتھ تمھارے کندھے بھی برہنہ نظر آرہے ہیں۔‘‘

         ’’ویل ویل میڈم! ڈونٹ کنڈم می۔ میں نے آپ کے کہنے سے یہ ایسٹرن ڈریس پہنا ہے۔ ورنہ مجھے صرف جینز اور ٹی شرٹ پسند ہے۔‘‘

         ’’یہ آدھی بات ہے۔ پوری بات یہ ہے کہ ٹائٹ جینز اور چست سلیو لیس ٹی شرٹ۔‘‘

         ’’اور کیا یہاں برقعہ پہن کر آؤں؟‘‘، عاصمہ نے طنزیہ انداز میں پوچھا۔

         ’’عاصمہ یہاں لڑکے بھی پڑھتے ہیں۔ ہمیں محتاط رہنا چاہیے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔‘‘، لیلیٰ نے اسے ناصحانہ انداز میں سمجھاتے ہوئے کہا۔

         ’’سوری یہ تمھاری رائے ہے، ورنہ ذمہ داری تو ان لڑکوں کی ہے کہ اپنی نظریں جھکاکر رکھیں۔ کوئی مولوی انھیں یہ کیوں نہیں بتاتا۔‘‘

         ’’یقیناً یہ ان کی ذمہ داری ہے، مگر کیا ہماری کوئی ذمہ داری نہیں ہے؟‘‘

         لیلیٰ کے اس جواب پر عاصمہ تنک کربولی :

         ’’کیا ہم اپنی پسند کے کپڑے بھی نہ پہنیں؟ خوبصورت بھی نظر نہ آئیں؟‘‘

         ’’ضرور پہنو اور ضرور خوبصورت لگو، مگر حیا کے دائرے میں رہتے ہوئے۔‘‘

         ’’بس کرو یار۔ یہاں ایک میڈم شائستہ ہیں جو ہر وقت ایسے ہی موڈسٹی پر لیکچر دیتی رہتی ہیں اور دوسری تم ہو۔ سنو! ان کے نقش قدم پر مت چلو ورنہ ان کے جیسا ہی انجام ہوگا۔ ساری زندگی گھر بیٹھی رہ جاؤ گی موڈسٹ بن کر۔ تمھاری بھی کہیں شادی نہیں ہوگی۔‘‘

         ’’عاصمہ بری بات ہے۔ اتنی اچھی اور نیک ٹیچر ہیں اور تم ہو کہ ان کا مذاق اڑا رہی ہو۔ ان کی شادی نہیں ہوئی تو اس میں ان کی موڈسٹی کا نہیں ہمارے معاشرے کا قصور ہے۔‘‘

         ’’ارے چھوڑو یار یہ فضول بحث۔ یہ دیکھو یہ جو لان کا پرنٹ میں نے پہنا ہے وہ سپر ماڈل ایکٹریس چمپا نے لانچ کیا ہے اور اس کا ڈیرائنز بھی انٹرنیشنل شہرت کا مالک ہے۔ پتہ ہے ایک سوٹ بیس ہزار کا ہے۔ تم نے تو ایگزیبیشن میں جانے سے انکار کردیا تھا، مگر وہاں بڑا مزہ آیا۔ آخر میں فیشن شو بھی تھا۔ اسی میں چمپا نے یہ اسٹائل پہنا تھا جسے میں نے کاپی کیا ہے۔ تم بھی بنوالو۔‘‘

         ’’اور اس کے بعد میرے گھر والے مجھے گھر سے نکال دیں گے۔‘‘

         ’’ڈونٹ وری۔ میں تمھیں اپنے ہاں رکھ لوں گی۔ ویسے بھی تمھارے گھر والے بڑے آرتھوڈوکس ہیں۔ تمھاری امی…… ناعمہ آنٹی ہیں تو اچھی خاتون، بس ہروقت نصیحت کرتی رہتی ہیں اور تمھارے ابا…… عبداﷲ انکل…… وہ تو لگتا ہے کہ ساری دنیا میں اسلام پھیلاکر ہی دم لیں گے۔ ایسے ہی تمھارے باقی بہن بھائی ہیں، بس ایک تمھارے بڑے بھائی جمشید ہی ڈھنگ کے ہیں۔ اسی لیے شاید تم لوگوں کے ساتھ نہیں رہتے۔‘‘

         ’’ابا تو سمجھتے ہیں کہ وہی سب سے زیادہ ان سے دور ہوچکے ہیں۔ اور بقول امی کے انھوں نے مجھے بھی خراب کردیا ہے۔‘‘

         ’’کیا خرابی ہے تم میں۔ تم تو مجھے ویسے ہی بڑی نیک لگتی ہو۔‘‘

         ’’میں اور نیک؟ بس مارے باندھے بچپن کی عادت کی بنا پر روزہ نمازکرلیتی ہوں۔ باقی میں تمھارے ساتھ رہ کر تمھارے جیسے ہی کام کرتی ہوں۔‘‘

         ’’مگر یہ تو دیکھو کہ میرے ساتھ مزہ کتنا آتا ہے۔ پچاس برس کی زندگی ہے۔ خوب کھاؤ پیو اور انجوائے کرو۔‘‘

         ’’ہاں تمھارے ساتھ مزہ تو آتا ہے، مگر ابو کہتے ہیں کہ آخرت میں اگر ایک دن کے لیے بھی پکڑ ہوگئی تو وہاں کا ایک دن ہزاروں برس کا ہوتا ہے۔ اس میں پچاس سالہ زندگی کا سارا نشہ ہرن ہوجائے گا۔ ان کی تربیت سے میری امی، بہنیں اور بھائی انور سب ہی نیکی کی زندگی گزارتے ہیں۔‘‘

         ’’ڈونٹ ٹالک اباؤٹ دیم۔ وہ نیکی کی نہیں بوریت کی زندگی گزارتے ہیں۔ اس بور زندگی کے تصور سے مجھے وحشت ہوتی ہے۔ میں نے اسی لیے تمھارے گھر جانا اب کم کردیا ہے۔ ہر وقت جنت کی باتیں۔ ہر وقت آخرت اور نیکی کی باتیں۔ عبادت کرو، نماز پڑھو، روزہ رکھو، دوپٹہ سینے پر رکھو، سر ڈھانکو۔ آئی ڈونٹ لائک دز ربش۔‘‘

         عاصمہ کی اس بات سے لیلیٰ کے چہرے پر کچھ ناگواری کے آثار ظاہر ہوئے۔ وہ بولی:

         ’’ایسا مت کہو عاصمہ۔ میرے گھر والوں نے تم سے کبھی کچھ نہیں کہا۔ وہ بیچارے جو کرتے ہیں خود کرتے ہیں یا مجھے تلقین کرتے ہیں۔ تم سے تو کچھ نہیں کہتے۔ صرف ایک دفعہ میرے ابا نے تم سے یہ کہا تھا کہ بیٹا تم میری بیٹی کی سہیلی ہو۔ دیکھو ایسی سہیلی بننا جو جنت میں بھی اس کے ساتھ رہے۔ ایسا نہ ہو کہ تم دونوں خدا کو ناراض کردو اور کسی بری جگہ تم دونوں کو ساتھ رہنا پڑے۔ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تم دونوں ایک دوسرے کو الزام دو کہ تمھاری دوستی نے مجھے برباد کردیا۔‘‘  

         ’’سوری بھئی تم تو برا مان گئیں۔ لیکن دیکھو تم نے اپنے ابا کی تقریر مجھے پھر سنادی۔ ان بے چاروں کے سر پر ہر وقت قیامت سوار رہتی ہے۔‘‘

         عاصمہ کے اس جملے سے لیلیٰ کے چہرے کا رنگ بدلا۔ اس کے تیور دیکھ کر وہ فوراً بولی:

         ’’سوری سوری ناراض نہ ہونا۔ اب تمھارے ابا کو کچھ نہیں کہوں گی۔ چلو کینٹین چل کر کچھ کھاتے ہیں۔ مجھے بڑی بھوک لگ رہی ہے۔‘‘

…………………………

         میدان حشر میں غضب کی گرمی تھی۔ میں سوچ رہا تھا کہ نجانے لوگ پیاس سے زیادہ پریشان ہوں گے یا پھر اس اندیشے سے کہ کہیں انھیں جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں نہ پھینک دیا جائے۔ میں اسی خیال میں تھا کہ صالح کی آواز کانوں سے ٹکرائی:

         ’’عبداﷲ! تیار ہوجاؤ۔ میں تمھیں تمھاری بیٹی سے ملوانے لے جارہا ہوں۔‘‘

         بے اختیار میں نے اپنا نچلا ہونٹ اپنے دانتوں میں دبالیا۔ ہم کچھ قدم آگے چلے تو کھردری پتھریلی سطح پر دو لڑکیاں بیٹھی نظر آئیں۔ میں دور ہی سے ان دونوں کو پہچان گیا۔ ان میں سے ایک لیلیٰ تھی۔ میری سب سے چھوٹی اور چہیتی بیٹی۔ دوسری عاصمہ تھی۔ میری بیٹی کی عزیز ترین سہیلی۔

         اس وقت ماحول میں سخت ترین گرمی تھی۔ لوگوں کے بدن سے پسینہ پانی کی طرح بہہ رہا تھا۔ بھوک تو پریشانی کے عالم میں اڑ چکی تھی، مگر پیاس کے عذاب نے ہر شخص کو پریشان کررکھا تھا۔ یہ دونوں بھی پیاس سے نڈھال بیٹھی تھیں۔ عاصمہ کی حالت بہت خراب تھی اور پیاس کی شدت کے مارے وہ اپنے بازو سے بہتا ہوا اپنا پسینہ چاٹ رہی تھی۔ ظاہر ہے اس سے پیاس کیا بجھتی۔ اس نے مزید بھڑکنا تھا۔ جبکہ لیلیٰ اپنا سر گھٹنوں میں دیے بیٹھی تھی۔

         عاصمہ ایک بڑے دولتمند خاندان کی اکلوتی چشم و چراغ تھی۔ خدا نے حسن، دولت، اسٹیٹس ہر چیز سے نوازا تھا۔ ماں باپ نے اپنی چہیتی بیٹی کو اعلیٰ ترین اداروں میں تعلیم دلوائی۔ بچپن سے اردو کی ہوا تک نہیں لگنے دی گئی۔ عربی اور قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنے کا تو کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ انگلش میڈیم اسکولوں کا اتنا اثر تھا کہ بچی انگریزی انگریزوں سے زیادہ اچھی بولتی تھی۔ مگر ایسے اسکولوں میں زبان زبان دانی کے طور پر نہیں بلکہ ایک برتر تہذیب کی غلامی کے احساس میں سیکھی جاتی ہے۔ چنانچہ زبان کے ساتھ مغربی تہذیب اپنے بیشتر لوازمات سمیت در آئی تھی۔ سلام کی جگہ ہیلو ہائے، لباس میں جینز شرٹ، انگزیزی میوزک اور فلمیں وغیرہ زندگی کا لازمہ تھے۔ تاہم عاصمہ خاندانی طور پر نودولتیے پس منظر کی نہیں بلکہ خاندانی رئیس تھی، اس لیے کم از کم ظاہر کی حد تک ایک درجہ کی تہذیب و شرافت، بڑوں کا ادب لحاظ اور رکھ رکھاؤ پایا جاتا تھا۔ اسی لیے میں نے اس دوستی کو گوارا کرلیا تھا کہ شاید لیلیٰ کی صحبت سے عاصمہ بہتر ہوجائے۔

         لیلیٰ سے اس کی دوستی کالج کے زمانے میں ہوئی۔ معلوم نہیں کہ دونوں کے مزاج اور کیمسٹری میں کیا چیز مشترک تھی کہ پس منظر کے اعتبار سے کافی مختلف ہونے کے باوجود کالج کی رفاقت عمر بھر کی دوستی میں بدل گئی۔ مگر بدقسمتی سے اس دوستی میں عاصمہ نے لیلیٰ کا اثر کم قبول کیا اور لیلیٰ نے اس کا اثر زیادہ قبول کرلیا۔

         لیلیٰ میری بیٹی ضرور تھی، مگر بدقسمتی سے وہ میرے جیسی نہ بن سکی۔ مجھ سے زیادہ وہ اپنے سب سے بڑے بھائی، جمشید کی لاڈلی تھی۔ وہی بھائی جو میرا پہلونٹی کا بیٹا تھا اور اسی کی طرح میدان حشر میں کہیں بھٹک رہا تھا۔ ایک طرف بڑے بھائی کا لاڈ پیار اور دوسری طرف عاصمہ کی دوستی۔ یہ عاصمہ اکلوتی ہونے کے ناطے خود والدین کی لاڈلی اور ناز و نعم میں پلی بڑھی تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج حشر کی اس خواری میں سے اسے اپنا حصہ وصول کرنا پڑرہا تھا۔ میرے زمانے کی بیشتر اولادوں کو ان کے والدین کے لاڈ پیارنے برباد کرکے رکھ دیا تھا۔

         اولاد ہر دور میں والدین کو محبوب رہی ہے۔ میرے زمانے میں یہ عجیب سانحہ رونما ہوا تھا کہ ماں باپ اپنے بچوں کے عشق میں اس طرح گرفتار ہوئے کہ خود ان کے کھلونے بن گئے۔ شاید یہ کم بچوں کا اثر تھا۔ پہلے ہر گھر میں آٹھ دس بچے ہوتے تھے۔ اس لیے والدین ایک حد سے زیادہ بچوں پر توجہ نہیں دیتے تھے۔ مگر میرے زمانے میں والدین کے دو تین ہی بچے ہوتے تھے اور ان کی زندگی کا واحد مقصد یہی بن گیا تھا کہ اولاد کے لیے سارے جہاں کی خوشیاں سمیٹ کر لادیں۔ وہ ان کے ناز نخرے اٹھاتے۔ ان کی تربیت کے لیے ان پر سختی کرنے کو برا سمجھتے۔ ان کی ہر خواہش پوری کرنے کو اپنا مقصد بنالیتے۔ ان کو بہترین تعلیم دلوانے کے لیے اپنا سب کچھ لٹادیتے۔ یہاں تک کہ ان کے بہتر مستقبل کی خاطر ان کو دوسرے ملکوں میں تعلیم کے لیے بھیج دیتے اور آخر کار یہ بچے بوڑھے والدین کو چھوڑ کر ترقی یافتہ ممالک میں سیٹ ہوجاتے۔ یہ نہ بھی ہو تب بھی نئی زندگی میں ماں باپ کا کردار بہت محدود تھا۔ لیکن ماں باپ اس سب کے باوجود بہت خوش تھے۔

         والدین کے نزدیک دین کی بنیادوں سے بچوں کو واقف کرانے سے زیادہ اہم یہ تھا کہ بچوں کو منہ ٹیڑھا کرکے انگریزی بولنا سکھادیں۔ ایمان و اخلاق کی تعلیم دینے سے زیادہ ضروری یہ تھا کہ انتہائی مہنگے تعلیمی اداروں میں اعلیٰ تعلیم دلوادیں۔ خدا کی سچی محبت، اس کے بندوں سے محبت، انسانوں کی خدمت اور خلق خدا کی خیرخواہی کے بجائے بچے اپنے والدین سے مفاد پرستی کی تعلیم حاصل کرتے۔ بچوں کو خاندان کے بزرگوں کے بجائے ٹی وی کی تربیت گاہ کے حوالے کیا جاتا جہاں تہذیب و شرافت اور اخلاق و شائستگی کے بجائے خواہش پرستی اور مادیت پسندی کا ایک نیا سبق ہر روز پڑھایا جاتا۔ آخرت کی کامیابی کے بجائے دنیا اور اس کی کامیابی کو اہم ترین مقصد بنا کر پیش کیا جاتا تھا۔ خدا، دین اور آخرت بس رسمی سی باتیں تھیں۔ دینداری کی آخری حد یہ تھی کہ کسی مولوی صاحب کے ذریعے سے بچے کو قرآن مجید ناظرہ پڑھوا دیا جاتا۔ رہا اس کا مفہوم تو نہ وہ مولوی صاحب کو معلوم تھا نہ والدین کو اور نہ کبھی بچوں ہی کو معلوم ہوپاتا۔ یہ لوگ کبھی سمجھ کر پڑھ لیتے تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ قرآن دنیا کی فلاح کے ذکر سے اتنا ہی خالی ہے جتنا ان کی زندگیاں آخرت کے تذکرے سے۔ اس کا سبب پچھلی دنیا میں کسی کی سمجھ میں آیا ہو یا نہیں، آج بالکل واضح تھا۔ جو دنیا میں گزاری وہ تو زندگی تھی ہی نہیں۔ وہ تو محض امتحان کا پرچہ تھا یا راہ چلتے مسافر کا کسی سرائے میں گزارا ہوا ایک پہر۔ زندگی تو یہ تھی جو ختم نہ ہونے والی ایک انتہائی تلخ حقیقت بن کر آج سامنے آکھڑی ہوئی تھی۔

…………………………

         ہم ذرا قریب پہنچے تو عاصمہ کی نظر مجھ پر پڑی۔ اس نے لیلیٰ کو ٹہوکا دیا۔ لیلیٰ نے گھٹنوں سے سر اٹھایا۔ اس کی نظر میری نظر سے چار ہوئی۔ ان آنکھوں میں ایسی بے بسی، وحشت اور دکھ تھا کہ میرا دل کٹ کر رہ گیا۔ وہ اٹھی…… بھاگ کر مجھ سے لپٹ گئی اور پوری قوت سے رونے لگی۔ اس کی زبان سے ابو …… ابو کے سوا کچھ اور نہیں نکل رہا تھا۔ میں بڑی مشکل سے خود پر ضبط کررہا تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ یہ اگر روتی رہی تو کہیں میرے ضبط کا بند بھی میرا ساتھ نہ چھوڑ دے۔ میں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرکر کہا:

         ’’بیٹا چپ ہوجا۔ میں نے تجھے بہت سمجھایا تھا نا۔ اس دن کے لیے جینا سیکھو۔ دنیا سوائے ایک فریب کے اور کچھ نہیں۔‘‘

         ’’ہاں آپ ٹھیک کہتے تھے۔ مگر میری آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔‘‘، یہ کہتے ہوئے اس کی سسکیوں کی آواز اور بلند ہوگئی۔

         وہ میرے سینے سے لگی ہوئی تھی اور میری نظروں کے سامنے سے اس کی پیدائش، بچپن، لڑکپن، جوانی اور زندگی بھر کے تمام مراحل کی تصویریں گزر رہی تھیں۔ کبھی بستر پر پڑی ہوئی وہ گڑیا جس کے رونے سے میں بے چین ہوجایا کرتا تھا۔ کبھی فراک پہنی ہوئی وہ پری جس کی ایک ایک ادا پر میں جان نثار کرتا تھا۔ کبھی اسکول کے یونیفارم میں بیگ لٹکائے وہ معصوم سی کلی، کبھی کالج کے یونیفارم میں پھولوں جیسی وہ بچی اور کبھی شادی کے جوڑے میں سجی میرے دل کا وہ ٹکڑا جو اس وقت سراپا حسرت و یاس کی صورت بنے میرے سینے سے لگی تڑپ رہی تھی۔

         مجھے لگا جیسے میرا دل پھٹ جائے گا۔ میں نے اسے بازوؤں سے پکڑ کر خود سے دور کردیا اور اپنا سر پکڑ کر کھڑا ہوگیا۔ لیلیٰ سسکتی ہوئی آواز میں بولی:

         ’’مجھے اپنے گھر والوں میں سے یہاں اور کوئی نہیں ملا، نہ شوہر نہ بچے، نہ آپ لوگوں میں سے کوئی ملا، سوائے بھیا کے۔ ان کی حالت بہت خراب ہے ابو! وہ بہت بے قراری سے آپ کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ انہیں بس آپ ہی سے امید ہے۔‘‘

         میں نے لیلیٰ کی طرف دیکھ کر کہا:

         ’’اس احمق نے دنیا میں بھی غلط امیدیں باندھی تھیں اور اب بھی غلط امید باندھ رہا ہے۔ دنیا میں اسے اپنے کاروبار، بیوی اور بچوں سے ساری امیدیں تھیں۔ اس کا نتیجہ وہ اب بھگت رہا ہے۔ اور اب وہ مجھ سے امید لگارہا ہے۔ حالانکہ میں کچھ بھی نہیں کرسکتا۔‘‘

         اتنے میں عاصمہ بھی ہمارے قریب آکر کھڑی ہوچکی تھی۔ میری آخری بات سن کر وہ بولی:

         ’’انکل مجھے تو ساری امید آپ سے تھی۔ لیکن اب آپ بھی ناامید کررہے ہیں۔‘‘

         ’’تمھیں یاد ہے عاصمہ! جب تم لیلیٰ کے ساتھ پہلی دفعہ میرے گھر آئیں تھی تو میں نے تم سے کیا کہا تھا۔‘‘

         ’’مجھے یاد ہے ابو آپ نے اس سے کیا کہا تھا۔‘‘، عاصمہ کی جگہ لیلیٰ نے جواب دیا۔

         ’’آپ نے کہا تھا کہ بیٹا تم میری بیٹی کی سہیلی ہو۔ دیکھو ایسی سہیلی بننا جو جنت میں بھی اس کے ساتھ رہے۔ ایسا نہ ہو کہ تم دونوں خدا کو ناراض کردو اور کسی بری جگہ تم دونوں کو ساتھ رہنا پڑے۔ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تم دونوں ایک دوسرے کو الزام دو کہ تمھاری دوستی نے مجھے برباد کردیا۔‘‘

         آخری جملہ کہتے ہوئے لیلیٰ پھر رونے لگی۔ اس کے ساتھ عاصمہ بھی سسکیاں بھرنے لگی۔ میں نے گردن گھماکر صالح کو دیکھا جو اس عرصے میں خاموش کھڑا ہوا تھا۔ میرا خیال تھا کہ شاید وہ کوئی امید افزا بات کہہ سکے۔ مجھے اپنی طرف متوجہ دیکھ کر وہ کہنے لگا:

         ’’عبد اﷲ! ویسے تو ہر فرد کا معاملہ صرف اﷲ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ انسان کا عمل اگر رائی کے دانے کے برابر تھا تب بھی اس کے نامۂ اعمال میں موجود ہوگا۔ ہر عمل کو آج پرکھا جائے گا۔ نیت، اسباب، محرکات، حالات، عمل اور اس کے نتائج، ایک ایک چیز کی جانچ ہوگی۔ فرشتے، در و دیوار، اعضا و جوارح ہر چیز گواہ بن جائے گی۔ یہاں تک کہ یہ بالکل متعین ہوجائے گا کہ ہر اچھا برا عمل کس جزا یا سزا کا مستحق ہے۔ نیکی کا بدلہ دس سے سات سو گنا تک، صبر اور نصرت دین کے لیے کئے گئے کاموں کا بدلہ بے حد و حساب دیا جائے گا۔ جبکہ بدی کا بدلہ اتنا ہی ہوگا جتنی بدی کی ہوگی۔ البتہ شرک، قتل، زنا جیسے جرائم اگر نامۂ اعمال میں آگئے تو انسان کو تباہ کردیں گے۔ جبکہ مال یتیم کھانا، وراثت کا مال ہڑپ کرنا، تہمت لگانا وغیرہ جرائم اتنے خطرناک ہیں کہ ساری نیکیوں کو کھاکر انسان کو جہنم میں پہنچاسکتے ہیں۔

         یہ سزا جزا کے عمومی ضابطے ہیں۔ ان کی بنیاد پر اﷲ تعالیٰ عدل کے ساتھ فیصلہ کریں گے۔ اور یقین رکھو کہ کسی پر رائی کے دانے کے برابر ظلم نہیں ہوگا۔ تمھاری اولاد کے حوالے سے واحد امید افزا بات جو میں تمھیں پہلے ہی بتاچکا ہوں وہ یہ ہے کہ تمھارے جیسے سابقین کے علاوہ آج کے دن حساب کتاب کے ذریعے سے سچے اہل ایمان کی نجات کا معاملہ جلد یا بدیر ہوجائے گا۔ البتہ تم اپنی اولاد کو مجھ سے بہتر جانتے ہو کہ ان کی نجات کا امکان کتنا ہے۔‘‘

         ’’مجھے زیادہ پریشانی اپنے بیٹے کی ہے۔‘‘، میں نے جواب دیا۔

         اس جواب میں میرے سارے اندازے، امیدیں اور اندیشے جمع تھے۔ میں نے مزید تبصرہ کیا:

         ’’اسے پیسے کمانے، گاڑی، بنگلے اور دولت مند بننے کا بہت شوق تھا۔ یہ شوق جس کو لگ جائے، اسے کسی بھی برے حال میں پہنچاسکتا ہے۔ اس کے بعد اکثر لوگ حلال حرام اور اچھے برے کی تمیز کھوبیٹھتے ہیں۔اگر کسب حرام سے بچ بھی جائیں تو اسراف، غفلت، نمود و نمائش، بخل، تکبر اور حق تلفی جیسی برائیاں انسان کو احتساب الٰہی کی اس عدالت میں لاکھڑا کرتے ہیں جہاں نجات بہت مشکل ہوجاتی ہے۔‘‘

         میری اس بات کا جواب غیر متوقع طور پر عاصمہ نے دیا:

         ’’یہ ساری باتیں لیلیٰ مجھے بتاتی تھی۔ اس نے آپ کی کچھ کتابیں بھی مجھے پڑھنے کے لیے دی تھیں۔ مگر مجھے اردو پڑھنی نہیں آتی تھی۔ میری بدقسمتی کہ میری ساری زندگی غفلت، دنیا پرستی، فیشن، نمود و نمائش، اسراف اور تکبر میں گزرگئی۔ مجھ پر حسین نظر آنے کا خبط سوار تھا۔ میں نے لاکھوں روپے زیور، کپڑوں اور کاسمیٹکس میں برباد کردیے۔ مگر غریبوں پر میں کبھی کچھ نہ خرچ کرسکی۔ کبھی کیا بھی تو اس کو بہت بڑا احسان سمجھا۔ حالانکہ اﷲ نے ہمیں بہت مال و دولت عطا کیا تھا۔

         یہی نہیں مجھے جب غصہ آتا تھا تو میں بے دریغ اسے کمزور لوگوں پراتارتی تھی۔ باحیا لباس پہننا میرے نزدیک غربت کی علامت تھی۔ چغلیاں، غیبت، عیب جوئی میرے لیے معمولی باتیں تھیں۔ یہ معمولی باتیں آج اتنا بڑا روگ بن جائیں گی مجھے نہیں معلوم تھا۔ مجھے نہیں معلوم تھا۔‘‘

         یہ کہہ کر ایک دفعہ پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ لیلیٰ افسردہ لہجے میں بولی:

         ’’اس کے امی ابو بہت برے حال میں ہم سے ملے ہیں۔ ان کے ساتھ پتہ نہیں کیا ہوگا۔‘‘

         پھر وہ مجھے دیکھ کر بولی:

         ’’ابو میرے ساتھ کیا ہوگا؟‘‘، یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔

         ’’بیٹا انتظار کرو۔ امید یہ ہے کہ اب زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ حساب کتاب شروع ہوجائے گا۔ اس وقت مجھے اﷲ کی رحمت سے امید ہے کہ اتنی سختی اٹھانے کے بعد وہ تمھارے وہ گناہ معاف کردے گا جو تم نے دنیا میں معمولی سمجھ کر کیے تھے۔‘‘

         ’’کاش ابو! میں آپ کا راستہ اختیار کرلیتی۔ آپ نے مجھے بہت سمجھایا تھا کہ ایمان زبان سے کلمہ پڑھ لینے کا نام نہیں، خدا کی ہستی کو اپنی زندگی بنالینے کا نام ہے۔ رسمی عبادت خدا کو مطلوب نہیں۔ اسے قلب کی دینداری چاہیے۔ اسے چند بے روح سجدوں کی ضرورت نہیں، ایک سچا خدا پرست بندہ چاہیے۔ ایمان میری زندگی میں تو تھا، مگر وہ میری شخصیت کا احاطہ نہ کرسکا۔ میں نے آپ کے کہنے سے نمازیں تو پڑھیں، مگر خدا کی یاد میری زندگی نہیں بن سکی۔ میں نے روزے تو رکھے، مگر مجھ میں سچا تقویٰ پیدا نہیں ہوسکا۔ زیادہ سے زیادہ مجھے پچاس برس وہ سب کرنا پڑتا۔ یہاں تو صدیاں گزرگئی ہیں اس گرمی اور سختی میں پریشان گھومتے گھومتے۔‘‘

         لیلیٰ کی بات سن کر عاصمہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سسکتے ہوئے کہا:

         ’’بہن تم مجھ سے تو بہتر ہو۔ میں نے تو زندگی میں نماز روزہ کچھ نہیں کیا۔ اخلاقی گناہ، نمود ونمائش، اسراف، تکبر اور حق تلفی وغیرہ اس کے علاوہ ہیں۔ میرا کیا ہوگا۔ مجھے تو سوائے جہنم کے کوئی انجام نظر نہیں آتا۔‘‘

         یہ کہہ کر وہ چیخ چیخ کر رونے لگی۔

…………………………

         ان دونوں کی باتوں سے میرا دل کٹ رہا تھا۔ مجھ میں اب مزید ان کے ساتھ رہنے کی ہمت نہیں رہی تھی۔ صالح کو میری حالت کا اندازہ ہوچکا تھا۔ اس نے ان دونوں سے مخاطب ہوکر کہا:

         ’’عبد اﷲ کو اب یہاں سے رخصت ہونا ہوگا۔ آپ دونوں یہاں بیٹھ کر اﷲ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار کیجیے۔ زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ حساب کتاب شروع ہوجائے گا۔‘‘

         یہ کہہ کر وہ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے آگے لے گیا۔ میں چاہتا تھا کہ جاتے جاتے لیلیٰ کو تسلی دے دوں۔ میں پیچھے مڑا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ پیچھے کا منظر بدل گیا ہے۔ ہم کسی اور جگہ کھڑے تھے۔

         ’’مجھے ذرا تیزی سے تمھیں وہاں سے ہٹانا پڑا۔ وگرنہ تمھیں اور دکھ ہوتا۔ کیا تم اپنے بیٹے سے ملنا چاہو گے؟‘‘

         ’’نہیں۔ میں مزید کچھ دیکھنے کی تاب نہیں رکھتا۔‘‘، میں نے دو ٹوک جواب دیا۔

         میرا دل افسردگی کے گہرے سمندر میں ڈوب چکا تھا۔ میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ میں کسی طرح واپس دنیا میں لوٹوں اور لیلیٰ کی اصلاح کو زندگی کا سب سے بڑا مقصد بنالوں۔ مجھے احساس ہوا کہ اب یہ ممکن نہیں۔ پھر اندیشے کے ایک زہریلے سانپ نے میرے سامنے سر اٹھایا۔ میں نے صالح سے کہا:

         ’’صالح! کہیں لیلیٰ کے اس حال میں میرا قصور تو نہیں۔ کہیں میں تو اس کا ذمہ دار نہیں؟‘‘

         ’’نہیں ایسا نہیں ہے۔ دیکھو! اولاد تو نوح علیہ السلام جیسے پیغمبر کی بھی گرفت میں آئی ہے۔ مگر ذمہ داری ان کی نہیں تھی۔ انسان کا فریضہ صرف صحیح بات دوسروں تک پہنچانا ہے۔ قبول کرنے نہ کرنے کا فیصلہ ہمیشہ دوسرے کرتے ہیں۔ تمھاری بیٹی لیلیٰ نے اپنے فیصلے خود کیے تھے۔ لہٰذا تم اس کی تکلیف کے ذمہ دار نہیں ہو۔‘‘

         مجھے لگا جیسے مجھ پر سے ایک بوجھ اتر گیا ہے۔ مگر اگلے ہی لمحے مجھ پر ایک دہشتناک انکشاف ہوا۔ اگر میری بیٹی کی وجہ سے میری پکڑ کی نوبت آئی تو کیا ہوگا؟ یہی نا کہ میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنی پیاری بیٹی کو جہنم میں جھونک کر اپنی جان بچانا پسند کروں گا۔ کیوں کہ آج کے دن کا عذاب اتنا شدید

چھٹا باب    آج بادشاہی کس کی ہے؟

 

         میدان حشر کا ماحول انتہائی سخت اور تکلیف دہ تھا۔ ایک طرف ماحول اور حالات کی سختی تھی تو دوسری طرف لوگوں کو یہ اندیشہ کھائے جارہا تھا کہ آگے کیا ہوگا۔ مایوسی اور پریشانی کے علاوہ لوگوں میں شدید غصہ بھی تھا۔ یہ غصہ اپنی ذات پر بھی تھا اور اپنے لیڈروں اور گمراہ کرنے والے رہنماؤں پر بھی تھا۔ چنانچہ جو لیڈر اپنے پیروکاروں کے ہاتھ آجاتا وہ بے دریغ اس کی پٹائی شروع کردیتے۔ یہ گویا عذاب سے قبل ایک نوعیت کا عذاب تھا۔

         ایسے تماشے اس وقت میدان حشر میں جگہ جگہ ہورہے تھے۔ پیروکار اپنے لیڈروں کو، اصاغرین اپنے اکابرین کو، عقیدت مند اپنے علما اور درویشوں کو بے دردی سے پیٹ رہے اور اپنا غصہ نکال رہے تھے۔ مگر اب کیا فائدہ! البتہ اس طرح پریشان اور افسردہ حال لوگوں کو ایک طرح کا تماشہ دیکھنے کو ضرور مل رہا تھا۔

         ہم اس طرح کے تماشے دیکھتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔ راستے میں میں نے صالح سے کہا:

         ’’میں تو یہ سوچ کر پریشان ہوں کہ دنیا میں کچھ دیر کی لوڈ شیڈنگ اور گرمی سے ہماری حالت انتہائی ابتر ہوجاتی تھی۔ یہاں تو اتنا طویل عرصہ ہوچکا ہے مگر لوگوں کو اس مصیبت سے نجات نہیں مل رہی۔ تمھارے ساتھ کی وجہ سے مجھے تو یہاں کے مصائب و شدائد بالکل محسوس نہیں ہورہے، مگر جو لوگ یہاں ہیں ان کے ساتھ تو واقعی بہت برا معاملہ ہورہا ہے۔‘‘

         ’’اپنے الفاظ کی تصحیح کرلو۔ برا نہیں ہورہا عدل ہورہا ہے۔ ہاں معاملہ بلاشبہ شدید ہے اور اسی وجہ سے ساری مخلوقات نے اختیار اور اقتدار کے اس بارِ امانت کو اٹھانے اور سزا جزا کے اس کڑے امتحان میں کھڑے ہونے سے انکار کردیا تھا۔‘‘

         ’’میری سمجھ میں نہیں آتا کہ عام لوگوں کے ساتھ اتنی مشکل ہے تو جن لوگوں نے سارے انسانوں کی طرف سے اقتدار اور اختیار کا بار اٹھایا ان کے ساتھ کیا ہوا ہوگا۔‘‘

         اس بات سے میرا اشارہ ظالم حکمرانوں اور بددیانت اہلکاروں کی طرف تھا۔

         ’’دیکھنا چاہتے ہو کہ ان کے ساتھ کیا ہورہا ہے؟‘‘

         میں نے اثبات میں گردن ہلائی۔ صالح ایک سمت بڑھتے ہوئے بولا:

         ’’ ابھی تک ہم صرف اس علاقے میں گھوم رہے تھے، جہاں وہ لوگ تھے جن کا حساب کتاب ہونا ہے۔ جس طرح سابقین کا معاملہ ہے کہ وہ عرش کے نیچے خدا کے انعامات میں کھڑے ہیں اور ان کا حساب کتاب نہیں ہونا صرف رسمی طور پر ان کی کامیابی کا اعلان ہونا ہے، اسی طرح کچھ بدبخت ہیں جن کی بد اعمالیوں کی بنا پر ان کی جہنم کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہے۔ہم انہی کی سمت چل رہے ہیں۔‘‘

         ہم جیسے جیسے آگے بڑھ رہے تھے گرمی کی حدت اور شدت بہت تیزی سے بڑھتی جارہی تھی۔ مجھے اس کا اندازہ اس بڑھتے ہوئے پسینے سے ہوا جو لوگوں کے جسم سے بہہ رہا تھا۔ لوگوں کے جسموں سے پسینہ قطروں کی صورت میں نہیں بلکہ دھار کی شکل میں بہہ رہا تھا، مگر زمین اتنی گرم تھی کہ یہ پسینہ تپتی زمین پر گرتے ہی اس میں جذب ہوجاتا۔ پیاس کے مارے لوگوں کے ہونٹ باہر نکل آئے تھے اور وہ کسی تونس زدہ اور پیاسے اونٹ کی طرح ہانپ رہے تھے، مگر پانی کا یہاں کیا سوال؟

         ان کے چہروں پر پریشانی سے کہیں زیادہ خوف کے سائے تھے۔ یہ خوف کس چیز کا تھا یہ بھی تھوڑی ہی دیر میں معلوم ہوگیا۔ اچانک لوگوں کے درمیان ایک عجیب ہلچل مچ گئی۔ لوگ ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ مجمع چھٹا تو دیکھا کہ ایک آدمی کے پیچھے دو فرشتے دوڑ رہے ہیں۔ یہ ویسے ہی فرشتے تھے جیسے عرش کے سائے کی طرف جاتے ہوئے ہمیں نظر آئے تھے۔ ایک کے ہاتھ میں آگ کا کوڑا تھا اور دوسرے کے ہاتھ میں ایسا کوڑا تھا جس میں کیلیں نکلی ہوئی تھیں۔

         وہ آدمی ان سے بچنے کے لیے سر توڑ کوشش کررہا تھا، مگر یہ فرشتے اس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے تھے۔ صاف نظر آرہا تھاکہ فرشتے جان بوجھ کر اسے تھکارہے ہیں۔ وہ اس کے قریب پہنچ کر اسے ایک کوڑا مارتے اور کہتے جارہے تھے کہ اے حکمران اٹھ اور اپنی مملکت میں چل۔ کوڑا پڑتے ہی وہ شخص چیختا چلاتا گرتا پڑتا بھاگنے لگتا۔ پھر وہ فرشتے اس کے پیچھے دوڑنے لگتے۔

         مجھے ان موصوف کا تعارف حاصل کرنے کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ صالح نے خود ہی بتادیا:

         ’’یہ تمھارے ملک کے سربراہ مملکت ہیں۔‘‘

         کچھ ہی دیر میں سربراہ مملکت آگ اور کیلوں والے کوڑے کھاکر زمین بوس ہوچکے تھے۔ جس کے بعد فرشتوں نے انہیں ایک لمبی زنجیر میں باندھنا شروع کیا جس کی کڑیاں آگ میں دہکا کر سرخ کی گئی تھیں۔ سربراہ مملکت بے بسی سے تڑپ رہے اور رحم کی فریاد کررہے تھے، مگر ان فرشتوں کو کیا معلوم تھا کہ رحم کیا ہوتا ہے۔ وہ بے دردی سے انہیں باندھتے رہے۔ جب ان کا پورا جسم زنجیروں سے جکڑ گیا تو اتنے میں کچھ اور فرشتے آگئے۔ پہلے فرشتے ان سے بولے:

         ’’ہم نے سربراہ مملکت کو پکڑ لیا ہے۔ تم جاؤ اور ان کے سارے حواریوں، درباریوں، خوشامدیوں اور ساتھیوں کو پکڑلاؤ جو اس بدبخت کے ظلم اور بدعنوانی میں شریک تھے۔‘‘

         چنانچہ مجمع میں بڑے پیمانے پر وہی ہلچل، بھاگ دوڑ اور مار پیٹ شروع ہوگئی۔ تھوڑی ہی دیر میں ایک گروہ کثیر جس میں وزرا، امرا،مشیر، بیوروکریٹ، وڈیرے، جاگیردار، سرمایہ دار اور ہر طرح کے ظالم جمع تھے، گرفتار ہوگیا۔ اس کے بعد ان فرشتوں نے سب کو سر کے بالوں سے پکڑ کر چہرے کے بل گھسیٹنا شروع کردیا۔ وہ ہمارے قریب سے گزرے تو ان کی کھالوں کے جلنے کی بدبو ہر طرف فضا میں بکھری ہوئی محسوس ہوئی۔ اس بدبو کا احساس ہوتے ہی صالح نے میری کمر پر ہاتھ رکھا تو میری جان میں جان آئی۔ وہ ان کو ہمارے سامنے سے کھینچتے ہوئے مزید بائیں جانب لے گئے۔ میں ان کے گھسیٹے جانے کے سبب زمین پر بن جانے والی لکیروں اور ان پر پڑے خون کے دھبوں کو دیکھتا رہا جو ان کے جسموں سے رس رہا تھا۔

…………………………

         یہ عبرت ناک منظر دیکھ کر بے اختیار میرے لبوں سے ایک آہ نکلی۔ میں نے دل میں سوچا:

         ’’کہاں گیا ان کا اقتدار؟ کہاں گئے وہ عیش و عشرت کے دن؟ کہاں گئے وہ عالیشان محل، مہنگے ترین کپڑے، بیرونی دورے، شاندار گاڑیاں، عظمت ، کروفر اور شان و شوکت؟ آہ! ان لوگوں نے کتنے معمولی اور عارضی مزوں کے لیے کیسا برا انجام چن لیا۔‘‘

         صالح بولا:

         ’’یہ سب ظالم، کرپٹ اور عیاش لوگ تھے جن کی ہلاکت کا فیصلہ دنیا ہی میں ہوچکا تھا۔ تاہم یہ ان کی اصل سزا نہیں۔ اصل سزا تو جہنم میں ملے گی۔ جس طرف فرشتے انہیں لے جارہے ہیں وہاں سے جہنم بالکل قریب ہے۔ اسی مقام سے انہیں حساب کتاب کے لیے لے جایا جائے گا جہاں ان کی دائمی ذلت اور عذاب کا فیصلہ سنایا جائے گا۔ پھر انھیں دوبارہ بائیں طرف لایا جائے گا۔ جہاں سے گروہ در گروہ انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔‘‘

         حساب کتاب کے ذکر سے مجھے بے اختیار وقت کا خیال آیا تو میں صالح سے پوچھا:

         ’’صالح! رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی دعا کو قبول ہوئے طویل عرصہ گزرگیا ہے۔ مگر اب تک یہ حساب کتاب کیوں نہیں شروع ہوا؟‘‘

         ’’یہ تم سمجھتے ہو کہ طویل عرصہ ہوا ہے۔ میدان حشر میں وقت بہت آہستگی کے ساتھ گزر رہا ہے۔ جس کی بنا پر یہ طویل عرصہ لگتا ہے۔ مگر عرش تلے بہت ہی کم وقت گزرا ہے۔ تم جاننا چاہتے ہو کہ اتنا وقت بھی بہرحال کیوں لگ رہا ہے؟‘‘

         ’’تمھی نے بتایا تھا کہ جن لوگوں کو معاف کیا جانا ہے اس سختی کو ان کی معافی کا ایک عذر بنادیا جائے گا۔‘‘

         ’’ہاں یہ ایک وجہ ہے۔ مگر دوسری وجہ لوگوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ یہاں سارا اختیار اﷲ کے ہاتھ میں ہے۔ بات یہ ہے عبد اﷲ! انسانوں نے اپنے کریم اور مہربان آقا کی قدر نہیں کی۔ آج وہ آقا لوگوں کو یہ احساس دلارہا ہے کہ انسان کس درجے میں اس کے محتاج اور اس کے سامنے بے وقعت ہیں۔

         اس کی طاقت و عظمت کا پہلا اظہار قیامت کا دن تھا جب انسانوں کی دنیا برباد ہوگئی اور ان کا سب کچھ تباہ ہوگیا تھا۔ انسان کی ساری طاقت اسے قیامت کے ہولناک حادثے سے نہیں بچاسکی۔ دوسرا موقع آج حشر کا دن ہے جب سب کو معلوم ہوچکا ہے کہ خدا کے سامنے کسی کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ تیسرا موقع اب آرہا ہے یعنی حساب کتاب کا جب اﷲ تعالیٰ براہ راست آسمانوں اور زمین کا کنڑول اپنے ہاتھ میں لے لیں گے۔‘‘

         ’’تو کیا ابھی تک ایسا نہیں ہوا؟‘‘

         ’’نہیں ابھی تک ایسا نہیں ہوا۔ ابھی تک نظام کائنات بظاہر فرشتے چلارہے ہیں اور اﷲ تعالیٰ صرف ان کو احکامات دے رہے ہیں۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ سارے معاملات براہِ راست خود سنبھال لیں گے۔ تاکہ جنوں، انسانوں اور فرشتوں سمیت ہر مخلوق جان لے کہ سارا اختیار اور اقتدار صرف اﷲ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ سردست سارے آسمانوں میں بکھری ہوئی کائنات جو انگنت فاصلوں پر پھیلی ہوئی تھی، اس کو سمیٹا جارہا ہے۔ تمھیں تو معلوم ہے کہ پچھلی دنیا میں یہ کائنات لمحہ بہ لمحہ پھیل رہی تھی۔ اب اﷲ کے حکم پر فاصلے سمٹ رہے ہیں اور یہ بے شمار کہکشائیں، ستارے اور سیارے جو پوری کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں، دوبارہ قریب آرہے ہیں۔‘‘

         ’’ایسا کیوں ہے؟‘‘، میں نے حیرت سے پوچھا۔

         ’’یہ اس لیے ہے کہ اﷲ تعالیٰ ان سب کو اہل جنت میں بطور انعام تقسیم کردیں گے۔ پھر ان جگہوں پر اﷲ کے انعام یافتہ بندوں کی بادشاہی اور اقتدار قائم ہوجائے گا۔ کائنات کو واپس سمیٹنے کا عمل ہی وہ چیز ہے جسے قرآن کریم نے آسمانوں کو خدا کے داہنے ہاتھ پر لپیٹ لینے سے تعبیر کیا ہے۔‘‘

         پھر صالح نے آسمان کی طرف نظر کی۔ اس کی پیروی میں میں نے بھی اوپر دیکھا۔

         سورج بدستور دہک رہا تھا۔ میں نے پہلی دفعہ یہ بات نوٹ کی کہ چاند بھی سورج کے قریب موجود تھا، مگر وہ بے نور ہوچکا تھا اور بہت آہستگی کے ساتھ سورج کی طرف بڑھ رہا تھا۔ یہ دیکھ کر صالح نے کہا:

         ’’آج آسمان و زمین بدل کر کچھ سے کچھ ہوچکے ہیں۔ زمین پھول کر بہت بڑی ہوچکی ہے اور یوں اس کے رقبے میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔‘‘

         ’’مجھے یاد ہے کہ زمین کا قطر پچیس ہزار کلو میٹر تھا۔‘‘

         ’’مگر اب اس میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ ساتھ ہی یہ زمین اب اس سے کہیں زیادہ حسین اور خوبصورت ہے جتنی پہلے تھی۔ اسرافیل نے دو دفعہ صور پھونکا تھا۔ پہلی دفعہ سب کچھ تباہ ہوگیا تھا جبکہ دوسرے صور پر انسانوں کو زندہ کردیا گیا۔ ان دونوں کے بیچ میں اﷲ تعالیٰ کے حکم سے زمین بڑی ہوئی اور فرشتوں نے اس پر اہل جنت کے لیے اعلیٰ ترین گھر، محلات، باغات اور ان کے سکون و تفریح کے لیے بہترین چیزیں اور تمھارے لیے ناقابل تصور حد تک حسین ایک نئی دنیا بنادی ہے۔ ہر جنتی کو اس کا گھر اسی زمین میں دیا جائے گا اور اسے رہنے بسنے کے لیے بڑے بڑے رقبے دیے جائیں گے۔ زمین کے وسط میں دہکتے ہوئے آتش فشاؤں اور کھولتے پانی کے چشموں کے درمیان میں اہل جہنم کا ٹھکانہ ہوگا۔‘‘

         میں نے اس کی بات کا خلاصہ کرتے ہوئے کہا:

         ’’تم نے جو کچھ کہا ہے قرآن کریم کے بیانات سے مجھے اس کا پہلے ہی اندازہ تھا۔ قرآن کریم کے بیانات سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ زمین کے وارث خدا کے نیک بندے ہوں گے اور سطح زمین جنت میں بدل دی جائے گی جہاں اہل جنت کا ٹھکانہ ہوگا۔ زمین کے بیچ میں اہل جہنم ہوں گے۔ جبکہ آسمانوں میں موجود ستارے اور کہکشائیں بطور انعام و بادشاہی اہل جنت میں تقسیم ہوں گے۔ ویسے ان میں کیا ہوگا؟‘‘

         ’’اس کی تفصیل دربار والے دن سامنے آئے گی۔ دربار والی بات یاد ہے نا؟‘‘

         ’’ہاں تم نے بتایا تھا کہ حساب کتاب کے بعد اہل جنت کی اﷲ تعالیٰ کے ساتھ جو نشست ہوگی اس کا نام دربار ہے۔ اس نشست میں تمام اہل جنت کو ان کے مناصب اور مقامات رسمی طور پر تفویض کیے جائیں گے۔ یہ لوگوں کی ان کے رب کے ساتھ ملاقات بھی ہوگی اور مقربین کی عزت افزائی کا موقع بھی ہوگا۔‘‘

         ’’ہاں اس روز انعام بھی دیا جائے گا اور کام بھی بتایا جائے گا۔‘‘

         اتنی دیر میں بے نور چاند سورج میں ضم ہوچکا تھا۔ یہ دیکھ کر صالح بولا:

         ’’آسمان پر موجود نشانیاں بدل رہی ہیں۔ چاند کا سورج میں ضم ہوجانا اسی کی ایک علامت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سارے آسمان سمیٹ لیے گئے ہیں۔ اب کسی بھی لمحے پروردگار عالم کا ظہور ہوگا اور وہ عدالت شروع ہوجائے گی جس کا انتظار تھا۔ اس وقت تمھیں اور ساری دنیا کو معلوم ہوجائے گا کہ اﷲ جل جلالہ کس عظیم و اعلیٰ ہستی کا نام ہے۔‘‘

         ابھی صالح کا جملہ ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ سب لوگ لرز کر رہ گئے۔ آواز چونکہ آسمان کی جانب سے آئی تھی اس لیے ہر نگاہ اوپر کی طرف اٹھ گئی۔

         میں اور صالح بھی لوگوں کے ساتھ اوپر دیکھنے لگے۔ ایک حیرت انگیز منظر سامنے تھا۔ آسمان میں شگاف پڑچکا تھا اور تھوڑی ہی دیر میں وہ بادلوں کی طرح پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ ان شگافوں کو دیکھ کر ایسا لگا کہ آسمان میں دروازے ہی دروازے بن گئے ہیں۔ ہر شگاف سے فرشتوں کی فوج در فوج زمین کی طرف اترنے لگی۔ ان کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ کسی قسم کی گنتی اور اندازہ محال تھا۔ فرشتوں کے مختلف گروہ تھے اور ہر گروہ کا انداز اور لباس بالکل مختلف تھا۔ وہ فرشتے میدان حشر کے وسط میں ایک جگہ پر اترنے لگے اور انہوں نے درمیان میں موجود ایک بڑی اور بلند خالی جگہ کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔

…………………………

         فرشتے آسمان سے اترتے جاتے اور دائرہ در دائرہ ہاتھ باندھ کر مؤدب انداز میں کھڑے ہوتے جاتے۔ ہر لمحہ ان کی تعداد بڑھتی جارہی تھی۔ اس دوران میں لوگوں کی چیخ و پکار بھی تھم چکی تھی۔ ہر شخص پھٹی آنکھوں سے ٹکٹکی باندھے اسی سمت دیکھے جارہا تھا۔ اب فضا میں بس کچھ سرگوشیوں کی سرسراہٹ ہی باقی رہ گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہر شخص اپنے برابر والے سے پوچھ رہا تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے؟

         مجھے قدرے اندازہ تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے، لیکن پھر بھی میں نے صالح سے وضاحت چاہی۔ اس نے حسب توقع جواب دیا:

         ’’حساب کتاب شروع ہورہا ہے۔ بارگاہِ احدیت کا دربار سجایا جارہا ہے۔ یہ اس کا پہلا مرحلہ ہے۔ فرشتے مسلسل اتر رہے ہیں اور کافی دیر تک اترتے رہیں گے۔ اس کے بعد سب سے آخر میں حاملین عرش اتریں گے۔ تم تو ان سے مل چکے ہو۔ وہ اُس وقت چار تھے۔ اب چار مزید ان میں شامل ہوجائیں گے۔ کل آٹھ فرشتے عرش الٰہی کے ساتھ نازل ہوں گے۔‘‘

         ’عرش الٰہی‘۔ میں نے زیر لب ان الفاظ کو دہرایا۔ صالح نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا:

         ’’تم تو سمجھ سکتے ہو، اﷲ تعالیٰ عرش پر بیٹھتے نہیں ہیں۔ وہ اس طرح کے تمام انسانی تصورات سے پاک ہیں۔ یہ عرش اصل میں مخلوق کے رجوع کرنے کی جگہ ہے۔ جیسے دنیا میں بیت اﷲ ہوا کرتا تھا بطور قبلہ۔ اﷲ کے گھر کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اﷲ تعالیٰ وہاں رہتے تھے۔ لیکن انسان اس کی طرف جب رخ کرتا تھا تو اس کے لیے وہ ایک مقامِ رجوع بن جاتا تھا۔ اسی طرح آج عرش الٰہی کے ذریعے سے لوگ اﷲ تعالیٰ کے ساتھ مکالمہ کریں گے۔‘‘

         میں نے پوچھا:

         ’’گویا لوگ اﷲ تعالیٰ کی بات سنیں گے؟‘‘

         صالح نے کہا:

         ’’ہاں، ویسے ہی جیسے ح